کیا ہم آزاد ہیں۔۔؟؟

برطانوی سامراج اور گاؤ ماتا کے پجاریوں کے بیچ پھنسے ہوئے مسلمانان برصغیر اپنی طویل اور انتھک کوششوں اور بے شمار قربانیاں دینے کے بعد ایک چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جسے پاکستان کہا جاتا ہے ۔ یہ ایسی پاکیزہ اور آزاد سرزمین تھی جہاں مسلمان بغیر کسی خوف اور دباؤ کے دین اسلام کو کامل راہنما بنا کر آزادانہ زندگی گزار سکتے تھے ۔ اسی لیے “پاکستان کا مطلب کیا-لاالہ الاللہ” تحریک پاکستان کا خاص عنصر رہا ہے ۔

قائد اعظم نے 1948 میں اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، “ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایسی جگہ چاہتے ہیں جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔” لاتعداد قربانیوں اور بے انتہا مظالم سہنے والے بانیان پاکستان کی روحیں آج جب ستر سال گذرنے کے بعد کا پاکستان دیکھتی ہوں گی تو شاید انہیں اس قوم پر افسوس ہوتا ہو گا ۔ انہیں خود پر ڈھائے گئے مظالم سے زیادہ اب تکلیف ہوتی ہو گی کہ اسلام کے نام پر وجود میں لائے جانے والے اس ملک کے باسی اپنے نظریات اور اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو بھول چکے ہیں ۔ آزادی کے نام پر مذہب بیزاری اور دیگر اقوام کی اندھی تقلید انہیں مقصد پاکستان سے بہت دور لے جا چکی ہے ۔ 1942 میں قائداعظم نے آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس میں یہ تاریخ ساز الفاظ کہے جنہیں آج کی نوجوان نسل اور سیاسی دوکاندار کب کا بھول چکے ہیں ۔ قائد نے کہا تھا کہ، ” مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہو گا؟ پاکستان کا طرز حکومت طے کرنے والا میں کون ہوتا ہوں ۔ مسلمانوں کا طرز حکومت تیرہ سو سال قبل قران کریم نے واضح کر دیا تھا ۔ الحمدللہ قران ہماری رہنمائی کے لیےموجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔”

ایک دن کے لیے جشنِ آزادی منانے والوں نے کبھی یہ سوچا کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ کیا ہم پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاللہ پر عمل پیرا ہیں؟ کیا ہمارے حکمران اور ادارے اپنے فیصلوں میں آزاد اور خود مختار ہیں؟ آج ستر سال گذرنے کے باوجود ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو یقینی طور پر تسلیم کر سکے کہ بحثیت قوم ہم اور ہمارے ادارے آزاد ہیں ۔ ہم اتنے آزاد ہیں کہ ہماری عدلیہ آج بھی برٹش انڈین ایکٹ 1935 پر انحصار کر رہی ہے ۔ ہماری معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی بیساکھیوں پر کھڑی ہیں جبکہ یو ایس ایڈ اور یو این چارٹر کے سہارے ہمارا تعلیمی نظام ہمیں دن بدن نظریہ پاکستان اور مقصد پاکستان سے دور کرتا چلا جا رہا ہے ۔ اسی تعلیمی نظام کا نتیجہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اسلامی روایات، اور تہذیب و ثقافت کو بھول کر مغربیت سے مرعوب دکھائی دیتی ہے ۔ ہمارے سکولوں کی تربیت یہ ہے کہ اہم ترین تقریبات میں ہمارے بچے مکمل قومی ترانہ نہیں پڑھ سکتے لیکن انھیں سنڈریلا، رابن ہڈ اور ٹارزن جیسے فرضی کرداروں پر مبنی داستانیں رٹی ہوئی ہیں ۔ کہنے کو ہم ہندوستان سے الگ ہو چکے ہیں لیکن ہندوستانی ڈراموں اور فلموں کے نام پر ان کی تہذیب و ثقافت ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں اتاری جا رہی ہے ۔ ہمارے نوجوانوں کو چھے کلمے تو یاد نہیں رہتے لیکن ہندی پروگرامز کا نام اور وقت نشر ضرور یاد ہوتا ہے ۔ احادیث تو کیا یاد ہونی ہیں لیکن ہندی گانے اور فلمی ڈائیلاگز لازماً یاد ہوتے ہیں ۔ ہمارا اپنا میڈیا ان ہندی فلموں کی کھلے عام تشہیر کر کے غلام ذہنیت ہونے کا ثبوت دے رہا ہے ۔ پاکستان جسے پانے کے لیے بے شمار عورتوں نے سہاگ لٹائے، ماؤں نے بہادر بیٹوں کو کھویا اور بیٹیاں اپنے باپوں سے جدا ہوئیں، اسی پاکستان میں اب عورتوں پر تشدد، تیزاب گردی، اور ونی کرنے جیسی رسموں سمیت بے ایمانی، لالچ، کرپشن،غیر منصفانہ عدالتی فیصلوں اور اپنوں کے خون کی بو کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔ آزادی کا مطلب ہوتا ہے اپنے فیصلوں اور پالیسیوں میں مکمل طور پر با اختیار ہونا، کسی بھی بیرونی دباؤ یا مداخلت کے بغیر ملکی سالمیت کا تحفظ اور کسی بھی قسم کی بیرونی امداد پر انحصار نہ کرنا ۔ ان سب نکات کو مدنظر رکھ کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم آج آزاد ہیں؟ بحثیت قوم ہم نے ستر سالوں میں صرف کھویا ہی ہے ۔ اپنے نظریات، اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنے ہی لوگوں کا اعتماد کھو کر ہمیں بدلے میں سیاسی و معاشی افراتفری، بد امنی اور مغربیت پسندی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو سکا ۔ اب ہم اپنے فرائض کو نظر انداز کر کے اور انہیں مکمل دیانت داری سے ادا کیے بنا ہی ترقی کی امید کرنے لگے ہیں جو کہ ممکن ہی نہیں ہے ۔ ابھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا ۔ بحثیت قوم ہمیں اپنے پرانے وعدے یعنی پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ کو نئے سرے سے دہرانا ہو گا ۔ نام نہاد سیاسی، مذہبی اور عدالتی قیادت کی حوصلہ شکنی کر کے جمہوری نظام کو مضبوط بنانا ہو گا ۔ تاکہ ہمارے ہی چنے ہوئے حکمران آزادانہ اور منصفانہ فیصلے کر کے ملکی ساکھ کو بہتر بناسکیں اور دنیا کے نقشے پر پاکستان کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور سامنے لا سکیں ۔ اسکے ساتھ ساتھ قیام پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والوں کی قربانی کی لاج رکھتے ہوئے اور قائد کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خواب کو حقیقت کا روپ بھی دے سکیں ۔ پاکستان پائندہ باد

شیئرکریں
mm
میرا نام علی عبداللہ ہے اور میرا تعلق جھنگ صدر سے ہے۔میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں اور اسی سلسلے میں ایک نجی کالج میں لیکچرر کمپیوٹر سائینس کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔کتب بینی،تحریریں لکھنا،اور ٹیکنالوجی میرے خاص مشاغل میں سے ہیں ۔تاریخ،مذہب،اور حالات حاضرہ پر لکھنا اور پڑھنا پسند ہے۔تحریر۔مجھے امید ہے آپکو میری تحاریر پسند آئینگی۔شکریہ

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں