ڈیورنڈ لائن کے اُس پار سے اِس پار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی موجودہ تیسری حکومت ہے جو افغان جنگ کے دوران منتخب ہوئی ہے ۔ افغانستان پر جب نائن الیون کے بعد حملہ کیا گیاتو امریکہ کو یقین تھا کہ وہ بے سرو سامان افغانستان کی امارات اسلامیہ کی طالبان حکومت کو چند دنوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے ، لیکن یہ چند دن ، چند ماہ میں تبدیل ہوئے اور پھر یہ چند ماہ ، چند سالوں میں تبدیل ہوگئے جو بالاآخر موجودہ صدر ٹرمپ کے پالیسی” جنگ کے خاتمے کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے”پر آکر پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ امریکہ افغانستان میں عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر قیام پزیر ہوکر اپنے ملک کی عوام کے ٹیکس سے ملنے والی رقوم کو افغانستان میں مسلسل ضائع کرنے کے لئے ہٹ دھرمی پر بضد ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو دنیا کے کسی بھی ملک نے ذہین فطین و سیاسی و سفارتی آداب سے روشناس ہونے کا تمغہ نہیں دیا بلکہ عالمی طور پر ٹرمپ کو بے وقوف ، بزنس مین اور امریکہ کی صدارت کے نااہل و جنونی شخص کے طور پر مانا جاتا ہے۔انتخابات میں متنازعہ کامیابی سے قبل ہی ٹرمپ کو امریکہ کےلئے بھیانک صدر و نااہل تصور کیا جاچکا تھا ۔ امریکی عوام نے ٹرمپ کی غیر متوقع کامیابی پر مسلسل اور بھرپور احتجاج کئے اور انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کردیا تھا ٹرمپ امریکی صدارتی تاریخ کے متنازعہ صدر ہیں ۔ ٹرمپ نے اپنے صدارتی منشور میں جتنے بھی وعدے کئے تھے ، ایک ایک کرکے اس کے برعکس عمل کررہے ہیں ،افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا امریکی عوام کے لئے خوش کن خواب تھا نیزامریکہ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا سبب ٹرمپ نے بھارت کو بھی قرار دیا تھا اور امریکہ کا صدر منتخب ہونے سے قبل ٹرمپ نے بھارتی باشندوں کو امریکہ سے بیدخل کرنے اور اُن کی جگہ بے روزگار امریکی عوام کو روزگار دینے کا اعلان کیا تھا ، لیکن جس طرح امریکہ ، بھارت کے سامنے جھکا ، اُس سے خود امریکی عوام حیران رہ گئی کہ اپنے امریکی صدر کے دوغلی فطرت کو کیا سمجھا جائے ۔افغانستان کے حوالے سے اوبامہ پالیسی یہی تھی کہ افغانستان میں دو مرتبہ عوامی انتخابات ہونے کے بعد اقتدار افغانستان کے عوام کو سونپ دیا جائے گا ، لیکن امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے دونوں متنازعہ انتخابات کے باوجود افغانستان سے انخلا امریکی فوجیوں کےلئے قبرستان ثابت ہونے والا ملک اب کمبل کی طرح امریکہ سے چمٹ گیا ہے۔
افغانستان پر امریکہ اور نیٹو ممالک کی جانب سے اتنی بمباریاں کیں جاچکی ہیں کہ جنگ عظیم اول و دوئم میں بھی نہیں کی گئی تھیں ۔امریکا نے اسامہ بن لادن کی بازیابی کےلئے اپنا مشن مکمل کرتو لیا لیکن اس کے باوجود امریکہ کا افغانستان سے خوفزدہ ہونے کے باوجود ناکام اور غیر مفید جنگ سے دست برداری کا اعلان نہ کئے جانا ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کے نئے صدر نے پہلے دن سے جس نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا ، وہ” کھودا پہاڑ نکلا چوہا ، وہ بھی مراَ ہوا” کے مصداق نکلی۔ٹرمپ کی نئی پالیسی دراصل پاکستان پر دباﺅ بڑھانے اور کشمیر کاز پر بھارت کی جانب سے ہونے والے مظالم پر پردہ ڈالنے کے علاوہ اور کچھ نیا نہیں تھی۔ خود امریکی ابلاغ نے امریکی صدر کی جانب سے دی گئی نئی پالیسی کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان پر امریکی دباﺅ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ، امریکی صدر نے کوئی اعداد و شمار دیئے بغیر پاکستان پر اربوں ڈالرز دینے کا جو بھونڈا الزام لگایا ، اُس پر امریکی حکومت کو خود شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہاہے لیکن بد قسمتی سے امریکی عوام کے اُوپر ایسا شخص مسلط ہوگیا ہے جو امریکی مفادات کے برخلاف دنیا کو جنگی حالت میں مبتلا کرکے اپنے ذہنی پسماندگی کو سکون پہنچانا چاہتا ہے۔ امریکی صدر کو یہ ادارک بھی نہیں رہا کہ پاکستان2001ءوالا پاکستان نہیں ہے ، بلکہ آج کاپاکستان خطے میں عالمی اقتصادی ترقی کی وجہ سے دیگر اہم ممالک کے لئے ناگزیر ہوچکا ہے اور افغانستان میں اب صرف امریکہ نہیں بلکہ دنیا کے کئی عالمی ممالک براہ راست پراکسی وار میں ملوث ہو کر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں ، بھارت کو ٹھیکدار بنانے کے منصوبہ کسی دوسری عالمی طاقت کے لئے بھی قابل ِ قبول نہیں ہیں ، ان ممالک کےلئے پاکستان اور افغانستان میں امن انتہائی ناگزیر ہوچکا ہے ۔2030کے ویژن کے ساتھ عالمی معیشت کا نقشہ تبدیل ہو رہا ہے اور یہ پاکستان و افغانستان کو پُرامن بنائے بغیر پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہیں ہے ۔ پاکستان پر کسی بزدلانہ حملے کا مقصد پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچانا تو ہوسکتا ہے ، لیکن امریکہ ابھی تک دنیا کے سامنے ان شواہد کو نہیں لا سکا کہ پاکستان میں ایسی کون سی جگہ ہے جہاں بقول واشنگٹن و کابل حکومت ، پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ یا پناہ گاہیں مہیا کیں ہیں ۔امریکا کے ڈرون حملے تو پاکستان سمیت افغانستان میں کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت کئے جا سکتے ہیں ، بھلا امریکی سیٹلائٹ سے وہ علاقے کیونکر غائب ہیں کہ اُن علاقوں پر امریکی ڈرون مٹر گشت نہیں کررہے۔ دراصل امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کےلئے کشمیر کی حریت پسند جماعتوں کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرکے کسی مذموم کاروائی کے لئے بہانہ تراشنے میں مصروف ہے۔ اگر امریکہ بہادر ، اس قدر تیز و طرار ہوتے تو 03لاکھ سے زائد فوجیوں کی کمک حاصل ہونے کے باوجود افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کرسکتے تھے ۔لیکن انھیں اپنی16برس کی جنگ میں سوائے نامرادی و ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا۔افغانستان کے غیور عوا م اپنے مذہب ، حب الوطنی ، عزت و آزادی کی راہ میں کسی قسم کا توقف نہیں رکھتے۔
امریکی صدر کے لئے یہ تاریخی موقع تھا کہ وہ کسی بھی قوم کا امتحان لینے کے بجائے اپنا نام تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھوالیتااور افغانستان کی بے مقصد و غیر ضروری جنگ سے علیحدہ ہوجاتا ۔پاکستان ، چین اور روس کے ساتھ بیٹھ کر افغانستان کے مسئلے کے حل کے لئے ا مارات اسلامیہ کو واپس اختیار سونپ دیتے ، کیونکہ جب افغانستان پر جارحیت کی گئی تو امارات اسلامیہ کی حکومت قائم تھی اور سعودی عرب اس اسلامی حکومت کو تسلیم کرچکا تھا ۔ امارات اسلامیہ کے سابق حکومت کی جانب سے کسی بھی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں رخنہ نہیں ڈالا گیا اور نہ ہی امارات اسلامیہ کی سابق حکومت کی جانب سے دنیا کے کسی بھی ملک میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی ۔ اسامہ بن لادن کی حوالگی کا معاملہ پختون روایات سے بھی جڑا تھا ۔امارات اسلامیہ کے بانی سربراہ ملا عمر مجاہد کا یہ اصولی موقف تھا کہ وہ اپنے کسی بھی مہمان کو کسی دوسری حکومت یا کسی بھی شخص کے حوالے یا اُسے بیدخل نہیں کرسکتا ۔ افغان عوام کو تباہی سے بچانے کےلئے حکمت عملی تحت انھوں نے پیچھے ہٹنا گوارا کرلیا تاکہ امریکہ اور اُس کے حلیف ممالک افغانستان پر اندھا دھند بمباریاں کررہے ہیں وہ ختم ہوسکیں ۔ افغانستان کے پاس ایسی کوئی جدید توٹیکنالوجی یا ایٹمی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ امریکہ سمیت خطے کے کسی بھی ملک کے لئے خطرات کا سبب بنتا ۔ سوویت یونین کے جانے کے بعد اندرونی خلفشار کو ختم کرنے والی امارات اسلامیہ کی حکومت ملک میں امن قائم کرنے میں کوشاں تھی۔ بت پرستی کی نشانیوں کو ختم کرنے کےلئے افغانستان اسلامی اور اپنی ثقافتی روایات کے مطابق عمل پیرا تھا ۔ جو اُس کی مملکت کا داخلی معاملہ تھا اس سے کسی دوسرے ملک کو کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچ رہا تھا ۔امارات اسلامیہ کے دور حکومت میں افیون کاشت کے خلاف موثر کاروائیاں کیں گئی تھی جبکہ اس وقت منشیات کی اسمگلنگ ماضی کے مقابلے کئی ہزار گنا بڑھ چکی ہے۔امریکہ سمیت برطانیہ اور یورپی ممالک میں نسل پرستی کا پُرتشدد رجحان ، افغانستان کے مقابلے میں کئی زیادہ اور تشویش ناک ہے ۔ امریکی صدر سورج گرہن کو بغیر حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کئے ہوئے دیکھنے کی بچگانہ سوچ رکھتے ہیں ۔انھیں افغانستان کی تاریخ سے واقفیت بھی ضرور حاصل کرلینی چاہیے تھی ۔ افغانستان سے بے عزت ہوکر امریکہ خود کو مزید رسوائی سے بچا سکتا تھا ۔پاکستان اِ س وقت سیاسی انتشار میں ضرور مبتلا ہے لیکن پاکستانی قوم کی سرشت ہے کہ وہ کسی کڑے وقت میں یکجہتی و اتحاد کو مثالی مظاہرہ بھی کرتی ہے۔ڈیورنڈ لائن کے اُس پار جنگ کو اِ س پار لانے کی غلطی امریکا کی آخری کوتاہی بن سکتی ہے۔

شیئرکریں
اسسٹنٹ میگزین ایڈیٹر؍کالم نویس؍تجزیہ نگار؍فیچر رائیٹر؍ نمائندہ خصوصی روزنامہ جہان پاکستان ۔کراچی۔لاہور۔اسلام آباد.- ملتان سابقہ کالم نویس روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ نوائے وقت

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں