تحریک انصاف کیوں مقبول ہوئی تھی۔۔؟؟

تحریک انصاف کے قیام کے بعدابتدائی دور میں اس جماعت کو کچھ خاص پزیرائی نہیں مل سکی۔اگر تھوڑا بہت نام یا مقبولیت حاصل تھی بھی تو اس کی بنیادی وجہ 1992 کے ورلڈ کپ کے فاتح اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان تھے۔

لیکن 2007 میں ایم کیو ایم کے قائد کی جانب سے عمران خان کی کراچی آمدکے پر جہاز نہ اترنے کی دھمکی کے بعد وہ مین اسٹریم میڈیا پر ابھرنا شروع ہوئے۔وکلاء تحریک کے دوران صف اول کےرہنماؤں میں سے ایک عمران خان بھی تھے۔یہ عمران خان کے سیاست میں عروج کا آغاز تھا۔

دسمبر2007 میں بے نظیر بھٹو کی اچانک شہادت نے جہاں پیپلزپارٹی کو قیادت کے بحران سے دوچار کیا وہیں ملک کی سیاست میں پیپلزپارٹی کے خاتمے کا آغاز بھی ہوگیا۔گوکہ پیپلزپارٹی نے بی بی شہید کی شہادت کے عوض عوام ہمدردیاں سمیٹنے کیساتھ ساتھ ووٹ بھی سمیٹ لئے اور وفاق میں حکومت بھی بنا لی لیکن اس دوران عمران خان ملکی افق پر تیزی سے ابھرتے چلے گئے۔

اسی دوران جامعہ پنجاب میں عمران خان کے ساتھ ایک ناخوشگوارواقعہ پیش آیا ۔جس نے عمران خان کو میڈیا پر ایک بار پھر نمایا ں کردیا۔پھر 31مارچ 2013 کو لاہور میں تاریخ ساز جلسہ ہوا۔چار سو انسانوں کے سر ہی سرنظر آئے۔اس جلسے نے پاکستان میں ایک نئی سیاست قوت تحریک انصاف کو متعارف کرایا۔اس جلسے کے بعد ملک میں تبدیلی کا نعرہ گونجا۔

اور پھر کپتان کے جلسے ہوتے چلے گئے۔ایک بعد ایک بڑے جلسے میں عمران خان کا ایک ہی دعویٰ تھا کہ وہ کلین سویپ کریں گے۔اس دعوے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے وہ طبقہ انتہائی متحرک نظر آیا جسے ممی ڈی برگرز کہا جاتا ہے۔اس ایلیٹ کلاس نے آج تک کسی بھی انتخابی عمل میں حصہ نہ لیاتھا۔

لیکن ہم نے دیکھا کہ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصافہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام نظرآئی ۔گوکہ قومی اسمبلی میں ایک معقول تعداد میں پی ٹی آئی کے ممبران پہنچنے میں کامیاب ضرور ہوئے۔لیکن اس کے باوجود عمران خان کا کلین سویپ کا دعویٰ درست ثابت نہیں ہوسکا۔

اگر ہم اس وقت کے حالات کاجائز ہ لیں تو تحریک انصف نےروایتی سیاست کو پس پشت ڈال کر الیکٹبلز کو نظرانداز کرتے ہوئے 70فیصد ٹکٹ نئے اور نوجوان چہروں کودئے۔قطع نظر اس سے کے بقول تحریک انصاف پری پلین دھاندلی ہوئی ۔ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ہارنے والے امیدوار بھی 50ہزار سے اوپر وو ٹ لیکر ہارے۔

لیکن یہاں یہ بات تحریک انصاف کو سمجھ آگئی کہ نوجوان چہرے کتنے ہی بے داغ کیوں نہ تھے لیکن یہ چہرے عمرا ن خان کی مقبولیت اور تبدیلی کی لہر کو کیش نہ کرسکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا روایتی طرز سیاست دیگر دنیا سے الگ ہے ۔

یہاں گھر سے لیکر پولنگ اسٹیشن تک ووٹر کو متحرک رکھنا ہوتا ہے،ڈنڈے لاٹھی کا استعمال بھی ہوتاہے۔بڑی تعداد میں پولنگ ایجنٹ بھی درکار ہوتے ہیں۔۔پاکستان کی روایتی سیاست میں صرف ایماندار اور دیانتدارہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جماعت اسلامی پاکستان کی حکمران جماعت ہوتی۔پاکستانی سیاست میں الیکٹبلز کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔2013

میں تحریک انصاف نے الیکٹبلز کونظرانداز کیا جس کا نتیجہ الیکشن میں ہار کی صورت میں برآمد ہوا۔جمہوریت میں چور لٹیرے ایماندار سب برابر ہوتے ہیں۔اصل چیز عوام کا اعتماد ہے۔عوام کے ووٹ ہیں ۔جس پر عوام اعتماد کر کے ووٹ دے وہی شخص صاف اور ستھرا ہے۔جسے عوام ووٹ نہیں دیتی اس کی پاکیزگی اور تقوے کا سیاست میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

یہ فلسفلہ تحریک انصاف نے سمجھ لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں نذرمحمد گوندل اور ظفر محمد گوندل جیسے لوگ تحریک انصاف میں نظر آرہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے کئی اہم رہنماتحریک انصاف کو پیارے ہوچکے ہیں۔اس موقع پر کئی بڑے دانشوروں کے قلم حرکت میں آئے اور معلوم ہوا کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے الیکٹبلز تو انتہائی کرپٹ لوگ ہیں ۔

لیکنسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہی لوگ پی پی پی اور مسلم لیگ ق کا حصہ تھے تو کیا اس وقت کرپٹ نہیں تھے ؟۔اگر تھے تو یہ کالم اس وقت کیوں نہ لکھے گئے؟۔کیا صحافیوں کے کالم دیانت اور بدیانتی کا تعین وقت بدلنے کیساتھ کرتے ہیں؟۔بہرحال ہمارے سامنے مہاطیر محمد کی مثال موجود ہے جس نے ملائیشاکوبدل کررکھ دیا۔

ہمارے سامنے 92 کے ورلڈ کپ کی مثال موجود ہے۔ہمارے سامنے شوکت خانم کی مثال موجود ہے۔عمران خان کسی بھی ٹیم کو چلانے کی اہلیت تو رکھتے ہیں۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان الیکٹبلز کو عمران خان کس طرح سے چلاتے ہیں۔عمران خان الیکٹبلز کو بدل کر تبدیلی لائیں گے یا الیکٹبلز کے رنگ میں رنگ جائیں گے۔

یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن حقیقت یہی ہے کہ الیکٹبلز کے بغیر پاکستان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔اور نہ ہی کہیں سے فرشتے امپورٹ کرکے الیکشن میں کھڑے کئے جاسکتے ہیں ۔موجودہ حالات میں الیکٹبلز پر انخصار کرنا ہر پارٹی مجبوری ہے ۔اگر ہم مسلم لیگ ن کی بات کریں تو پوری پارٹی ہی الیکٹبلزپر کھڑی ہے۔

بس عمران خان کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ اگر عوام ان کیساتھ ہیں تو تبدیلی کی خواہش لئے ہوئے ہیں۔تبدیلی کی چاہ ہی وہ بنیادی چیز ہے ۔جس کی وجہ سے نوجوان عمران خان کو پسند کرتے ہیں۔اس لئے کپتان نے الیکٹبلز کی سوچ بدلنی ہے ۔اس نظام کو بدلنا ہے۔اگر عمران خان خود ہی بدل گئے۔تو تاریخ بہت بے رحم ہے ۔پاکستانی عوام پھر انہیں بھی مسترد کردے گی۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں