مظلوم کون؟

ایک اسرائیلی ویب سائٹ پر پاکستانی نوجوان کی تحریر پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے کوئی اسرائیلی باشندہ غلطی سے لاہور میں پیدا ہو گیا ہو ۔ بات صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی تک ہوتی تو شاید یہ تحریر اپنا مثبت اثر مرتب کرتی مگر تاریخ سے ناواقفیت، فلسطینیوں کے حقوق سے ناآشنا اور صیہونیت سے مرعوب یہ تحریر جہاں اسرائیل کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے وہیں یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی نوجوان جو مستقبل کے میر کارواں ہیں نظریاتی طور پر کتنے کمزور اور مرعوبیت کا شکار ہیں ۔

یہ تحریر لکھنے والے صاحب نے تمام صیہونی مظالم کو جنہیں 1948 سے لے کر آج تک فلسطینی سہتے چلے آ رہے ہیں پس پردہ رکھ کر اسرائیل کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے ہیں ۔ بظاہر تحریر کا موضوع اسرائیل کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی ہے لیکن موصوف نے چھپے ڈھکے الفاظ میں پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات نہ ہونے کو المیہ قرار دیا ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں کہ “یہ ایک المیہ ہے کہ میں اسرائیل نہیں دیکھ سکتا کیونکہ میرے پاسپورٹ پر واضح تحریر ہے کہ یہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک میں کارآمد ہے ۔ اسرائیلی ترقی دنیا بھر کی بہت سی ریاستوں کو کھٹکتی ہے خصوصاً عرب ممالک کو لیکن اسرائیل نے دشمن ہمسائیوں کے درمیان گھرا ہونے اور اندرونی و بیرونی دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہمیں کبھی کمزور مت سمجھنا ۔ 1948 سے پہلے یہودیوں کی باقاعدہ کوئی ریاست نہ ہونا اور پھر عرب ہمسائیوں کی دشمنی اور ساتھ ساتھ اردگان کے اسلامک ترکی سے سرد تعلقات کے باوجود اسرائیل نے ملٹری اور سیاسی ترقی تو کی ہے لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی میں کمال کی حد تک ترقی متاثر کر دینے والی ہے ۔”

موصوف صیہونیوں کا ان کے آباؤ اجداد کی سرزمین پر واپس آنا ان کا حق سمجھتے ہیں ۔ موصوف کا مزید کہنا ہے کہ نازی مظالم میں اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور بھائیوں کی جانوں کی قربانی دے کر اپنی الگ ریاست حاصل کرنے والے مظلوم صیہونیوں کو ابتک جنگی صورتحال کا سامنا ہے ۔ ہالوکاسٹ اور عرب اسرائیل جنگوں کا سامنے کرنے والے یہودی مظلوم ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان کا اسرائیل سے سیاسی یا جغرافیائی جھگڑا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ایسے اہم ترقی یافتہ ملک سے تعلقات کا نہ ہونا انتہائی حیران کن اور المیہ ہے ۔ کوئی بھی ریاست خصوصاً مشرق وسطیٰ کا کوئی بھی ملک اسرائیل کی ترقی کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات نہ ہونے کی پہلی وجہ عرب ممالک کا دباؤ ہے جن میں سعودی عرب سر فہرست ہے ۔ دوسری بنیادی وجہ ہمارے اپنے ملک میں مسلمانوں کی کثرت ہے جو اسرائیل کو مختلف وجوہات کی بنا پر اچھا نہیں سمجھتی اور باقی رہی سہی کسر قومی میڈیا، عرب میڈیا اور ایرانی پروپیگنڈا پوری کر دیتا ہے ۔ اسرائیل پاکستان تعلقات بن بھی سکتے تھے اگر ضیاالحق اسلامائزیشن اور مسلم امہ کا نعرہ نہ لگاتا ۔

ہمارے ملک میں میڈیا کے ذریعے ہمیشہ اسرائیل کا منفی رخ دکھایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی جیسے جرائم میں ملوث ہے ۔ لیکن ہماری عوام اگر جان لے کہ اسرائیل کتنی ترقی کر چکا ہے اور پاکستان اسرائیل تعلقات کتنے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں تو لوگ ان تمام عرب نواز لیڈروں، ملا اور ایرانی پروپگنڈا کو رد کر کے اسرائیلی ترقی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ صاحب تحریر نے اور بھی بہت سی اسرائیلی ترقیوں اور کمپنیوں کا پرجوش انداز میں ذکر کیا ہے ۔ موصوف نجانے کیوں یہ بھول گئے ہیں کہ صیہونی مظلوم نہیں ظالم ہیں ۔ اسرائیل نے جنیوا کنونشن کو پاؤں تلے کچل کر مسلسل جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔ ان جرائم میں غیر مسلح فلسطینیوں کا قتل عام جن میں بوڑھے بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ یہودیوں کی غیر قانونی آباد کاری کو فروغ دیا ہے اور فلسطینی علاقوں میں غیر ضروری رکاوٹوں اور کرفیو لگانا تو معمول کی بات بنا لی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے یو این اور انٹرنیسنل لاء کی بھی ہر موقعے پر کھلے عام خلاف ورزی کی ہے ۔ چالیس سالہ فلسطینی علاقوں پر قبضے سے لے کر اسرائیلی آباد کاری میں توسیع اور فلسطینیوں کی زمینوں اور پانی کے ذخائر پر قبضہ انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی میں شامل ہیں ۔ اسرائیل کی جانب سے 2008 میں آپریشن کاسٹ لیڈ اور 2014 میں آپریشن پرٹیکٹو ایج کیے گئے جن میں کم و بیش 3500 فلسطینی شہید ہوئے جن میں 900 بچے بھی شامل تھے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ریڈ کراس انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس انٹرنیشنل کے مطابق 2014 میں ہی اسرائیلیوں کی جانب سے 203 مساجد، 24 میڈیکل کیمپ، 2 چرچ اور 20000 گھروں کو تباہ کیا گیا ۔ چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 33 کے مطابق کوئی بھی ملک نازیوں جیسے کیے گئے جنگی جرائم کا ارتکاب نہیں کرے گا ۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی حفاظت کی جائے گی ۔ لیکن صیہونیوں کی جانب سے ہر موقعے پر اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ تازہ ترین واقعات میں مسجد اقصیٰ میں جھڑپوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ہلاکت اور قبلہ اول کو بند کرنا جیسے واقعات نجانے کیوں موصوف کو نظر نہیں آ سکے ۔ ان سب کے علاوہ اسرائیل کی لبنان میں دخل اندازی اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ صورتحال کو کافی حد تک واضح کرتا ہے ۔ ان تمام حالات و واقعات کے باوجود اگر کسی کو اسرائیلی ہی مظلوم نظر آتے ہیں تو پھر یقیناً ہمارے نوجوان نظریاتی اور نفسیاتی طور پر کمزور اور تاریخ سے نابلد ہیں جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔

شیئرکریں
mm
میرا نام علی عبداللہ ہے اور میرا تعلق جھنگ صدر سے ہے۔میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں اور اسی سلسلے میں ایک نجی کالج میں لیکچرر کمپیوٹر سائینس کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔کتب بینی،تحریریں لکھنا،اور ٹیکنالوجی میرے خاص مشاغل میں سے ہیں ۔تاریخ،مذہب،اور حالات حاضرہ پر لکھنا اور پڑھنا پسند ہے۔تحریر۔مجھے امید ہے آپکو میری تحاریر پسند آئینگی۔شکریہ

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں