سیلفیاں یا موت کا سودا

ایک دانشور نے کہا کہ “جب تک فون تار کے ساتھ بندھا تھا لوگ آزاد تھے جب سے فون آزاد ہوا لوگ بندھ گئے۔” اس جملے میں ذرا بھی جھول نہیں۔ کہ جہاں دیکھیں تو لوگ موبائل فون کے ساتھ ہی چمٹے ملتے ہیں۔ یہ ایک وباء ہے جو عام ہوتی جارہی ہے۔ آج کل ٹاپ ٹرینڈ جو مرض ہے وہ موبائل و سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، یہ مرض جو کہ طاعون کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ پھلتا، پھیلتا، پھولتا ہی چلا جارہا ہے اور اس کے نشہ میں بڑے، بوڑھے، بچے، عورتیں، مرد سب ہی گرفتار ہیں۔ اس بات میں دورائے نہیں کہ تصویریں پرانی یادیں تازہ کرنے کا ذریعہ ہیں اور تصاویر دیکھ کر بہت سی پرانی یادوں کو تازہ کیا جاتا ہے۔

لیکن آج کل کم وقت میں زیادہ شہرت پانے کے لیے سیلفی یعنی اپنی تصویر بنانے اور پھر سوشل میڈیا کے سپرد کرنے کا جان لیوا، مال لیوا، وقت لیوا شوق موت تک کا سودا کر لیتا ہے۔ یہاں تک کہ مشہور شخصیات، بلند و بالا عمارات، پہاڑیوں،خونخوار درندوں، کے ساتھ سیلفی لینے کا شوق اکثریت میں پایا گیا ہے۔ جو کہ موت کا سبب بنتا ہے۔ جاپان کا ایک سیاح مشہور تاریخی عمارت تاج محل میں رائل گیٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سیلفی لینے کی کوشش کے دوران گر کر جان کی بازی یار گیا۔

2014 میں 23سالہ نرسنگ کی طالبہ اسپین میں واقع ایک پل پر سیلفی لینے کی کوشش میں توازن برقرار نہ رکھ پائی اور نیچے جاگری ہسپتال پہنچانے تک وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔ مئی 2015میں رومانیہ کی ایک اٹھارہ سالہ لڑکی اپنی دوست کے ساتھ سیلفی لینے ریلوے اسٹیشن پہنچی کہ انوکھی سیلفی لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر سکے۔ ریل کی چھت پر چڑھ کر بجلی کی تاروں سے ہاتھ لگا بیٹھی اور تاروں میں دوڑتے 27000وولٹ کے کرنٹ نے اس کی ذندگی کا چراغ گل کردیا۔

سیلفی کا مطلب ہے اپنی تصویر خود کھینچنا، تصویر بنانے کا یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب امریکی فوٹوگرافر “روبرٹ کونیئلسن”نے 1839 میں اپنی تصویر بنائی۔ اس کے بعد 1900 میں رشیا سے تعلق رکھنے والی 13سالہ “نکولؤینا” نے شیشہ کی مدد سے تصویر کھینچی جس سے شیشیے کی مدد سے سیلفی کا دور چل نکلا۔ سیلفی کی اصطلاح 2002 میں آسٹریلیا کے ایک اخبار میں استعمال کی گئی۔

غالباً 2003 کی دہائی میں جاپان کی کمپنی “سونی اریکسن” نے z1010 موبائل میں فرنٹ کیمرہ نصب کیا۔ فیس بک و ٹوئٹر سے پہلے سوشل میڈیا ویب سائٹ My space سیلفیوں کا محور بنی رہی۔ 2004 سے 2006 کی دہائی میں فیس بک ٹوئٹر کی آمد سے سیلفیوں میں حیرت انگیز اضافہ دیکھنے کو ملا۔امریکی جریدے کے مطابق سوشل ویب سائٹ انسٹاگرام پر دس بارہ لاکھ سے زائد تصاویر ایسی ہیں جو صرف سیلفیز ہیں۔

انہی سیلفیوں کی بدولت کسی کی عزت و شہرت بڑھ رہی ہے تو کسی کی عزت نیلامی کی حدوں کو چھوتے ہوئے ذلت کا سبب بن رہی ہے۔ سیلفیاں لینے اور سوشل میڈیا پہ چڑھانے کا نشہ عام ہے چاہے وہ سلیبرٹی، اعلیٰ عہدیدار یاپھر متوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہو یہاں تک کہ صدر وزیراعظم بھی اس بخار میں مبتلا ملتے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون ہو یا اوباما، مودی ہو یا پھر ہیلری کلنٹن سب سیلفیاں بنانے کا لطف اٹھا چکے ہیں۔ فلم انڈسٹری ہالی وڈ، لالی وڈ، یا بالی وڈ سب ہی سیلفی کی ترویج و ترقی کے لیے کام کرتے ہیں اور باقاعدہ گانے و فلم، ڈرامے تک بنا دیے ہیں۔

معاشرے میں موجود ہر ہی چیز کے دو پہلو ہیں۔ جہاں وہ چیز فائدہ پہنچا سکتی ہے وہیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ ہر چیز ایک لمٹ ایک حد میں اچھی لگتی ہے۔ لیکن سیلفی کی وباء نے لوگوں کو ایسے جنون میں مبتلا کر دیا ہے کہ آتے جاتے،اٹھتے بیٹھتے،کھاتے پیتے، سوتے جاگتے سیلفی لے کر سوشل میڈیا کے سپرد کر دی جاتا ہے اور لوگوں کی واہ واہ اس شوق کو مزید تقویت پہنچاتی ہے۔

اوہائیو یونیورسٹی کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق سیلفیز کے جنونی لوگ نفسیاتی و ذہنی عوارض کا شکار ہوتے ہیں۔ لندن کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون سیلفیز لینا جلد کو متاثر کر سکتا ہے۔ سمارٹ فون سے نکلنے والی روشنی اور Electromagnetic Radiation چہرے کی جلد کو نقصان پہنچاتی ہیں اور جھریاں نکل آتی ہیں۔

سیلفیز ضرور لیں لیکن احتیاط سے کہ آپ کی یہ سیلفی موت کا سودا تو نہیں کر رہی؟ خاص طور پر خواتین اس بات کا خیال رکھیں کہ معاشرے میں آپ اور آپ کے اہل و عیال کی عزت و وقار کو نقصان تو نہیں پہنچے گا۔ خواتین اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے سے پہلے یاد رکھیں کہ بعض گندے ذہن کے لوگ ان کی تصویر کو خاص تکنیک سے ترتیب دے کر ان کی اور پورے خاندان کی عزت کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ اپنی حفاظت خود کریں۔

سیلفی لینا پرمسرت عمل ہو سکتا ہے مگر بے وقت کی سیلفیاں خود پسندی کی دلدل میں دھکیلتی رہتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ طے کیجئے کہ موقع محل کی مناسبت سے ہی سیلفی لیں گے بے وقت کی سیلفیاں شرمندگی کا باعث بن سکتی ہیں۔ عوامی شعور اجاگر کرنا ہو گا تاکہ اس وباء پر کنٹرول کیا جاسکے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں