ٹاپ سٹی ون: تنازعہ اور حقائق

جڑواں شہر راولپنڈی اسلام آباد کی سب سے بڑے پرائیوٹ ہاوسنگ ٹاپ سٹی ون کے ماضی اور موجودہ تنازعہ کا تاریخی پس منظر:

چودہ پندرہ برس قبل اسلام آباد کے علاقے ایف ٹین میں افتخار علی وقار نامی ایک پراپرٹی ڈیلر زمینوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا کرتا تھا، اسکا شمار بڑے ڈیلرز میں نہیں ہوتا تھا مگر کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک خاص صلاحیت یہ تھی کہ وہ بظاہر سستی اور غیر معروف محلِ وقوع کی حامل اراضی کے سنہرےمستقبل کو اپنی جوہر شناس نگاہوں سے پہچان لیا کرتا تھا جس کی بنا پر وہ اکثر نسبتاً دور دراز اور غیر معروف لوکیشنز پر چھوٹی انویسٹمنٹ کرکے معقول منافع کما لیا کرتا تھا، افتخار علی وقار کو پہلی نمایاں کامیابی سُپریم کورٹ ہاوسنگ سوسائٹی میں سر مایا کاری کرکے حاصل ہوئی۔

دو ہزار چار کے اوائل میں کہ جب ابھی نیو اسلام آباد ائرپورٹ کاغذوں میں ہی تھا، افتخار علی وقار کی مستقبل شناس نگاہوں نے وہاں کی بنجر قدیم اراضی کی اصل قدروقیمت کو بھانپتے ہوئے وہاں ٹاپ سٹی ون پروجیکٹ کی داغ بیل ڈالی، افتخار علی وقار اس وقت تک بہت زیادہ مالدار نہیں تھا اور وقتاً فوقتاً اپنے رشتہ داروں اور واقف کاروں کو بھی سرمایہ کاری کے مشورے دیتا رہتا تھا، بتایا جاتا ہے کہ اُس نے مختلف اوقات میں برطانیہ میں مقیم اپنی سب سے بڑی بہن زاہدہ اسلم سے بھی لگ بھگ اسیِ لاکھ روپے کی رقم سرمایہ کاری کیلئے مستعار لی۔

ٹاپ سٹی ون پروجیکٹ لانچ ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ زاہدہ اسلم نےاپنے بھائی سے رقم کی واپسی اور سرمایہ پر منافع میں حصہ مانگا مگر افتخار علی وقار نے اپنی کاروباری مشکلات کا بتا کر وقتی طور پر زاہدہ کو ٹال دیا، اس دوران افتخار علی وقار جو شادی شدہ اور بال بچے دار شخص تھا بتدریج ایسے مشاغل کا شکار ہوتا چلا گیا جو زیادہ پیسے آجانے پر غیر محتاط طرز زندگی اور مالی و اخلاقی کمزوری کا سبب بن جاتے ہیں، شراب و شباب کے ساتھ ساتھ وہ ہیروئن جیسے مہلک نشے کا شکار ہوگیا، کہا جاتا ہے کہ ان ہی دنوں اس نے دوسری شادی بھی کرلی جس سے اُسکی صحت اور مالی حالت کے ساتھ ساتھ گھریلو زندگی بھی بُری طرح متاثر ہونے لگی۔

اسی دوران زاہدہ برطانیہ سے واپس آئی اور اس نے بھائی  کے بکھرتے ہوئے معاملات کو سمنبھالنے کے نام پر کچھ اہم اقدامات اُٹھائے جس میں اس نے گھر کی بڑی ہونے اور افتخار علی وقار کے تباہ ہوتے ہوئے معاملات کو راہ راست پر لاکر اسکے بچوں کے مستقبل کو تحفظ دینے کے استدلال پر کسی طرح اپنے ہیروئن کی لت کے شکار بھائی پر اپنا ذاتی اور خاندانی دبائو ڈال کر اسُکا تمام کاروبار بشمول ٹاپ سٹی ون اپنے نام پر منتقل کروا لیا جسکے بعد زاہدہ نے افتخار علی وقار کے دفتر کا انتظامی کنٹرول سنبھال کر افتخار علی وقار کا دو، تین لاکھ روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرکے اسُکو کاروباری امور سے الگ کردیا۔

کچھ ہی عرصے میں افتخار علی وقار جسکے ذاتی اخراجات بہت بڑھ چکے تھے کو اندازہ ہوا کہ اسکی بہن نے دباو ڈال کر اسکو اسکے کاروبار سے مکمل طور پر بیدخل کردیا ہے اور اسکے ساتھ دھوکہ ہوگیا ہے، اس نے با اثر لوگوں سے مدد مانگنا شروع کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اسکو اسکا کاروبار جس پر اب اسکی بڑی بہن زاہدہ کا مکمل کنٹرول تھا واپس دلوایا جائے، اسی دوران اپریل دو ہزار اٹھ میں افتخار علی وقار نے اپنی بہن زاہدہ کے ہاتھوں زچ ہو کر بلآخر اسلام آباد کے ایک مشہور اسپتال کے سامنے عوام کے درمیان خود کشی کی کوشش کی اور زخمی حالت میں چند دن اسپتال میں گزار کر انتقال کرگیا، بعد ازاں افتخار کے خاندانی زرائع سے معلوم ہوا کہ مرنے والے کا ارادہ صرف اپنے اپ کو زخمی کر کےکاروبار پر قابض بہن پر جذباتی دباو ڈالنا تھا مگر بدقسمتی سے وہ اپنی جان سے چلا گیا۔

اس ڈرامائی صورتِ حال کے گھمبیر نتائج سامنے آئے اور ایک طرف زاہدہ کا کاروبار پر کنٹرول ختم ہونے لگا تو دوسری طرف ٹاپ سٹی ون کے ابتدائی الا ٹیز اور مارکیٹ کا اعتماد بُری طرح ڈگمگانے لگا، پروجیکٹ کی زمینوں پر قبضے ہونے لگے اور کاروبار کا شیرازہ بکھر گیا، اس دوران زاہدہ اسلم جو ‘قانونی طور’ پر اپنے مرحوم بھائی کے کاروبار کو اسُکی زندگی میں ہی اوپر بیان کئے گئے معروضی حالات میں ٹیک اور کر چکی تھی اور بھائی  کی خود کشی کے بعد تباہ ہوتے ہوئے کاروبار کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہی تھی نے کچھ عرصے بعد اپنے حلقہِ اثر کے ذریعے کاروبار کو سمنھالنے اور بیچ دینے کے آپشنز پر کاربند ہوگئی اسی دوران زاہدہ نے کراچی کے رہائشی ڈاکٹر نوشاد نامی اپنے ایک قابلِ بھروسہ شخص جو پیری مریدی بھی کرتے تھے سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں زاہدہ کی مدد و رہنمائی کرے۔۔۔

کراچی کے رہائشی کنور قسیم الدین خان جو پُرانے مسلم لیگی رہنما اور محمد خان جونیجو کے دور میں ممبر قومی اسمبلی رہنے والے کنور قطب الدین خان کے بڑے بھائی ہیں اور، او جی ڈی سی ایل کے بڑے کانٹریکٹر شمار کیے جاتے تھے کا سب سے چھوٹا بیٹا کنور معیز احمد خان جو انجینیر بننے کے بعد کچھ عرصہ تک اپنے بھائیوں کےساتھ والد کے قائم کردہ کاروبار سے منسلک رہا ہمیشہ سے خود اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر کامیابیاں حاصل کرنا چاھتا تھا کی کراچی میں ڈاکٹر نوشاد سے شناسائی تھی اور یہی شناسائی معیز کو ڈاکٹر نوشاد کے توسط سے اسلام آباد لے آئی، کہا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر دو ہزار نو، دس کے دوران معیز اور زاہدہ کے درمیان ڈاکٹر نوشاد کی اربیٹریشن سے ایک پاور آف اٹارنی تفویض کی گئی جس کے تحت ٹاپ سٹی ون کا کچھ حصہ معیز کو منتقل کیا گیا اور معیز نے پروجیکٹ کے انتظام کو سنبھالنا شروع کیا، اُس وقت ٹاپ سٹی ون کی صورتِ حال یہ تھی کہ بڑی تعداد میں الا ٹیز افتخار علی وقار کے دور میں کی گئی بکنگ اور پیمنٹس ڈوب جانے کے خدشات میں مبتلا تھے کیونکہ پروجیکٹ کی زمینوں پر معروضی حالات میں زیادہ تر ناجائز قبضے ہو چکے تھے، معیز خان اور اسکی ٹیم کی قانونی کاوشوں سے بتدریج پہلے مرحلے میں قبضہ شدہ اراضی کو واگذار کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ ساری صورت حال سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے بعد دو ہزار گیارہ میں ایک فائنل ڈیل ہوئی  جسکے تحت ایک خطیر رقم کے عوض زاہدہ اسلم جو اُس وقت برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ میں مقیم تھیں نے برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانہ کی معرفت ایک قانونی گفٹ ڈیڈ کے ذریعے مکمل پروجیکٹ کی ملکیت معیز کے نام منتقل کر دی، کیونکہ اس دوران معیز خان پاکستان اور زاہدہ اسلم برطانیہ میں مقیم تھیں لہذہ یہ تمام قانونی لکھا پڑھی برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانہ اور پاکستان کے دفترِ خارجہ کے توسط سے انجام پائی  اور ٹاپ سٹی ون کی مکمل مصدقہ ملکیت قانونی طور پر معیز خان کو منتقل ہو گئی۔

معیز خان کو مقامی طور پر ایک موثر ٹیم کی ضرورت تھی اور اسی دوران اسُکی ملاقات راولپنڈی اسلام آباد میں روزنامہ امن کیلئے عرصہ دراز سے کام کرنے والے ملک زاہد محمود اور منیر انجم سے ہوئی اور یہ دونوں افراد معیز خان کی ٹیم کا حصہ بن کر پروجیکٹ کے لینڈ کے معاملات چلانے پر مامور کئے گئے، کئی سالوں کی صبر آزما اور سخت محنت کے بعد ناصرف ٹاپ سٹی ون کی قبضہ شدہ اراضی واپس پروجیکٹ کو مل گئی بلکہ ڈیولپمنٹ کا کام شروع ہونے سے الا ٹیز اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور معیز خان تیزی سے پروجیکٹ کی ملحقہ اراضی خرید کر ٹاپ سٹی ون کو مزید توسیع دینے کے عمل میں مشغول ہوگیا۔

ایک جانب نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کی تیزی سے تکمیل اور دوسری جانب ٹاپ سٹی ون پروجیکٹ کے عین وسط میں سے ائرپورٹ جانے والی کشمیر ہائی وے کی منظوری اور تعمیر کے آغاز سے پروجیکٹ اور پلاٹوں کی قیمتوں میں انتہائی تیزی کا رحجان پیدا ہو چُکا تھا اور ٹاپ سٹی ون کے الا ٹیز اپنی اس خوشحالی کا کریڈٹ بجا طور پر معیز خان کو دینے لگے تھے، دو ہزار سولہ کے اوائل میں معیز خان کے علم میں ایسی اطلاعات آئیں کہ ملک زاہد محمود اور منیر انجم کچھ اندرونی مالی بے ظابطگیوں میں ملوث ہیں پہلے انکی باز پُرس کی گئی مگر بلآخر اگست دو ہزار سولہ میں باقائدہ اخبارات میں اشتہار دیکر عوام کو ان دونوں کی نوکری سے برخواستگی کی اطلاع اور ٹاپ سٹی ون سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا۔

ملک زاہد محمود اور منیر انجم ٹاپ سٹی ون کی ٹیم میں شمولیت سے کافی عرصہ قبل ہی ایم کیو ایم پنجاب کے نمایاں عہدے دار تھے اور ایم کیو ایم کے اکثر ارکانِ پارلیمان ان کے توسط سے اسلام آباد میں مہمان ہوتے تھے، ایم کیو ایم ان دنوں پیپلز پارٹی کی زیرِ قیادت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ تھی، اسی دوران طاہرالقادری صاحب نے اسلام آباد میں دھرنا لگایا اور حکومتِ وقت نے مختلف سیاسی رہنماؤں پر مبنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی جس کا ایک حصہ اُس وقت کے رکُن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی اور دیگر اراکین اکثر اپنے دوستوں اور جاننے والوں کے گھروں پر ملاقاتیں کیا کرتے تھے کیونکہ ریڈ زون میں مظاہرین کی موجودگی کی وجہ سے پارلیمنٹ لاجز تک رسائی محفوظ نہیں تھی، انہی دنوں میں حیدر رضوی نے ٹاپ سٹی ون میں قائم ملک زاہد محمود اور منیر کے ڈیرے کا بھی دورہ کیا جسکی تصاویر آج کل میڈیا پر دیکھی جاسکتی ہیں۔

ٹاپ سٹی ون کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور زمین کی قیمتوں میں اضافے نے معیز خان کیلئے بہت سے حاسد اور نادیدہ دشمن پیدا کردئیے تھے اور اگست دو ہزار سولہ میں وقوع پزیر ہونے والے دو اہم واقعات نے معیز خان کے دشمنوں کو ایک ایسا شاندار منصوبہ سازی کا موقع فراہم کیا کہ جس پر عمل درآمد کر کے با آسانی معیز خان کو پروجیکٹ سے بیدخل کیا جاسکے اور پروجیکٹ پر نظر رکھنے والی قوتیں عین اُس وقت ہاتھ صاف کریں کہ جب اسکی قدروقیمت اپنے عروج پر پہنچ رہی ہو، منصوبہ سازوں نے نہایت مہارت سے ضروری اجزائے ترکیبی کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کیا، بیشک مزید پیسے اور لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی، اگست دو ہزار سولہ میں ایک طرف ملک زاہد محمود اور منیر انجم ٹاپ سٹی ون کی نوکری سے برخواستگی اور ایم کیو ایم لندن اور پاکستان کی تقسیم کو بہت مہارت سے اس کہانی سے اس طرح جوڑا گیا کہ زاہدہ کے مشیر اور ہمدرد بن کر نادیدہ قبضہ مافیا نے ایک درخواست تیار کروائی جس میں معیز خان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے زاہدہ سے چھ سال قبل جو معاہدہ کیا تھا وہ زور زبردستی کے تحت تھا، یہاں یہ سوال قابلِ غور ہے کہ معاہدے کے وقت زاہدہ برطانیہ میں تھیں اور معیز پاکستان میں رہتے ہوئے کیسے اس کو دباو میں لا سکتا تھا؟ دوسری طرف ملک زاہد محمود جو کہ ایم کیو ایم پنجاب کا پُرانا عہدے دار اور اوپر تفصیل سے بیان کئے گئے ماضی میں ایم کیو ایم کے سرکردہ لوگوں کے ساتھ سماجی ملاقاتوں کا محرک و منتظم تھا، نوکری سے نکالے جانے کی وجہ سے معیز سے سخت نالاں تھا اسکو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا اور ایک سہ جہتی حکمتِ عملی ترتیب دی گئی، ایک طرف زاہدہ کی جانب سے درخواست میں معیز کو مبینہ طور پر چھ سال پہلے زبردستی معاہدے کا الزام، دوسری جانب حال ہی میں منقسم ہونے والی ایم کیو ایم لندن سے جوڑنے کا الزام لگایا گیا جسکے لئے ملک زاہد محمود وغیرہ نے پُرانی تصاویر اور غلط معلومات فراہم کر کے تفتیش کاروں کو غلط سمت دکھائی اور تیسری جانب ٹاپ سٹی ون کے قُرب و جوار میں بدنام لینڈ گریبرز کو متحرک کر کے ٹاپ سٹی ون کی ملکیتی زمینوں پر بزورِ اسلحہ قبضوں کا عمل شروع کردیا گیا۔

چودہ اپریل دو ہزار سترہ کو ٹاپ سٹی ون سائٹ پر اس منصوبہ میں شامل مقامی قبضہ مافیا نے مسلح حملہ کیا جس میں دوطرفہ فائرنگ کے نتیجے میں پروجیکٹ کا ایک مزدور محمد علی گولی لگنے سے جانبحق ہوگیا اور صورتحال مزید کشیدہ ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ اچانک بارہ مئی کو صبح سویرے حساس ادارے نے معیز خان کے گھر پر چھاپہ مارکرمعیز اور کراچی سے مہمان آئے ہوئے اسکے سّتر سالہ بوڑھے اور بیمار سُسر عبد رزاق بھامانی سمیت گھر میں موجود تمام مردوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ معیز کے تمام لائسنس یافتہ اسلحہ، گھر میں موجود زیورات، نقدی اور پروجیکٹ کی ملکیتی کاغذات کو بھی اٹھا لیا گیا، اسی انداز میں پروجیکٹ کے دیگر چیدہ چیدہ ملازمین کو انکے گھروں سے اٹھایا گیا جبکہ پروجیکٹ سائٹ پر موجود ملازمین کو مار پیٹ کر سائٹ سے بیدخل اور مقامی قبضہ مافیا کو غیر قانونی طور پر مکمل سائٹ پر قابض کروا دیا گیا، اگلے دن تمام نمایاں ٹی وی اور اخبارات میں اس چھاپے کے حوالے سے یہ خبر چلی کہ ٹاپ سٹی ون کے مالک معیز خان کو لندن الطاف گروپ کا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار کرکے دہشت گردی کی نیت سے جمع کیا گیا بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرلیا گیا، یاد رہے یہ خبریں باظابطہ طور پر کسی سرکاری ادارے کی جانب سے نہیں بلکہ ان خبروں کےالفاظ زاہدہ اسلم کی درخواست کے متن پر مبنی تھے جس میں معیز پر سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے، اگلے چھ روز تک گرفتار شُدگان کی کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی اور اٹھارا مئی کو راولپنڈی کاونٹرٹیریرزم ڈیپارٹمنٹ نے پنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ناجائز اسلحہ کی دہشت گردی میں ممکنہ استعمال کے شُبہ میں معیز خان اور پروجیکٹ کے کلیدی اسٹاف کو پیش کردیا گیا اور انکی گرفتاری سترہ مئی کی ظاہر کی گئی مگر معیز کے سّتر سالہ بیمار سُسر عبد رزاق بھامانی کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا، معیز کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ معیز اور اسکے سُسر کی جان کو شدید خطرہ لاہق ہے کیونکہ دورانِ حراست معیز خان سے بزورِ تشدد کئی کاغذات پر دستخط کروائے گئے ہیں اور انہیں اندیشہ ہے کہ ان کاغذات کی مدد سے پروجیکٹ پر معیز خان کی ملکیت کو متنازعہ بنایا جاسکتا ہے۔۔۔

گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا پر ٹاپ سٹی ون کے حوالے سے چلنے والی خبروں کے بعد جس میں حیدر عباس رضوی کو مبینہ طور ایم کیو ایم لندن سے جوڑا جا رہا ہے آج ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ حیدر رضوی (لندن نہیں بلکہ) ایم کیو ایم پاکستان کے منتخب رُکنِ رابطہ کمیٹی ہیں اور انکی جماعت (ٹاپ سٹی ون) کی زمیں اور کاروباری تنازعہ میں انکو ملوث کرنے کی تردید، مذمت اور غلط تاثر پھیلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، اس وضاحت کے بعد اب ان خدشات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ معیز خان کے خلاف لگائے جانے والے یہ الزامات درحقیقت ٹاپ سٹی ون پروجیکٹ کی زمیں کو ہتھیانے کی ایک منظم سازش ہے جس میں بدقسمتی سے ریاستی اداروں کو گمراہ کرکے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ ۲۲ اگست کے واقعہ کے بعد ملک میں لندن گروپ اور الطاف حسین کے نام کے ساتھ جوڑے جانے والے ہر معاملے کو اتنی ہی حساسیت سے دیکھا جاتا ہے جیسے کسی بلاسفیمی کے کیس کو دیکھا جاتا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں