صد سالہ تاسیس کانفرنس اور سوشل میڈیا سیمینار

پچھلے دنوں جمعیت علماء اسلام نے پشاور میں سوشل میڈیا سیمینار کا انعقاد کیا تھا۔ صوبائی سیکرٹری اطلاعات جلیل جان صاحب کی کاوشوں سے منعقد ہونے والے اس سیمینار کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کارکنوں کو سوشل میڈیا پر جماعتی کام کے لیے “موٹی ویٹ” کیا جا سکے۔ چونکہ اپریل میں جمعیت علماء اسلام اپنی تاسیس کے حوالے سے صد سالہ کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہی ہے اس لیے ان دنوں بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور سندھ میں کارکنوں کو کانفرنس اور اس کے مقاصد کی تشہیر کے لیے مختلف عنوانات سے جمع کیا جاتا ہے تاکہ اس اہم کانفرنس کے اغراض و مقاصد سے آگاہی فراہم کی جائے۔ پنجاب کی جماعت فی الحال اس پس منظر میں کہیں دکھائی نہیں دے رہی لیکن امید ہے کہ جلد وہاں بھی ایسی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی۔ ہم بات کر رہے تھے پشاور میں منعقدہ سوشل میڈیا سیمینار کی، خاکسار کو ڈاکٹر مفتی شوکت اللہ خٹک صاحب نے آخری وقت میں حکم دیا کہ سیمینار میں پہنچوں۔ جماعت کا کام اور جماعت کا حکم تھا اپنی مصروفیات درمیان میں چھوڑ کر پشاور جا پہنچا۔ دیر ہو گئی تھی لیکن خوش قسمتی سے مہمان خصوصی مولانا عبد الغفور حیدری صاحب کی آمد سے پہلے پہنچ گیا۔ حسن اتفاق کہیں کہ جس وقت میں وہاں پہنچا اس وقت دیگر مہمانوں کی تقاریر ہونے کے بعد مہمان خصوصی کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ روسٹرم سے اعلان ہوا کہ مہمان خصوصی کی آمد تک ہال میں موجود احباب اگر کوئی تجویز پیش کرنا چاہیں تو موقع میسر ہے۔ اندھا کیا مانگے، دو آنکھیں۔ خاکسار نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو گزارشات وہاں پیش کی تھیں وہ کچھ ترمیم کے ساتھ افادہ عام کے لیے پیش کر رہا ہوں۔ ۱۔ کسی بھی جماعت کا کارکن سائبر سپیس میں اگر جماعتی پیغام پھیلانا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے حلقہ احباب میں فقط اپنی جماعت کے لوگ جمع نہ کرے کیونکہ اپنے ہی حلقے میں اپنا پیغام پھیلانے کا مطلب گنبد میں بیٹھ کر اپنی آواز کی گونج سننے کے مترادف ہے۔ اس سے انجمن ستائش باہمی تو بن سکتی ہے لیکن جماعت کا پیغام پھیل نہیں سکتا۔ ۲۔ جب آپ اپنے حلقے سے باہر اپنا پیغام پھیلائیں گے تو آپ کو سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا، الزامات سننے پڑیں گے، اچھی بری تنقید کا جواب دینا پڑے گا، جس کے لیے ضروری ہے کہ آپ وسعت ظرفی ، وسعت مطالعہ اور عمدہ اخلاق سے لیس ہوں۔ وگرنہ فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ ہے۔ ۳۔ مولانا اور جماعت کی دینی خدمات بے شمار ہیں لیکن فقط دینی خدمات کا تذکرہ ایک محدود طبقے کو متوجہ تو کر سکتا ہے لیکن اس کا سیاسی میدان میں فائدہ نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ مزدور، کسان، ریڑھی بان، موچی، نائی اور ملازم پیشہ افراد کا مسئلہ دین نہیں بلکہ رات کی روٹی پوری کرنا ہے، ان کے مسائل بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی سے جڑے ہیں، انہیں تعلیم، صحت اور روزگار چاہیے اور یاد رکھیے جمہوری نظام میں لوگ ووٹ انہی مقاصد کے لیے دیتے ہیں، دین تو وہ تبلیغی جماعت اور دینی مدارس سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ دینی خدمات پر آپ کو عقیدت مل سکتی ہے لیکن ووٹ نہیں۔ اس لیے اگر آپ نے ووٹ لینا ہے اور حکومت میں آ کر اسلامی نظام کا نفاذ کرنا ہے تولوگوں کو بتائیں کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے آپ کی کیا خدمات ہیں۔ ۴۔ مولانا اگر امام کعبہ کی امامت کرتے ہیں یا ساری دنیا کے مسلمان انہیں نماز میں اپنا امام چنتے ہیں تو اس پر فخر ضرور کیا جائے لیکن مولانا کے کردار کو اس دائرے میں محدود نہ کیا جائے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ایک جمہوری ملک کے سیاسی رہنما کی کارکردگی امامت، علمیت اور تقوی سے جانچی ہی نہیں جا سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ جماعتی کارکن مولانا اور جے یو آئی کے ترقیاتی منصوبے، عوامی خدمات اور پولٹیکل اپروچ کو اجاگر کریں۔ ۵۔ سوشل میڈیا میں فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، گوگل، واٹس اپ اور دیگر چینلز بھی انتہائی کار آمد ہیں۔ جے یو آئی بمشکل فیس بک پر کسی حد تک نظر آتی ہے۔ ٹویٹر اور یو ٹیوب پر کام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ دو ہزار لفظوں کی ایک تحریر کی نسبت دو منٹ کا ویڈیو کلپ زیادہ مفید ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس میدان میں کام نہیں ہو رہا۔ ۶۔ صد سالہ کانفرنس دراصل علمائے دیوبند کی عدم تشدد کی پالیسی کو اون کرنے اور اس کی تجدید کی ایک کوشش ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہم مفتی کفایت اللہ دہلوی سے لے کر مولانا فضل الرحمن تک اپنے سارے اکابر کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں، اسے اجاگر کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ سو سال میں ہمارے اکابر نے برصغیرکے اربوں لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور کونسے میدانوں میں ان کی رہنمائی کس انداز میں کی۔ سیمینار میں ڈاکٹر مفتی شوکت اللہ خٹک صاحب نے اس مقصد کے لیے چند کتب کا مطالعہ تجویز کیا تھا، کمنٹ باکس میں ان کے نام لکھنے لگا ہوں۔ مولانا عبدالغفور حیدری صاحب نے عمدہ اخلاق اپنانے پر زور دیا۔ مذہبی سیاسی جماعت سے تعلق کے ناطے بہت ضروری ہے کہ ہم رد عمل کا شکار ہو کر بدزبانی و بدگوئی یا تصادم کی راہ اختیار نہ کریں بلکہ نرمی اور محبت سے اپنا پیغام دوسروں تک پہنچائیں۔ جلیل جان صاحب اور دیگر ذمہ داران سے درخواست ہے کہ ان سیمینارز کا دائرہ پھیلائیں اور جماعتی کارکنوں کی تربیت کے لیے بار بار ایسے اجتماعات کا اہتمام کریں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں