کیا وہ نمرود کی خدائی تھی ؟

رمضان المبارک ایک مقدس مہینہ ہے ، اس مہینے کی عالمی تعریف تو یہ ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جہاں گناہ بخش دیے جاتے ہیں، نیکیاں کمائی جاتی ہیں، مغفرت مانگی جاتی ہے ، غربا اور مساکین کی امداد کی جاتی ہے— رمضان کی ایک مقامی تعریف بھی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے یہاں اس مہینے میں گرانی بڑھ جاتی ہے ، گداگروں کی آبادی بڑھ جاتی ہے ، سٹریٹ کرائم کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے ، پولیس کی چاندی ہو جاتی ہے ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹیلی ویژن پر بھانڈوں کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے —-

کبھی آپ نے سوچا کہ رمضان نشریات کیا ہیں ؟ کیا یہ عوام الناس کے فائدے کی چیز ہیں ؟ کیا ان سے کوئی معاشرتی بہتری کا پہلو نکلتا ہے ؟ کیا ان سے لوگ عبادات کی طرف راغب ہوتے ہیں یا عبادات سے دور ہوتے ہیں ؟ کیا یہ خدا کو راضی کرنے کا راستہ دیتی ہیں یا ناراض کرنے کا ؟

کافی عرصہ ہوا کہ میں رمضان نشریات دیکھنا چھوڑ چکا ہوں مگر اب بھی سوشل میڈیا کے توسط سے اس کی کچھ جھلکیاں نظر آ ہی جاتی ہیں– چار پانچ سال میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا آج بھی یہاں عزتوں کی نیلامی ہوتی ہے ، یہاں غیرت مندی اور خودداری پر ضرب لگائی جاتی ہے ، یہاں تماشے لگائے جاتے ہیں ، یہاں رمضان برباد کیے جاتے ہیں —

کتنے ہی معصوم ہوں گے جو اس شیطانی ماحول کو ایک روح پرور اجتماع سمجھ کر یہاں جاتے ہوں گے ، دل کو ڈھارس ہوتی ہوگی کہ یہاں علماء بیٹھے ہیں ، دین کی باتیں ہو رہی ہیں ، رمضان کی برکات سے انعامات بھی مل رہے ہیں — نعت پڑھی جا رہی ہے ، خدا کی حمد و ثنا ہو رہی ہے ، ہر طرف نور ہی نور ہے سبحان الله ، کیا منظر ہے —

کتنے ہی ایسے ہوں گے جو صرف اس لئے جاتے ہوں گے کہ تھوڑی سی عزت دے کر ایک موٹر سائیکل لے لیں ، خدا سے تو بہت مانگ لیا اب کسی بھانڈ سے ایک موبائل مانگ لیں – کچھ کو ٹی وی پر آنے کا شوق بھی ہوگا اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جو مجبور ہوں گے ، جن کی امداد کے نام پر انھیں ٹی وی پر بٹھا کر ان کی سفید پوشی کا بھرم توڑا جاتا ہوگا —

میں مکمل دیانت داری سے یہ کہتا ہوں کہ یہ نشریات آدمی کو دین سے دور کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں ، یہاں سب نوسر باز ہیں جن کا مقصد رمضان جیسے مقدس مہینے کا تشخص پامال کرنا اور اسے کمرشل بنا کر پیش کرنا ہے — تقریری مقابلوں کا رمضان سے کیا تعلق ؟ کیا یہ مقابلے رمضان کے سوا نہیں ہو سکتے ؟ اور اگر ہوتے بھی ہیں تو کسی طالب علم کی تقریر کے زریعے ایک چینل دوسرے چینل کو نیچا دکھا کر کیا یہ ثابت نہیں کر رہا کہ ہم رمضان میں بھی حسد سے باز نہ آئے—

آپ کے صرف نشریات نہ دیکھنے سے کام نہیں چلے گا ، آپ کو اس کے خلاف آواز بھی اٹھانی ہوگی ، اس رجحان کو روکنا ہوگا– ایک صاحب تو ان نشریات میں یہ کہتے پائے گئے تھے کہ آج اس اجتماع میں خدا اور اس کے رسول کی خاص عطا ہے کہ فلاں نعت خواں تشریف لائے ہیں ، اور اس نعت خواں کی نعت کے پانچ منٹ بعد ہی وہ صاحب عوام کو نچا رہے تھے —— آگے آئیے اس کے خلاف آواز بلند کیجئے، الله کی طرف آپ کے کچھ حقوق ہیں ، برائی کے خلاف کھڑے ہونا آپ کا مذہب ہے ، اس ظلم کو روکیے ورنہ وہ تمام معصوم لوگ جو اس فریب میں جکڑے جا چکے ہیں ، اور اس ٹرانسمشن کو خدا کے قرب اور اس کی بندگی سے جوڑتے ہیں وہ روز محشر ہم آواز ہو کر غالب کا یہ شعر پڑھتے پائے جائیں گے :

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی ؟
بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں