“پاکستان کے چمپیئنز ٹرافی جیتنے پرپیروڈی کالمز”

” جاوید چوہدری”

تین بج کر 25 منٹ، 43 سکینڈ، 51 مائکرو سکینڈ اور 44 نینو سیکنڈ پر بمراہ کی نو بال پر فخر زمان آوٹ ہونے سے بچ گئے. میں نے اس خوش قسمتی پر قہقہہ لگایا، اپنی بھاپ اڑاتی کافی اپنے نوکر کو تھمائی، اور شہباز شریف کے بنائے ہوئے فلائی اوور کے ذریعے کوہ الپس سے سیدھا خواجہ صاحب کے پاس جا پہنچا.

خواجہ صاحب جے آئی ٹی کے ممبران کے نیفے سلائی کرنے کے بعد سگریٹ پی رہے تھے. میں نے پوچھا خواجہ صاحب کرکٹ میں دعاؤں کا کیا کام ہے؟ بھلا کرکٹ بھی خدا کھلواتا ہے؟ خواجہ صاحب اس وقت میرے منہ پر سگریٹ کے مرغولے چھوڑ رہے تھے. بولے جاوید…تم ملائی اور پکوڑے مکس کر رہے ہو. تم کیوی پالش کو منہ سفید کرنے والی کریم سمجھ کر منہ پر تھوپ رہے ہو. تم مٹھائی میں ہلدی کے انجکشن لگا کر اسے انسولین سمجھ رہے ہو. دعا تو محنت اور خلوص کی گوند ہے. میں نے قہقہہ لگایا اور خواجہ صاحب کے کمرے سے باہر نکل آیا.

خواجہ صاحب کی بات ایک طرف رکھیں. آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان کے جیتنے کی سب سے بڑی وجہ میاں صاحب کا سٹریٹجک حکمت عملی کے تحت عین فائنل سے قبل عمرے کے لئے مکہ جانا تھا. لیکن ہم اس تعاون کو تسلیم نہیں کرینگے ہم منہ میں گوبھی ڈال کر اذان دینے والی قوم ہیں. ہم اپنے حکمرانوں کی جائز تعریف بھی نہیں کرتے. اگر ہم نے اپنے حکمرانوں کی تعریف نہ کی تو ہم تاریخ کے اندھے کنویں میں ڈبکیاں لگا رہے ہونگے.

“ہارون الرشید “

انسان کے لئے وہی کچھ یے جس کے لئے اس نے کوشش کی. کوئی جائے اور جا کر بھاڑے کے ٹٹوؤں کی زبان گدی سے کھینچ لے. الحذر الحذر

تین عشرے گزرے. سرما کی چمکیلی دوپہر کو افغان کہساروں پر اساطیری جنگجو حکمت یار کے ساتھ تھا. وہ افسانوی کمانڈر جس نے امریکیوں کو اپنے بانی رہنماؤں کی یاد دلا دی اور ایک پھونک سے درجن موم بتیاں بجھا کر ریگن کو ششدرہ کر دیا.

پوچھا.. جنگجو افغانوں کا مستقبل؟ اساطیری جنگجو بولا جس دن پاکستان بغیر آئی ایس آئی کے بھارت سے چمپیئنز ٹرافی کا فائنل جیت گیا اس دن افغانستان میں امن کی صبح طلوع ہوگی.. دل میں کوندا لپکا.. بغیر دنیا کی بہترین ایجنسی کے پاکستان کیسے جیتے گا؟ آج سرفراز نے ٹرافی اٹھائی تو دل شاد ہوا. بے ساختہ سپہ سالار صابر کیانی یاد آئے. انکل سام کی ایما اور آشیرباد پر سپہ سالار پر دشنام طرازی کرنے والے، چڑ چڑی بڑھیا اور سفید مونچھوں اور چڑیا والا صحافی انشاءاللہ منہ کی کھائیں گے.

سپہ سالار نے سوات آپریشن کے ہنگام لیون پینیٹا کو جھڑک دیا جب دوران میچ اس نے ڈرون حملے کی منظوری دینا چاہئی. سگار پیتا سپہ سالار خاموش رہا مگر اسکی بولتی آنکھوں نے پینٹا کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا.

مگر ہم تاریخ کے چوراہے پر سوئی قوم ہیں. کپتان جو فردوس اعوانوں اور نذر گوندلوں میں پھنس گیا. سیاسی حرکیات سے نابلد اور دیسی مرغی کے شوربے کا شوقین خان اس بڑھیا کی طرح ہے جس نے اپنا سوت خود ہی ادھیڑ ڈالا. عارف عصر کے تاریک کمرے میں پوچھا… کب تک آخر کب تک؟.. تسبیح رولتے سر اٹھایا.. جس دن بمراہ کی طرح میاں نواز شریف نے عمران کو آوٹ کیا مگر ایمپائر نے نو بال دیدی. ایسی بوالعجمی.. ایسا اجلا شخص.. پھر بھی لوگ ہذیان بکتے ہیں.

انسان کے لئے وہی کچھ یے جس کے لئے اس نے کوشش کی. کوئی جائے اور جا کر بھاڑے کے ٹٹوؤں کی زبان گدی سے کھینچ لے. الحذر الحذر

شیئرکریں
mm
ثاقب ملک ٹی ٹی آئی کے اعزازی لکھاری ہیں۔ ان سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں