ملتے ہیں ضلع بونیر سے فضل غفور صاحب کیساتھ

 

میں ایسی بحثوں سے اجتناب کرتا رہتا ہوں ، لیکن کچھ مذہبی ٹھیکدار ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ خود رمضان کا پاس رکھتے ہیں اور نہ دوسروں کو رکھنے دیتے ہیں ۔ اس لیے پیشگی معذرت ان بزرگوں اور دوستوں سے جو مجھے جانتے اور میری  مزاج سے واقف ہیں۔

مفتی فضل غفور صاحب کیساتھ میرا براہ راست تعلق نہیں ہے اورنہ  کبھی موصوف کے حوالے  سے پوسٹ اور کمنٹس کئے ہیں  بلکہ کئی دفعہ جائز تنقید سے بھی احترار کیا ہے۔ اگر ایک طرف ایک عام سیاسی ورکر کے طور پر ایک فرد مفتی فضل غفور صاحب جیسے ضلعی سطح کے ذمہ دار کا اتنا لحاظ رکھتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تو دوسری طرف موصوف کا ’’چہرہ‘‘ یہ ہے  کہ ذمہ دار ہوتے ہوئے بھی ذمہ داری کا مظاہر ہ نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات تنقید کرتے ہوئے ایسے رخ اور راستے  پر نکل جاتے ہیں جس سے  غالب امکان ہوتا ہے کہ شائد یہ طرز تکلم جے یو آئی کے عام کارکنان اور بالخصوص دینی مدارس کے طلباء کے لیے متشدانہ رویہ اختیار کرنے اور عدم برداشت کا سبب بن جائے۔ نیز موصوف علاقائی سطح پر سوشل میڈیا پر متنازعہ  بیانات اور مبالغہ آرائی میں کافی شہرت حاصل ہے (یہ الگ تفصیل طلب موضوع ہے)

مفتی فضل غفور کو سمجھنے اور ان کی سوچ، سطحیت اور فرقہ پرستانہ رویہ کا اندازہ لگانے بہت سارے دیگر ثبوت اور پوسٹیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن سردست ان کی حالیہ پوسٹ (سوسائٹی ایکٹ پر ردعمل) پڑھئے گا کہ کسی سیاسی جماعت کا ضلعی سربراہ ، جو ممبر اسمبلی بھی ہے، نیز دین سے خصوصی نسبت  رکھتے ہوئے  ’’عالم دین‘‘ کا ٹائٹل بھی  ساتھ لگا ہو، اتنی ’’غیرسنجیدگی‘‘ کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟ کیا یہی رویہ فرقہ پرستی اور متشددانہ رویوں کو جنم دینے کا باعث نہیں بن رہا؟

مفتی فضل غفور نے ’’فرقہ وارانہ‘‘ رویوں کو اتنا پروان چڑھا دیا ہے کہ مختلف گاوں اور علاقوں میں ’’ٹولیوں‘‘ میں نظر آنے والے اس کی جماعت کے کارکنان بھی ایک طرف دین کے ’’ٹھیکدار‘‘ نظر آئیں گے تو دوسری طرف فرقہ واریت، تعصب اور منافرت کا سبب بن رہے ہیں ۔بونیر جیسا علاقہ جہاں ایک زمانہ میں روس سے متاثر کامریڈانہ سوچ رکھنے والوں کی بہتات تھی لیکن فضا اتنی مکدر نہیں تھی جتنی آج بن گئی ہے۔  فتوی گیری اور مناظرہ بازی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے کہ سیاسی اختلاف  کو باقاعدہ فقہ اور مذہب کا معاملہ بنا کر ’’منافرت‘‘ میں تبدیل کردیا  گیاہے۔ 2012  میں جب میں  پاکستان میں موجود تھا اور پچھلے سال (اکتوبر، نومبر 2016)پاکستان جانے کے موقع پر بخوبی اندازہ ہوا کہ بونیر اس وقت کس طرف جا رہا ہے۔ (یاد رہے کہ لوگوں کیطرف سے ان پر یہ الزام بھی لگایا جارہاہے کہ بونیر آپریشن کے بعد سے ہی مفتی صاحب کو مقامی طور اسٹبلشیمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے  جبکہ جے یو آئی کے مقتدر حلقے اوپر سے مالی سپورٹ کررہے ہیں ،لیکن جب مجھے اپنے طور پر یقین  اورمعلومات   نہ ہو تو ایسے الزامات پر یقین نہیں رکھتا، چاہے وہ کسی پر یہودیت کا الزام ہو یا کوئی دوسرا تیسرا)

اب آتے ہیں حالیہ معاملہ کی طرف،جس میں موصوف کی ’’روایتی‘‘بوکھلاہٹ، منافرت اور فرقہ وارنہ سوچ کی جھلک نظر آرہی ہے۔  موصوف مدارس رجسٹریشن ایکٹ بل پر صوبائی وزیر پر تنقید کے لیے کن کن الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں؟ (تنقید اس کا حق ہے اور ضرور کریں لیکن جن الفاظ اور خطاب کا طریقہ انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے وہ میری سمجھ سے بالاتر ہے بلکہ  مجھے تو ایسا لگا جیسے کسی مدرسے کی ابتدائی کلاس کے بچے کی پوسٹ ہو ۔ یقین نہیں آرہا ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کا ضلعی امیر اتنا بھی غیر سنجیدہ ہوسکتا ہے۔نیز غلط بیانی کے لیے کچھ بھی کرجاتے ہیں حالانکہ یہ بل سوسائٹی ایکٹ 1860 (مدارس رجسٹریشن بل انڈسٹریل ڈیپارٹمنٹ کے پی کے) نے گزشتہ چند سالہ  کوشش کے نتیجے میں تیار کیا ہے۔ بلکہ  ایک باخبر فرد نے مجھے بتایا کہ  اس بل کے مندرجات  باقاعدہ وفاقی حکومت (شائد نیشنل ایکشن پلان کے بعد اسی پر مشترکہ کام ہوا ہوگا) کی طرف سے صوبے کو موصول ہوئےہیں ۔وہی مرکزی حکومت جس میں مفتی فضل غفور صاحب کی پارٹی کے پانچوں انگلیاں اندر ہیں اور مضبوط اتحادی کا کردار ادا کررہی ہے ۔ اب کوئی مفتی صاحب اور جے یو ائی والوں سے پوچھے کہ مرکزی حکومت سے ذرا بازپرس  تو کریں لیکن  ابھی الیکشن میں ایک سال باقی ہے  اورشائد حکومت سے نکلنے سے ’’جمہوریت ‘‘ کے خلاف کسی سازش یا  نقصان  کا پیش خیمہ ثابت نہ ہو، اس لیے گریز کیا جائے گا۔ اور جب جماعت  اسلامی نے اتحادی حکومت سے نکلنے کی دھمکی دی تو جمعیت علماء کے بعض ’’بچے‘‘ اسے ٹوپی ڈرامہ قرار دینے لگے ۔ چلیں مفتی صاحب کی جماعت مرکزی حکومت کو ایسی دھمکی تو دیکر دکھائے ؟۔ یہ بل موجود ہ اسمبلی سے منظوری کے لیے پیش ہونے گیا (بہت سارے بلز میں سے کچھ پہلے سے مشاورت اور تصحیح کے لیے کمیٹیوں کے سپرد کئے جاتے ہیں اور کچھ جب پارلیمان میں پیش ہونے کے بعد اگر کوئی پوائنٹ نکالے یا کسی دوسرے معاملے کی صورت میں اسپیکر ایک کمیٹی بناکر اس کے سپرد ہوتے ہیں ) اسی طرح اس بل  کے لیے بھی بعد میں مشاورت اور رائے جاننے کے لیے ایک کمیٹی بنانی پڑی۔  اس کمیٹی کے لیے جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی اور جے یو آئی کے مولاناحسین احمد بطور کمیٹی ممبر منتخب ہوئے تھے۔ دونوں علماء کرام نے بل پراپنے تحفظات سے کمیٹی اور بعد میں سنئیر صوبائی وزیر عنایت اللہ کو آگاہ کیا ۔ چونکہ کابینہ اجلاس میں  براہ راست بل پیش ہونے پر احتجاج بھی کیا تھا کہ کابینہ کو ڈائریکٹ ایک بل نہیں ٓاسکتا  اور ہمیں  اعتماد میں نہیں لیا گیا (امکان ہے کہ وفاقی حکام اور اداروں کی طرف سے خصوصی ہداہات اور پریشر کی وجہ سے ایسا ہوا ہوگا۔ واللہ اعلم)۔ بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے یہ طے ہونا چاہیے تھا اس وجہ سے بل سلیکٹ کمیٹی کے پاس چلا گیا۔ صوبائی وزراء اور مولانا عبدالاکبر چترالی سے  مشاورت کے بعد صوبائی امیر مشتاق احمد خان  نے اپنے تحفظات کا اظہار باقادہ پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے کہا کہ متفقہ متحدہ علما بورڈ کی مشاورت کےبغیرکوئی بل تسلیم نہیں کیاجائےگا، نیز متحدہ علما بورڈکی منظوری کے بغیر بل پاس ہونے پر صوبائی حکومت چھوڑنے سے گریز نہیں کرینگے۔نیز جماعت اسلامی کا یہ بھی مطالبہ سامنے آیا ہے 2010 میں رحمن ملک کیساتھ مدارس رجسٹریشن کا جو فارمولہ طے ہوا تھا اسی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔نیز مختلف کمیٹیوں  سمیت کابینہ میں آنے والے  بلز  سے ہٹ کر ایک نیا بل پیش ہوا جوکہ وعدہ خلافی  ہے اس پر بھی اپنی تحفظات کااظہارکیا ۔

مفتی فضل غفور صاحب کی غیر سنجیدگی اور روایتی مخالفت تو سنیئر وزیر عنایت اللہ خان  اور جماعت اسلامی کا مزاق اڑانے ،سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ سے کیا جاسکتا ہے۔ موصوف کے طریقہ واردات میں سے ایک سوشل میڈیا پر مسلکی بنیاد پر ’’اختلافی‘‘ مسائل کی بنیاد پر تنقیدی پوسٹیں کرنا ہے ۔ نیز مرکزی قیادت سمیت دینی مدارس کے پلٹ فارم کو بھرپور انداز سے استعمال کرتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ کے ذمہ داران کو ایسا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں  جیسے کے پی کے اسمبلی میں تمام ممبران اسلام اور مدارس دشمن ہیں اور بس وہ واحد کامل مسلمان وہاں  میدان میں موجود ہے ۔ حالانکہ مدارس کے تمام بورڈز کی تنظیم ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ میں موجود ایک بورڈ کا تعلق جماعت اسلامی سے بھی ہے جس کے ناظم اعلیٰ مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن سے جب اس حوالے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اس پر ہم صوبائی جماعت اور حکومت سے رابطہ میں ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے جماعت اسلامی کے وزراء اور صوبائی قیادت اس سے  باخبر اور دلچسپی رکھتے ہوئے اپنے حصے کا کام کرتی ہے، جس میں کمی بیشی اور انسانی غلطی کا امکان و شائبہ تو ہوسکتا ہے لیکن لاپرواہی اور دینی مدارس کے خلاف سوچنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ( نیز اس سے پہلے نصاب ترمیمی بل  پرجماعت اسلامی کے وزراء کے مضبوط اسٹینڈ کی وجہ سے تبدیل کرنا پڑا تھا)

لیکن اسے ایک طرف ایمان و کفر کا مسئلہ بنانا یا  سیاسی اختلاف کو مسلکی و فرقہ وارانہ رنگ دینا کہاں کی دانشمندی اور حق گوئی ہے؟ تنقید کرنا ہو تو شائستگی اور دلیل کیساتھ ہو لیکن جب اہل ممبر و محراب ہی ایسے الفاظ استعمال کریں تو کہنے کو کیا رہ گیا؟

مفتی فضل غفور اور ان کی جماعت  بل کی آڑ میں جماعت اسلامی پر کوئی پرانہ نزلہ نکالنے سے بہتر ہوتا کہ بل کے محرکات اور پس پردہ لوگوں کے عزائم اور قانونی غلطیوں کی نشاندہی کرتی۔

اول:          ایک قابل اعتماد ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس بل  کے لیے موقع فراہم کرنے میں  جمعیت علماء اسلام ہی کے ممبر اسمبلی مفتی سید جنان صاحب  کا ایک’ پرائیویٹ ممبر بل ‘ ہے، یاد رہے کہ سید جنان صاحب بعد میں اسپیکر کی منتخب کردہ کمیٹی کے ممبر بھی بن گئے تھے۔

دوم:         وفاقی حکومت  اور متقدرہ ادارے ، جی ہاں   ! جے یو آئی کی قیادت اور مفتی فضل غفور اسمبلی فلور پر یہ جسارت کریں کہ اس بل  میں وفاقی حکومت یا مقتدرہ اداروں کا کوئی کردار نہیں ، یا قومی اسمبلی پر جے یو آئی کی قیادت اس پر ایوان سے پوچھ کر وفاقی حکومت اور اداروں سے اعلان لاتعلی کروادیں؟ مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا نہیں کرینگے۔

سوم:         موجودہ بل سے ہٹ کر وفاقی حکومت سے مطالبہ کریں کہ 2010 میں وزیر داخلہ رحمن ملک کیساتھ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کا جو معاہدہ اور فیصلہ ہوا تھا اسی کی روشنی میں مدارس رجسٹریشن اور اصلاحات نافذ کئے جائیں۔

چہارم:      لیبر اور انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کا مدارس کیساتھ کیا تعلق ؟ چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ سوسائٹی ایکٹ 1860 کیوجہ سے  مدارس کو بھی شامل ہوگیا لیکن جو قواعد  وضوابط اور آڈٹ سمیت دیگر امور کو دیکھنے سے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے مدارس بھی فیکٹریاں ہیں ۔کیا جے یوا ٓئی کو اس پر آواز  نہیں اٹھانا چاہیے تھا؟

پنجم:         مدراس رجسٹریشن اور بالخصوص بنک اکاونٹس اوپن کرنے کے حوالے سے دو سال پہلے  مجھے خود قاری حنیف جالندھری نے وزیر داخلہ کے بار بار حکم کے باوجود اسٹیٹ بنک کی طرف سے اجازت نہ ملنا پریشانی کا اظہار کیا تھا۔ اب مفتی صاحب اس کا ذمہ دار بھی جماعت اسلامی کو ٹھہرائیں گے؟

ششم:       مفتی صاحب نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدارس پر پاکستانی حکومت اور اداروں کی طرف سے مدارس اصلاحات اور بالخصوص ’’نصابی‘‘ اصلاحات پر ہونے والے اقدامات پر بھی کچھ اسمبلی فلور پر بولنے کی جسارت کرینگے؟ یااس کے خلاف کوئی قرارد دار لانے کی ذمہ داری اٹھائیں گے؟

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں