ملکی حالات اورچند گزارشات

پاکستان 2014سے مسلسل سیاسی بحران کا شکار ہے اور یہ بحران ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ دھاندلی دھرنا، بائیکاٹ، سول نافرمانی، ہڑتال، لاک ڈائون، پانامہ اور حکومتی ردعمل میں ہم نے قوم کے چار سال برباد کئے۔ اس سب کچھ کا حاصل بھی ہوا تو کیا ’’بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر منتخب وزیر اعظم کی نا اہلی‘‘ اور ’’ملک کی دوسری بڑی پارٹی کے سربراہ پر اپنی ہی جماعت کی خاتون رکن کا انتہائی سنگین الزام ‘‘ سچ یہ ہے کہ یہاں پارسا کوئی نہیں! فرق اتنا ہے کہ ’’کوئی سیر تو کوئی سوا سیر، کسی کو کرسی بچانے کی فکرہے تو کسی کو کرسی کے حصول کی جلدی ‘‘۔ چار سال سے جاری تماشہ اب ختم ہونا چاہئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف نے سیاست میں جس کلچر کو جنم دیا ہے اس نے ہمارے معاشرے کی سیاسی و معاشرتی اقدارکو برباد کیا مگر یہ بھی سچ ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے بھی کوئی کم نہیں کیا اور رہی سہی کسر پانامہ کیس میں عدالت عظمیٰ کے انتہائی کمزور اور بے وزن فیصلے اور جج صاحبان کے فلسفیانہ تبصروں نے پوری کرلی۔ یہاں پر میڈیابا لخصوص الیکٹرونک (الا قلیل)کا کردار’’اس بازار‘‘ کے مکینوں سے کم نہیں رہا۔اب اس تماشے کو ختم ہونا چاہئے، اس ضمن میں تمام احباب سے چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
(1)میاں نواز شریف صاحب: ہم مانتے ہیں کہ آپ کے ساتھ انصاف نہیں ہوا (یہ میری ذاتی رائے ہے) اور کیا یہ سب کچھ صرف سازش کی وجہ سے ہوا ؟یا اپنا بھی کچھ قصور تھا؟ اس پر غور کریں اور سبق حاصل کریں۔ انصاف کے لئے آئین و قانون کے مطابق ہر راستہ استعمال کریں مگر انتشار نہیں ہونا چاہئے۔آپ جلسہ بھی کریں اور جلوس بھی نکالیں مگر اس سے ملک کسی بحران کا شکار نہیں ہونا چاہئے، آپ کے پاس پارلیمنٹ سے لیکر بلدیات تک پورے ملک میں ہزاروں نمائندے ہیں اور ان کے ذریعے عوام میں جاکر اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ نا انصافی کے بارے میں آگاہ کریں مگر مقصد ٹکرائو، توہین، تذلیل و تضحیک نہیں ہوناچاہئے۔ اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے، ماضی کی غلطیوں سے توبہ کریں اورآئندہ کے لئے مثبت حکمت عملی اختیار کریں۔ ضروری نہیں کہ صرف کرسی والے ہی حکمران ہوتے ہیں کچھ ’’دلوں کے حکمران ‘‘ہوتے ہیں، آپ بھی ’’دلوں کا حکمران‘‘ بننے کی کوشش کریں۔حالیہ دنوں سیکیورٹی کے حوالے سے آپ کی جماعت یا آپ کی اپنی حکمت عملی حماقت سے کم نہیں تھی، پاکستان اس وقت کسی بڑے سانحے کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔
(2)عمران خان صاحب: ہم مانتے ہیں کہ گزشتہ چار سالوں میں آپ نے بہت سے معاملات میں لوگوں کو شعور اور زبان دی ہے اور ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ ہمارے نظام میں بہت بگاڑ ہے۔ چار سال قبل آپ لوگوں کی ایک امید تھے مگر بدقسمتی سے آج آپ (یہ میری ذاتی رائے ہے) بوجھ نظر آتے ہیں۔کاش کرسی کے حصول کے لئے جلدی کی بجائے اپنی توانائیوں کا کچھ حصہ خیبر پختونخواپر لگاکر ایک ماڈل پیش کرتے؟
خان صاحب :سابق وزیر اعظم پر کرپشن کے سنیگین الزامات ہیں تو آپ پر بھی انتہائی سنگین الزام ہے، سابق وزیر اعظم جب عدالتوں کا سامنا کرسکتاہے اور تمام معاملات تقریباً آپ کے مطالبات کے مطابق طے ہوئے ہیں تو اب آپ خود بھی پارلیمانی کمیٹی کا سامنا کریں، اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آئندہ کے لئے مثبت حکمت عملی بنائیں ، اس تاثر کو ذائل کریں کہ آپ کسی کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ پر امن جدوجہد کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں کہ ملکی تاریخ میں آپ نے پہلی بار وقت کے مبینہ جابرو ظالم اور کرپٹ حکمران کا آئین و قانون کے مطابق احتساب کیا ہے۔ الزام در الزام اور گالی گلوچ کے کلچر کو ترک اور اس سے توبہ کریں۔اپنے دائیں بائیں کے یاجوج ماجوج کو بھی تہذیب کی تلقین کریں۔
خان صاحب : اپنے تحفظ کے حوالے سے احتیاط کریں،پاکستان کے دشمنوں کی یہ خوائش ہوگی کہ ملک کی مقبول قیادت کو نقصان پہنچاکر ملک میں افراتفری پھیلادے ، اپنی جدوجہد آئین و قانون کے مطابق جاری رکھیں ، 2018کے انتخابات(اگر ہوئے تو!) سرپرہیں، مجھے نہیں لگتا ہے کہ آپ اور آپ کی جماعت نے اس کے لئے کوئی بڑا ہوم ورک کیا ہو۔
(3)معزز عدلیہ : خدا کا واسطہ ہے کہ اب اس تاثر کو ذائل کریں کہ انصاف مخصوص ہے اور اپنے فیصلوں کے ذریعے یہ ثابت کریں کے آئین و قانون سب کے لئے ہے۔ ایسا نہ ہوکہ تاریخ میں پھر ہمیں ماضی کی کوتائیوں پر معافی مانگی پڑے، اگر کہیں پر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کریں، ابھی اصلاح کی گنجائش ہے۔جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ آپ کا حالیہ پانامہ کیس فیصلہ اتنے دن گزرنے اور بہت کچھ پڑھنے کے بعد بھی انصاف تو کیا انصاف کے قریب تر بھی نظر نہیں آرہا ہے ۔
(4)تمام قومی ادارے اپنی بالادستی کی جنگ میں شامل ہونے کی بجائے آئین و قانون کے مطابق اپنے دائرے میں رہیں۔اس ملک کو خلفشار سے نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، ذاتی پسند و ناپسند کی بجائے ملکی سلامتی و بقاکو مد نظر رکھکر قانون کے مطابق کام کریں۔’’لے پالک‘‘ کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے۔
(5)میڈیااس وقت جو کردار ادا کرر ہا ہے وہ ملک کے حوالے سے انتہائی شرمناک اور خوفناک ہے ، میڈیا کے اداروں کو اپنے عمل و کردار پر نظر ثانی کرنا ہوگی بصورت میڈیا یا میڈیامین گالی بن جائے گا۔
(6)سیاسی و مذہبی قیادت ذاتی پسندو نا پسند کی بجائے ملکی سلامتی و بقا اور نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کو مد نظر رکھکر فیصلے کریں، کیونکہ دشمن سرپرہے۔اپنے تحفظ کا خیال اور دشمنوں پر نظر رکھیں۔
(7)عوام بغور حالات کا جائزہ لیں اور جو اس ملک کی سلامتی و بقا کے لئے بہتر ہو اس کی حمایت اور جو بہتر نہ ہو اس کی مخالفت کریں۔یہ بھی خیال رکھیں کہ کہیں ہم دانستہ یا غیر دانستہ طور پر استعمال تو نہیں ہورہے ہیں؟
(8)ان گزارشات کا مقصد کسی کی تذلیل و توہین نہیں بلکہ ایک پاکستانی کے دل کا حال بیان کرنا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں