شرم تم کو مگر نہیں آتی!

گھر سے نکلی تو موسم کمال کا تھا گرمی کا زور ٹھنڈی ہوائیں توڑ چکی تھیں, لیکن اسلام آباد سے مری تک پہنچتے دل  برا ہو چکا تھا کیونکہ ڈرائیور نے اس قدر سوتیلے پن سے گاڑی چلائی کے نا چاہتے ہوئے بھی من ہی من میں برا بھلا کہتی رہی، آفس پہنچی، سب ٹھیک چل رہا تھا کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک میجر آئیں اور ناشتہ آفر کیا, من برا تھا سوچا چلو ناشتہ کر ہی لیتے ہیں،
ان کے ساتھ انکے آفس کی طرف چل دی,  مجھے انھوں نے اپنے آفس میں بٹھایا اور تھوڑی دیر انتظار کا کہا، سیکنڈ ائیر کا فائنل پیپر تھا،  وہ سی آئی کے ساتھ ایگزام حال کا ایک راونڈ لینے چلی گئیں, اتنے میں این سی بی نے آ کے ٹیبل پہ ناشتہ رکھا, کچھ دیر انتظار کے بعد وہ تیز قدموں سے کمرے میں داخل ہوئیں، رنگ اڑا، آنکھیں لال, میں نے کہا خیریت ہے؟ کسی نے کچھ کہا؟ مجھے دیکھ کر نفی میں سر ہلایا، میں نے کہا یار کچھ تو ہوا ہے اچھی خاصی گئی تھیں آپ،
بھرائی آواز میں بولیں, یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں , ہمارے کل کے معمار, یہ کرینگے تعمیر پاکستان کی, یہ فوج کا فخر ہیں, میں نے کہا ہوا کیا ہے؟

کچھ کہے بنا ڈائیری سے کتاب کے پھٹے صفحات نکال کر میری طرف بڑھائے، میں دیکھ کے سمجھ گئی کے یہ کیا ہے، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولیں، یار پھر کہتے ہیں پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ بولو کیا نہیں دیا؟ انکے ماں باپ آ کر کہتے ہیں ہم پانچ سال تک اپنے بچے تم لوگوں کو امانت دے کر جاتے ہیں, یہ تربیت کرتے ہیں آپ لوگ ؟ یہ تعلیم ہے آپکی؟ ہم پانچ سال دن رات ان پہ مغز ماری کرتے ہیں کہ یہ ہمارا مستقبل ہیں یہ ہمارا کل ہیں، اور  انکو اتنی حیا نہیں کے کتابیں پھاڑ کر سامنے رکھ کر پیپر لکھا جا رہا ہے، چلو نقل کر رہے ہو، شرمندگی تک نہیں , پکڑے جانے پہ حیا نہیں, سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں, ہم کس بات کی محنت کر رہے ہیں مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی، جب انہوں نے یہی کام کرنا ہے تو دوش پاکستان کو کیوں دیتے ہیں, بڑی مشکل سے چپ کروا کر ناشتہ کرایا,اتنی باتیں سن کر میرے سر میں شدید درد شروع ہو چکا تھا, وہاں سے نکلی اپنے آفس آئی , بی پی چیک کرایا دوا لی اور کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر دیں-

کچھ دیر بعد اسٹاف کے درمیان کچھ باتیں چھڑیں، ایک این سی بی بیٹھا تھا, کہنے لگا میڈم ایک کام کرا دیں، میری تنخواہ والی فائل یہ لوگ آگے نہیں جانے دیتے, ہر بار سلپ پھاڑ کر کچرے میں ڈال کر واپس بھیج دیتے ہیں اور کہتے ہیں پے سلپ لگاؤ اپنے افسر کی، اتنے مہینے ہوئے میری تنخواہ نہیں مل رہی, رشوت مانگتے ہیں فائل اوپر بھیجنے کی, میری جیب میں ٹکا نہیں, اسے تو جیسے تیسے کر کے کہا کے چلو اس بار کاغذات مکمل کر کے بھیجو دیکھتے ہیں کچھ نا کچھ , پر دل ایسا خفا ہوا, حلق میں جیسے کڑواہٹ سی بھر گئی ہو, سانس ہی زہر ہو گئی۔
کسی بڑی سیٹ پہ بیٹھنے والے کو کوئی مطلب نہیں کسی غریب کی فائل سے , اس نے دستخط آنکھیں بند کر کے کر دینے ہیں, شرط یہ ہے کے اس کے ٹیبل تک فائل پہنچ جائے, مسلہ اس کے ٹیبل تک جانے سے پہلے اور وہاں سے اٹھا کر لانے پہ ہوتا ہے..اس کے ٹیبل پہ کبھی نہیں ہوتا, جو فائل وہاں پہنچائے گا وہ بھی تنخواہ دار ملازم ہے جس کے گھر کا چولہا چھوٹی سی تنخواہ نے چلانا ہے اور جسکی فائل جائے گی وہ بھی درجن بھر افراد کا اکلوتا کمانے والا ہے, یہ دو لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہیں, غریب ہی غریب کا خون چوس رہا ہے, رشوت لے کر غریب ہی کام کرے گا اور دینے والا بھی اسی کا پیٹی بھائی ہے,ایک دوسرے کا بیڑا غرق اسی طبقے نے کیا ہوا ہے, اور جب تک دینے والے کا انکار لینے والے کا منہ نہیں توڑے گا تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا, پھر دوش پاکستان کا ہی ہوا, کہ یہ ہمیں دے کیا رہا ہے-؟؟

سر درد لے کر ہی آفس سے نکلی سی ایم ایچ گیٹ پہ پہنچی تو میرا موڈ ایسا خراب ہوا کے جی چاہا الٹے قدموں واپس ہو لوں, اداروں میں کسی بھی سیٹ کو اٹھا لو اپنا کام ڈھنگ سے کوئی نہیں کر رہا , جو کر رہا ہے اسکا جینا حرام ہے, اسکی ٹانگیں کھینچنے کے لیے الگ سے بھرتیاں ہوئی پڑی ہیں, ادارے کے کام چھوڑ کر دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل دینا ہی انکی نوکری ہے جس کی تنخواہ پہ یہ اپنی نسلوں کو پالتے ہیں۔ ایسی معلومات اکٹھی کرتے ہیں جو ادارے کے کسی کام آئے نا آئے لوگوں کے۔۔ گھروں کے معاملات درست کرنے یا دو لوگوں کی آپس میں بگاڑ ڈالنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔
میں ہمیشہ گیٹ سے گزرتی ہوں ,وہی شکل وہی حلیہ , وہی میرا کام وہی نام, کبھی پوچھا نہیں گیٹ پر کسی نے روک کر بس لکھ لیا تو ٹھیک ورنہ کیا جاتا ہے, پچھلے کچھ دنوں سے مجھ پہ فوج “مہربان” ہے ,خاص “توجہ” دیتی ہے, نا جانے کس دیالو کو میرا خیال آ گیا کے میں یہاں دو سال سے ٹکریں مار رہی ہوں, ضرور کوئی نیا نیا ہو گا جسے مجھ میں خاص دلچسپی ہو گئی ہو گی, ڈیوٹی پہ وہی پرانے لڑکےـ لیکن کچھ دن سے مجھ سے روز تفتیشی انداز میں سوال کرنے لگے ہیں کل تو حد ہی ہوگئ گیٹ میں داخل ہوئی تو سوال ہوا ,جی میڈم نام… جی رابعہ , اچھا اچھا. رہتی ہیں یہاں؟ جی بلکل ہمیشہ کی طرح-

جی میڈم کہاں سے آ رہی ہیں؟ اس سوال نے میرا میٹر ایسا پھیرا کے میس تک آتے مجھے خود سمجھ نا آئی کہ کیا ہوا ہے, خیر وہاں تو جواب دیا سو دیا کے ڈیوٹی سے ہی آرہی ہوں مگر دماغ اسی سوچ میں تھا کے یہ سوال تھا کیسا؟ اور کیا کیوں گیا؟ اگلے ہی لمحے دماغ میں جھماکا ہوا , کھانا آدھے میں چھوڑ کر اٹھی , اور بھاگتے ہوئے سیڑیاں اتری, سامنے ٹی بار کا لڑکا سی او آفس کی طرف سے ہی آ رہا تھا۔
تنویر سی او کہاں ہیں؟ جی میم ایم آر سی گئے ہیں,کب تک آئیں گے؟ میم کچھ کہہ نہیں سکتا, شاید نا آئیں تین بج گئے ہیں۔
اففوہ! سخت غصے میں اوپر آئی , شہرزاد جو ہمارے میس کے سب کام کرتا ہے, مجھے غصے میں دیکھ کر مسلہ پوچھا , میں نے ساری بات بتائی تو کہا اففف میڈم کل ہی یہاں آپ پہ بات ہوئی ہے, میں تو انتظار کر رہا تھا کے آپ پہنچیں تو مسلہ سی او تک لے جائیں کے آخر یہ ہو کیا رہا ہے یہاں-

بات اتنی ہے کے اداروں میں جسے جس سیٹ پہ رکھا جاتا ہے اس کمبخت کو اپنی سیٹ کا نا تو جائز استعمال آتا ہے, نا اس پہ بیٹھ کے کام آتا ہے, نا اسے اپنی حدود و قیود کا ہی علم ہوتا ہے, نا اپنی جاب ڈسکرپشن پتا ہوتی ہے, نا اسے اپنے حقوق کا پتا ہوتا ہے, اور جب کوئی دوسرا اسے اسکی حدود گنوا دے تو اسے یہ انا پہ حملہ لگتا ہے, بے عزتی محسوس ہوتی ہے, حالانکہ غیرت کا تقاضا یہ ہے کے اسے ڈوب مرنا چاہیے اپنی سیٹ کے ساتھ بے ایمانی کرتے ہوئے, اپنی حدود پھلانگتے ہوئے, کسی کی ٹانگ کھینچتے ہوئے, اداروں کو چاہیے کے بھرتیاں کرتے وقت شفارشی مشٹنڈوں کو اٹھا کر باہر پھینکیں, انکی پیٹھ دیکھ کر نہیں بلکہ انکی قابلیت دیکھ کر انکو رکھیں, سارا “طلاق مال” جمع کر رکھا ہے, جسے اپنا تو کام آتا نہیں, الٹا جو چار لوگ کام کرنے والے ہیں ان کے پیچھے بھی بھوکے کتوں کی طرح پڑ جاتے ہیں, اور یہاں کا تو ایک ہی ڈائلاگ ہے “فوج کا اپنا طریقہ کار ہے فوج کی اپنی ایس او پیز ہیں، فوج یہ فوج وہ”

اصل بات تو یہ ہے کے انکو سیولینز سے خاص قسم کی “محبت ہے” خود تو چوبیس گھنٹے کا رگڑا کھاتے ہیں, بلڈی سیولین نے آٹھ گھنٹے بعد ٹھینگا دیکھانا ہوتا ہے اور تنخواہ پوری جیب میں کرنی ہوتی ہے,
دنیا کی نمبر ون فورس کا عالم یہ ہے کے بم بلاسٹ میں جانیں جائیں تو وہ کولیٹرل ڈیمیج , جبکہ کسی کی پرسنل زندگی میں جھانک تانک انکا فرض العین۔۔

کوئی ش ہوتی ہے کوئی ح ہوتی ہے-

شیئرکریں
mm
رابعہ خزین ایک منفرد لکھاری ہیں جن کی قلم اور الفاظ پر کمال کی گرفت ہے۔ ویسے تو محترمہ میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن قابل ذکر بات ان کا منفرد "فلسفہ محبت" ہے جو اپنے ساتھ میٹھی تلخیوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ رابعہ خزیں معاشرے میں روایتی سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی مہم پر یقین رکھنے والی ایک باصلاحیت فرد ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں