افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدہ کا متن

مقدمہ

چونکہ جنگ کا خاتمہ، پائیدار امن و صلح اور ملک میں عدل و انصاف کا قیام پوری افغان قوم کا بنیادی تقاضا ہے اور یہی سربلند، آزاد، خودمختار اور ترقی یافتہ افغانستان کی بقا اور ارتقا کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے ملک کے ہر فرد، سارے اسٹیک ہولڈرز (Stake Holders) اور تمام جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہم دست و بازو ہو کر ان مشکل اہداف کی تکمیل کے لیے مل کر کام کریں۔

ملک کے موجودہ حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ مسلط کردہ جنگ، بدامنی، عدم استحکام اور بے انصافی کے عوامل کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ضرورت ہے کہ سب لوگ باہم مل کر ان تمام عوامل کا مقابلہ کریں جو افغانستان کی ملی وحدت، خودمختاری، قومی حاکمیت و سالمیت اور امن کے لیے خطرہ ہو۔ ملکی نظام عوام کا خدمت گار ہو اور اس نظام کو عوام کی حمایت حاصل ہو۔ تمام سیاسی، لسانی و مذہبی تنظیموں کے لیے ملک کے بنیادی قوانین اور تمام اسلامی و ملی تہواروں کا احترام لازمی ہو۔ ان اہداف کو مدنظر رکھ کر اسلامی جمہوریہ افغانستان اور حزب اسلامی افغانستان نے مندرجہ ذیل ۲۵ نکات پر اتفاق کیا ہے۔

باب اول: بنیادی اُصول

۱۔ فریقین اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان اور اسلام کے مقدس دین پر مکمل یقین رکھتے ہوئے ہمیشہ اپنے آپ کو اس بات کا پابند سمجھتے ہیں کہ اس دین کے عمدہ اصولوں کی غیر مشروط اطاعت اپنا نصب العین بنائیں۔

۲ فریقین کا یہ عقیدہ ہے کہ دینی اصول اور رہنمائی ہی تمام قوانین اور ریاستی فیصلوں کی بنیاد ہوں گے، بالکل ایسے ہی جیسے کہ ملک کے اساسی قانون کا سیکشن دوئم اور سیکشن سوئم حکم دیتا ہے (کہ اسلام کا پاک دین ہی اسلامی جمہوریہ افغانستان کا دین ہوگا۔ اور افغانستان میں ایسا کوئی قانون نہیں ہوگا جو اسلامی احکامات اور اعتقادات کے خلاف ہو)

۳۔ فریقین اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ افغانستان کے سب باشندے یکساں قانونی حقوق اور ذمہ داریاں رکھتے ہیں۔ قانون ہی ہر مرد و زن کے حقوق و فرائض کا ضامن ہوگا۔ متحدہ افغانستان تمام افغان قوموں کا مشترکہ گھر اور قومی حکومت عوام کا مسلمہ حق ہے، جسے وہ براہِ راست یا منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے چلائیں گے۔

۴۔ اس حالت میں کہ قومی حکومت کا استحکام اور ملک کے وسیع تر مفاد کا حصول دونوں فریقین کا ہدف ہے، فریقین کو یقین ہے کہ افغان قوم اتحاد و یکجہتی کے ذریعے موجودہ بحران اور دھمکیوں کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

بیرونی افواج کے انخلا کے بارے میں فریقین کا اپنا اپنا موقف ہے۔ حزب اسلامی افغانستان اس معاہدے میں اپنے بنیادی اصولوں کے مطابق پُرزور انداز میں بیرونی افواج کے انخلا کے لیے معقول ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کرتی ہے۔

دوسرا باب: فریقین کے عہد و پیمان

(حصہ اول) اسلامی جمہوریہ افغانستان کا عہد

۵۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اس معاہدہ پر دستخط کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل، تمام رکن ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے سرکاری طور پر اس بات کا تقاضا کرے کہ جنگ کی دائمی اختتام اور مکمل صلح اور امن کے قیام کی خاطر حزبِ اسلامی افغانستان، اس کے سربراہ اور ارکان پر لگائی ہوئی تمام پابندیاں جلد ختم کی جائیں۔ افغان حکومت اس بات کی پابند ہوگی کہ اس سلسلہ میں تمام وسائل بروئے کار لاکر حزب اسلامی کے قائد اور ان کے ممبران کے خلاف تمام قوانین/پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کرے۔

۶۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان اس عہد نامہ پر دستخط کے ساتھ ہی سرکاری طور پر یہ اعلان کرے گی کہ محترم قائد حزب اسلامی اور ان کے دیگر اہم ذمہ داران پورے ملک میں جہاں چاہیں ملکی قوانین کے مطابق پوری آزادی کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور حکومت اس امر کی پابند ہوگی کہ اس کام کی تکمیل کے لیے مناسب ماحول پیدا کرے۔

۷۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان یہ عہد کرتا ہے کہ سرکاری طور پر یہ اعلان کرے کہ وہ اساسی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام سیاسی اور اجتماعی معاملات میں حزب اسلامی افغانستان کی شمولیت کا حق قبول کرے اور اس کے اجرا کے لیے ہر قسم کا تعاون فراہم کرے۔ حزب اسلامی افغانستان کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ صدارتی، پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے اور اپنے نمائندگان کا انتخاب کرے۔

۸۔ افغان حکومت عہد کرتی ہے کہ ملک کی سیاسی، سرکاری اور معاشرتی تنظیموں سے مشاورت کے ذریعے الیکشن کمیشن میں مزید بہتری کے لیے شرائط طے کرے گی اور اس سلسلے میں مناسب تجاویز بھی پیش کرے گی۔ اسی طرح حکومت پابند ہے کہ حزب اسلامی افغانستان سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی فعال شمولیت کے لیے لائحہ عمل وضع کرے۔ نیز حکومت انتخابی اصلاحات کے ضمن میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابی نظام تشکیل دے۔ اس نکتے کی مزید تفصیل اور اس پر عملدرآمد، مشترکہ ایگزیکٹیو کمیٹی اور دونوں طرف کے ذمہ داران کے مشترکہ اجلاس کو سونپی جارہی ہے۔

۹۔ افغانستان میں صلح کے قیام اور جنگ آزادی و جہاد میں محترم گلبدین حکمت یار کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سراہتے ہوئے صدر افغانستان خصوصی آرڈیننس کے ذریعے خصوصی اعزاز سے نوازیں۔ اس سلسلے میں پروٹوکول کے عہدیداران حزب اسلامی کی مشاورت سے سپریم مصالحتی کونسل کی جانب سے متعین کرکے ایوانِ صدر کو ارسال کریں گے۔

۱۰۔ حزبِ اسلامی کے سربراہ ملک کے اندر رہائش کے لیے دو یا تین مناسب جگہوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ رہائش گاہ کے مناسب انتظامات، ضروری سیکورٹی کی پلاننگ کے لیے معقول اخراجات کا بندوبست حکومت کے ذمہ ہوگی۔ ضروری انتظامات کی تفاصیل کا تعین اس معاہدے کے لیے بنائی گئی کمیٹی مشترکہ طور پر کرے گی۔

۱۱۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان اس معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی یہ اعلان کرتا ہے کہ حزب اسلامی کے قائد اور دیگر ارکان کو ان کے کسی بھی سابقہ سیاسی یا عسکری کارروائی پر انہیں عدالتی تحفظ حاصل ہوگا۔ اسی طرح اسلامی جمہوریہ افغانستان یہ عہد کرتا ہے کہ حزبِ اسلامی کے وہ تمام قیدی جن کے نام منظور شدہ فہرست میں شامل ہیں اور جو کسی قسم کے غیر سیاسی اور غیر عسکری جرائم مثلاً منشیات، قتل، اغوا میں ملوث نہ ہوں اور نہ ان کے خلاف کسی نے کوئی شخصی دعویٰ کیا ہو، کو جلد رہا کیا جائے گا (اس کی مدت تین ماہ سے زیادہ نہ ہوگی) اس سلسلے میں ایک خصوصی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے گا، حزبِ اسلامی کا وفد بھی اس کا حصہ ہوگا۔

حزب اسلامی افغانستان عہد کرتی ہے کہ رہا ہونے والے افراد نہ حکومت کے خلاف محاذ جنگ میں جائیں گے اور نہ ہی کسی غیر قانونی مسلح یا دہشت گرد گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان معاملات کی دیکھ بھال اور اس میں پیش آنے والے ہر قسم کے اختلافات کو نیک نیتی سے حل کے لیے کمیٹی کو پیش کیا جائے گا۔

۱۲۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان اور صدر افغانستان یہ عہد کرتے ہیں کہ ریاست کے تمام اہم سیاسی تنظیمی اور عملی اُمور کے مشاورتی عمل میں حزب اسلامی کے رہنما کو شریک کیا جائے گا۔ اس فیصلے کی نگرانی مشترکہ ایگزیکٹیو کمیٹی کی جانب سے ہوگی۔

۱۳۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان اپنے آپ کو پابند سمجھتا ہے کہ ریاستی فیصلوں میں حزب اسلامی کی شمولیت اور شراکت داری کے لیے مناسب شرائط وضع کی جائیں گی اور اس کے لیے مناسب اور معقول طریقہ کار ایگزیکٹیو کمیٹی کے ذریعے مشترکہ طور پر بنایا جائے گا جسے حتمی فیصلے کے لیے طرفین کی قیادت کے حوالے کیا جائے گا۔

۱۴۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان عہد کرتا ہے کہ حزب اسلامی کے وہ ارکان اور کمانڈر جو قانونی اہلیت رکھتے ہوں اور کام کرنا چاہتے ہوں ان کو سیکورٹی اور دفاعی اداروں میں کام دیا جائے گا۔ نیز حکومت عہد کرتی ہے کہ معاشرہ میں ان کی باعزت اور دائمی قیام کے لیے مناسب لائحہ عمل وضع کیا جائے گا۔ اس نکتے کی مزید تفصیل مشترکہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے فورم سے طے کی جائے گی۔

۱۵۔ حزبِ اسلامی افغانستان کے وہ سرکاری افسران جنہوں نے ماضی میں ریاستی اداروں میں خدمت سرانجام دی ہو، اگر وہ قانونی اسناد یا ثبوت فراہم کرسکیں تو ان کی ملازمت بحال کردی جائے گی۔ نوکری سے الگ ہونے سے اب تک کا دورانیہ ملازمت کے ساتھ شمار سمجھا جائے گا اور ترقی اور پنشن قانونی شرائط کے مطابق ادا کی جائے گی۔

۱۶۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان یہ عہد کرتا ہے کہ نصرت مینہ (شمشتو مہاجر کیمپ پشاور) کے مکینوں سمیت ایران اور پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے مسائل کے حل اور ان کی رضاکارانہ اور باعزت واپسی پر کابل اور دوسرے صوبوں میں موثر اور مستقل رہائش کے لیے موثر اور وسیع اقدامات کیے جائیں گے اور بشمول اراضی ان کے لیے ضروری اقدامات اپنے ذمے لے رہا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پابند ہے کہ پہلے قدم کے طور پر بیس ہزار افغان مہاجر خاندانوں کو رضاکارانہ طور پر اقوام متحدہ کی مدد کے ذریعے واپس لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ نیز حکومت حزب اسلامی کے شہدا اور زخمیوں کے ساتھ دیگر شہدا اور زخمیوں کی طرح مدد کرے گی۔ اس نکتے کو مشترکہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔

۱۷۔ اس معاہدے کے ساتھ ہی حزب اسلامی کے وہ ارکان یا منسوبین کی جو وطن سے باہر ہیں، وطن واپسی اور سکونت عمل میں لائی جائے گی۔

(حصہ دوم) حزبِ اسلامی افغانستان کا عہد

۱۸۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان اور سپریم مصالحتی کونسل کی طرف سے اس عہد نامہ پر دستخط کے بعد حزبِ اسلامی افغانستان یہ اعلان کرے گی کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد، جنگ کے مکمل خاتمے، دائمی امن و صلح کے قیام کے لیے ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے کام کرے گی۔ وہ ملک کے بنیادی قوانین کا احترام اور مکمل جنگ بندی کی پابند ہوگی۔ ہر قسم کی عسکری سرگرمیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے منصوبے کے مطابق اپنے عسکری ونگ کو ختم کردے گی۔ اسی طرح حزب اسلامی اس معاہدے پر دستخط کے ساتھ اپنے پاس موجود تمام قیدیوں کو جلد سے جلد حکومت کے حوالے کر دے گی۔ حکومت کے ذمہ ہے کہ حزب اسلامی کے ارکان کی سیکورٹی کے لیے مناسب تدابیر اختیار کرے۔

۱۹۔ حزبِ اسلامی افغانستان اس معاہدے پر دستخط کے بعد پابند ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں اور غیر قانونی مسلح تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کے روابط نہیں رکھے گی اور نہ ہی اُن کی مدد کرے گی۔

۲۰۔ حزبِ اسلامی افغانستان اپنے آپ کو پابند سمجھتی ہے کہ ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے اپنے عوام کے دفاع اور پورے ملک میں دائمی امن کے قیام کے لیے اسلامی جمہوری ریاست افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرے اور ایک باقاعدہ قانونی تنظیم کی حیثیت سے مرکز اور دوسرے صوبوں میں اپنے دفاتر قائم کرے۔

۲۱۔ حزبِ اسلامی افغانستان اپنی دینی اور تاریخی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھ کر مستقل امن کے قیام کی کوششوں کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس سلسلے میں سپریم مصالحتی کونسل کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔

(حصہ سوم) متفرقہ

۲۲۔ یہ معاہدہ ایک اہم سرکاری دستاویز کی حیثیت سے سپریم مصالحتی کونسل کی وساطت سے اسلامی جمہوریہ افغانستان اور حزب اسلامی افغانستان کے مابین دستخط کے فوراً بعد نافذالعمل ہوگا۔ کسی بھی ایک فریق کی جانب سے اس میں تبدیلی یا اضافے کی تجویز فریقین کی رضامندی سے اس میں شامل کی جائے گی۔

۲۳۔ اس معاہدے کی پاسداری اور اس پر عملدرآمد کرنے کے لیے طرفین ایک مشترکہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے بنانے پر متفق ہیں جوکہ طرفین کے باصلاحیت نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔ یہ کمیٹی سپریم مصالحتی کمیٹی کے ساتھ ہم آواز ہوکر عمل کرے گی۔

۲۴۔ اس معاہدے پر کسی بھی طرح کے ممکنہ اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں طرفین دوستوں کے مشوروں اور مذاکرات کے ذریعے نیک نیتی کے ساتھ اس مشترکہ کمیٹی کے اندر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کے ارکان دونوں اطراف سے منتخب کیے جائیں گے۔

۲۵۔ یہ معاہدہ تین ابواب اور پچیس نکات پر مشتمل ہے۔

واللہ ولی التوفیق۔
بشکریہ معارف فیچر

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں