سورۃ کہف اور فتنہ دجال

پس منظر:
……

رومیوں کے زمانے میں بادشاہ کا دین ہی رعایا کا دین ہوتا تھا اور دین بدلنا یا بادشاہ کے طریقے پر اسکی پیروی نہ کرنا ریاست سے غداری سمجھا جاتا تھا. لہٰذا جب رومی شہنشاہ قسطنطین نے عیسائیت کا سینٹ پال ورژن اختیار کیا تو تمام رعایا کیلئے اپنا دین “شفٹ کرنا” فرض قرار دے دیا گیا. یونانی فلسفیوں اور مشرکوں کو جلاوطن کر دیا گیا (یہ لوگ اسلامی ریاستوں کی طرف چلے گئے جہاں انکے فلسفے کو محفوظ رکھنے میں غالی صوفیاء اور متکلمین نے اہم کردار ادا کیا). باقی لوگوں سے زبردستی عیسٰی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دلوایا گیا. تثلیث کے عقیدے کو ماننا لازمی ٹھہرا اور سوال کرنے والوں کو سخت سزائیں دی گئیں. پوپ کا عہدہ تخلیق ہوا اور اسے معصوم قرار دیا گیا. یوں یورپ کلیسا کے شکنجے میں آ گیا اور مذہب کے نام پر استحصال کی “ڈارک ایجز” کا آغاز ہوا.

بعد میں جب اسکے خلاف بغاوت ہوئی تو استبداد کے پنجے میں دبے لوگوں نے آزاد ہوتے ہی نہ صرف عیسائیت بلکہ ہر قسم کے مذہب سے “توبہ کر لی”…

اس موقعے پر 4 اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں:

1. خدائی اور غیبی علوم کو چھوڑ کر کائنات پر غور و فکر اور تحقیق کا آغاز ہوا اور یوں مذہب کی جگہ سائینس نے لے لی.

2. روح کے تصور کو تج کر مادی جسم پر تحقیق شروع ہوئی اور علم الابدان اور طب سے روح کو مکمل دیس نکالا مل گیا.

3. آخرت کے تصور سے جان چھڑا کر دنیا پر توجہ مرکوز کی گئی اور دنیا کو ہی مادی ترقی سے جنت بنانے کا فیصلہ ہوا (اور اس میں پیچھے رہ جانے والوں کیلئے جہنم)

4. اخلاقیات اور قوانین کا منبع وحی کی بجائے منطق اور فکر اجتماعی کو قرار دیا گیا.

اب غور کریں تو ان چاروں جہات میں غیب سے مادیت کی طرف ایک واضح ہجرت نظر آتی ہے:

.. خدائی علوم کی جگہ سائینسی علوم
.. آخرت کی جگہ دنیا
.. روح کی جگہ جسم
.. مذہبی اخلاقیات کی جگہ فکری اخلاقیات

ان میں اخلاقی پہلو سب سے زیادہ متاثر ہوا کیونکہ ایک سٹینڈرڈ نہ ہونے کی وجہ سے ہر کسی کو اچھائی اور برائی کے اپنے پیمانے اختیار کرنے کی آزادی مل گئی اور لازمی ٹھہرا کہ دوسرے کے معیارات سے خواہ آپ متفق ہوں یا نہ ہوں، اسکا احترام البتہ فرض ہے (لبرل ازم).

اسی طرح ہر شخص کو اپنی پسند کا مذہب رکھنے کی آزادی مل گئی لیکن مذہب سے اجتماعی معاملات پر اثر انداز ہونے کی آزادی چھین لی گئی…!!! (سیکولر ازم)

اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اخلاقی معیارات تغیر پذیر ہو گئے. مثال کے طور پر ہم جنس پرستی اگر پہلے غیر اخلاقی فعل تھا تو اب اخلاقی معیارات بدلنے سے یہ عین نارمل اور فطری قرار پایا. (جمہوریت)

یوں غیب سے مادیت کی طرف اس “شفٹ” سے ایک عظیم الشان “ٹیڑھا پن” وجود میں آیا جسے عربی میں “عِوَج” کہتے ہیں.

اب آپ دیکھیں کے دجال کے زمانے میں یہ تمام “ٹیڑھے رویے” اپنے عروج کو پہنچ جائیں گے:

.. سائینسی ترقی اس لیول کی ہو گی کہ وہ چشم زدن میں زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جائے گا.

.. آخرت کا معاملہ دیکھیں تو حقیقی خدا کے مقابلے میں یہ خود کو خدا کہے گا اور اسکی اپنی جنت ہو گی اور اپنی جہنم.

.. طب کا یہ حال ہو گا کہ وہ مردوں کو زندہ کر دے گا
اور

.. اخلاقیات اور قوانین بھی اسکے اپنے ہونگے…!!!

سورۃ کی پہلی 10 آیات اور دجالی فتنہ:
…………

اب دیکھیں کہ اسی “عِوَج” سے سورۃ مبارکہ کا آغاز ہو رہا ہے کہ یہ کتاب جو اللہ نے اپنے بندے پر اتاری ہے یہ ہر قسم کے “ٹیڑھ” کو ختم کرنے آئی ہے.

اسکےساتھ ہی فرمایا کہ اس پر ایمان لانے والوں کیلئے ابدی اجر ہے (آخرت کا حقیقی تصور).

پھر عیسٰی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنانے کے شرک عظیم کی سخت الفاظ میں مذمت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ ہی سارے فساد کی جڑ ہے (جیسا کہ پس منظر میں ہم نے دیکھا).

پھر اس عقیدے کے نقصانات کی شدت کی طرف اشارہ ہے کہ انکا سوچ سوچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان ہی نہ گھلا لیں کہ کیسے انسانیت کو اس عظیم الشان تباہی سے بچاؤں.

پھر لطیف اشارہ ہے کہ اس زمین کی زینت کو انسان (اللہ کی مرضی سے) خواہ کتنا ہی بڑھا لے(خصوصاً دجال کی سرکردگی میں)… لیکن آخر اللہ اسے ایک چٹیل میدان بنا کر قیامت برپا کر دے گا اور دیکھے گا کہ کس نے اصلی خدا کی پیروی کی اور کس نے جھوٹے خداؤں کی…!!!

اور ساتھ ہی اصحاب کہف کا واقعہ شروع ہو جاتا ہے کہ جب دجال جیسے فتنے کی موجودگی میں ایمان کی حفاظت مشکل ہو جائے تو اصحاب کہف کی طرح پہاڑوں اور غاروں کی طرف نکل جاؤ.

اور اگر غلطی سے دجال کا سامنا ہو جائے تو ان آیات کو یاد کر لو اور اسکے سامنے پڑھ دینا…. اسکے شر سے محفوظ رہو گے….!!!

گویا یہ آیات بتا رہی ہیں کہ مادیت کے سیلاب میں جو مومن اس کتاب مبین کو مضبوطی سے تھام کر رکھے گا، صرف وہی غرق ہونے سے محفوظ رہے گا…!!!

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں