سولر انرجی پر کام کرنے کی ضرورت

انتہا یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہو کہ اس کام کو کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور پھر بھی آپ اسے کر تے چلے جا رہے ہوں۔ ظاہر ہے کسی فیس بکی دانشور یا کی بورڈ مجاہد کی تجاویز اور مشوروں سے منظم جماعتوں کے مروجہ طریقوں اور فیصلوں پر تو کوئی اثر پڑنا نہیں۔ لہٰذا یہیں اپنی ساڑھے تین انچ (سوشل میڈیا ہے تھوڑا بڑا سائز ہے) کی مسجد میں وقت بے وقت اذانیں دیتے ہیں۔

انگریزی کا ایک مقولہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ اس بارے میں بات کرتے ہیں جس کے متعلق آپ کو نہیں معلوم تو وہ لوگ بہت برا مانتے ہیں جنہیں اس کے متعلق معلوم ہے۔ آپ خواہ کچھ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ہمارا عمومی رویہ ایسا ہی نظر آئے گا۔ اصطلاحات کا زمانہ ہے کہ لوگوں نے جو سن لیا اسے دہراتے پھر رہے ہیں اور مطلب کسی کو نہیں معلوم۔ کسی نا معلوم اکاؤنٹ یا پیج سے کوئی تصویر یا ویڈیو آتی ہے اور لوگ اسے یوں شئیر کرتے ہیں گویا اسے جبرئیل لے کر نازل ہوئے ہوں۔

ایک وقت تھا جب قیادت اپنے مشاہدے اور معلومات کی روشنی میں حالات کا جائزہ لیتی تھی اور اس کے بعد کوئی لائحہ عمل طے کر کے اس پر content جاری ہوتا تھا۔ اس content کی تقسیم حلقہ جات کی سطح تک ممکن بنائی جاتی تھی اور ایک مرکزی کنٹرول کے ساتھ کسی مہم کے آغاز سے اختتام تک اس کی راہ متعین کی جاتی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ ایک سہانی صبح ہمیں ایک ڈھول دے دیا گیا۔ آزادیء اظہار رائے کا ڈھول۔ اسے سوشل میڈیا کا ڈھول بھی کہا جاتا ہے۔ اب جہاں نظر اٹھائیں دکانیں کھلی ہیں۔ خالی ڈھول ہیں اور بجانے والے بھی کیا کمال کے ہیں۔ ایک ضرب پر کئی لائیکس، کمنٹس اور شیئرز کی لائن لگ جاتی ہے۔ آواز کیا دور تک جاتی ہے۔ اب سلسلہ یہ ہے کہ ہر سمت ڈھول کا شور ہے جس میں مرکزی قیادت تو کہیں نظر آتی البتہ ڈھول بجانے والے کسی بھی سُر کا آغاز کر دیتے ہیں اور لوگ اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نتیجتاََ قیادت کو بھی رقص میں شامل ہونا پڑتا ہے۔

اگر آپ کے سر میں درد ہو اور آپ دوا پیٹ میں درد کی لے رہے ہوں تو کیا ہو گا؟ مسئلہ یہاں بھی یہی ہے کہ مسئلہ مکمل طور پر سمجھنے کی اہلیت اور اس کے بعد کوئی مربوط حل نکالنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ یا یوں کہیے کہ صلاحیت تو ہے مگر جو باصلاحیت ہے اس کے پاس وقت نہیں۔ اگروقت نکال بھی لے تو وہ بہت برا مانتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے اور اس کے سامنے وہ لوگ اس بارے میں بات کرتے ہیں جس کے متعلق انہیں نہیں معلوم۔ خیر یہ تو اب ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ہر سمت فتووں کے انبار ہیں اور ہر شخص ہر شعبے میں مہارت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی ایک شعبے کو لے کر اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ جس گھر میں کک زیادہ ہوں اس گھر کے مکین اکثر بھوکے سوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر سمت کک ہیں اور ہر ایک کا یہی دعوٰی ہے کہ اس سے بہتر کوئی نہیں، سو جب اتنے ماہرین مل جائیں تو جب تک وہ کسی ایک بات پر متفق ہوں گھر والے سو چکے ہوتے ہیں۔ بات محض اتنی ہے کہ کمیونیکیشن اہم ہے۔ اتنی اہم کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اس وقت تمام لوگوں کو کھانے پر بلایا اور ایک پہاڑ پر چڑھ کر توحید کی دعوت دی۔ ڈیل کارنیگی کہتا تھا کہ اگر آپ کسی انسان سے کوئی کام لینا چاہتے ہیں تو اسے اس کا فائدہ دکھائیں۔ اس فارمولے کا اطلاق ہر جگہ ہوتا ہے۔ کیپیٹل ازم کے اس دور میں آپ حقوق اور نظریے کی دکان لگائیں گے تو کوئی نہیں آئے گا۔ آپ لوگوں کو وہ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو انہیں چاہئے ہی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج سنا کہ ٹی وی چینلز نے نیپرا کاروائی کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ کوئی کوریج نہیں۔ خیر ان سے تو ویسے بھی کوئی شکوہ نہیں۔ یہ بزنس کر رہے ہیں۔ یہ تو اسی نظام کے محافظ ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ آپ جن کیلئے نکلے ہیں وہ خود اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں کہ اتنی گرمی میں کون نکلے۔ دھرنے سے سڑک بلاک کیوں کی جاتی ہے۔۔۔ جب گھر کے مکین چوری پر احتجاج نا کریں تو کسی خضر کی طاقت نہیں کہ انہیں انصاف کی راہ دکھا سکے۔ جن صالحین کو ساتھ لے کر جماعت اس کام کو کرنے نکلی ہے وہ کے الیکٹرک کو محض بددعائیں دے سکتےہیں۔ سمجھیں اس بات کو۔ یہ کمرشل کمپنیاں ہیں۔ ان کو نظریہ اور حقوق نا بیچیں۔ وہاں وار کریں جہاں لگے تو تکلیف ہو۔ آپ کے پاس الخدمت جیسا ادارہ ہے۔ سولر انرجی پر کام کریں۔ چھوٹے ڈومیسٹک سطح کے پیکجز متعارف کروائیں۔ صارفین کو بجلی کے کم از کم استعمال پر راضی کریں۔ پیسہ بچے گا تو عوام ساتھ آئے گی۔ جو پیسے لے کر ووٹ دے وہ پیسے بچنے پر کچھ بھی کرے گا۔ حلقہ جات اور زونز کی سطح پر منظم طریقے سے اس کام کا آغاز کریں۔ یا اس بات کو شوریٰ کے سامنے پیش کریں۔ چند نان ٹیکنکل افراد کی رائے لیں اور دس پندرہ نشستوں کے بعد فائل دبا دیں۔

شیئرکریں
mm
مصطفی کا ادب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن کبھی کبھار کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں