باچا خان سے میری عقیدت

گذشتہ دنوں مجھے ایک صاحب نے خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان سے نفرت کے اظہار میں ای میل بھیجی ، بہرحال حسن ِ ظن سے کام لیتے ہوئے میں اُن صاحب کا نام نہیں لکھ رہا۔لیکن ان کی ای میل جیسی لاتعداد ای میل اسی موضوع پر بھی آتی رہتی ہیں ، اس لئے مناسب سمجھا کہ ان تمام حضرات کو اجتماعی طور پر اپنا موقف بیان کرسکوں ۔ ماننا یا نا ماننا ان کی مرضی ہے ،ای میل میں موصوف مجھے مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”محترم قادر خان صاحب آپ قوم پرست پٹھان لگتے ہیں اس لئے غفار خان جیسے ملک دشمن شخص کے گیت گاتے ہیں۔جس نے اس پا ک وطن کی مٹی میں دفن ہونا پسند نہیں کیا ، اُس کے لاکھ دیوانے سہی، وہ کون سا لمحہ ہے جس میں اُس نے پاکستان توڑنے کی بات نہ کی ہو، ا‘س میں لاکھ خوبیاں سہی ، کون نہیں جانتا اس سارے خاندان کو۔جو معلوم نہیں مسلمان بھی ہیں تھا یا نہیں، جو ہندوکا پٹھو اور مسلمانوں کا دشمن تھا ۔ قادر صاحب کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ اپنا نام قادر خان پاکستان رکھ لیں ، کم ازکم اس بہانے برائے نام ہی سہی آپ کی حب الوطنی تو ظاہر ہوگی۔”
میرے معصوم قاری ، کیا آپ نے اپنی ای میل دوبارہ پڑھی کہ آپ لکھ کیا رہے ہیں ، آپ ایک عالم دین کو نعوذ باللہ کافر کہہ رہے ہیں ، جس نے پختون قوم کے بچوں اور بچیوں کو اسلامی تعلیم سے روشناس کرانے کےلئے انگریز دور اقتدار میں دینی مدرسے کی بنیاد رکھی ، جس پر انھیں انگریز حکومت نے گرفتار کیا ۔” نوجوانان اصلاح افغانیہ کے نام سے ، تعمیری و تعلیمی و دینی مدرسے کو اگر انگریز بند کرا رہا ہے تو آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ باچا خان کی سوچ سے کس قدرخائف ہوگا ۔ ہمیشہ مخالفین کا باچا خان پر اعتراض ہوتا ہے کہ انھوں نے پاکستان میں دفن ہونا پسند نہیں کیا ۔ ایسے لاکھوں افراد ہیں ، جو اپنی وصیت کے مطابق دفن ہوتے ہیں ،مولانا محمد علی جوہر بھی تو پاکستان میں دفن نہیں، وہ بھی رام پور کے پختون تھے۔شیر شاہ سوری جیسا عظیم پختون حکمران نے افغانستان کے بجائے سہسرام بھارت میں دفن ہونا پسند کیا، سر سید احمد خان کے اجداد بھی افغانستان کے صوبہ ہرات سے آئے تھے وہ بھی پختون تھے، دو قومی نظریئے کے بانی وہ بھی پاکستان میں دفن نہیں۔یہ پختون ہی تھے جن کی بدولت دہلی پر مسلمانوں نے سات سو صدیوں پر محیط حکومت کی اس میں ساڑے تین سو سال پختونوں کی حکمرانی کے شامل ہیں۔ مسلمانوں کی نااتفاقی سے مغل حکمران دہلی تک محدود ہوئے۔ جنرل بخت خان ایک حریت پسند پختون تھا، اس نے پوری قوت سے1857کی جنگ آزادی میں روح پھونکنے کی کوشش کی لیکن کمزور قیادت کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا۔
پاکستان کی تحریک آزادی میں امیر حمزہ شنواری بابائے پشتو غزل، معروف محقق و نقاد دوست محمد خان کامل مہمند، علامہ عبدالعلی اخوانزادہ، فضل اکبر احمد غازی، خان میر بلالی، سابق گورنر محمد اسلم خان خٹک، عبدالحلیم، فضل اکبر بے غم، سابق گورنر ارباب سکندرخان خلیل، ارباب خان ارباب، عبدالزاق حکمت، میر احمد صوفی، قمر زمان راہی اور پیر گوہر و پختون حریت پسند ہیں جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔حاجی صاحب ترنگزئی، عمرخان ایپ، عبدالغفور کاکاجی اور ملا نج الدین المعروف اڈے ملا صاحب، میاں گل عبدالودود اور سرتور فقیر وغیرہ وہ حریت پسند ہیں۔جنھوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے۔لیونے فلسفی’غنی خان بابا‘کی اس نظموں نے تو سارے پختونخوا میں ایک دھوم مچا دی تھی۔1947میں والئی سوات میاں گل عبدالودود نے پاکستان سے الحاق کی درخواست کی لیکن اسے پاکستان میں انتظامی طور پر شامل نہیں کیا گیا، والی سوات نے پاکستان سے محبت میں1947میں پاکستان کو جنگی جہاز تحفے میں دیا جس پر میاں گل جہانزیب کا نام لکھا ہوا تھا اور پاکستان کا جھنڈا پرنٹ تھا۔ کراچی میں وفات ہونے والے اپنے گاﺅں ، بیرون ملک ساری زندگی رہنے والے ، پاکستان ، پاکستان کے مسلمان جنت البقیع میں دفن ہونا چاہتے ہیں۔ ، ان سب باتوں کو چھوڑیں ، پاکستان 1947میں تقسیم ہندوستان کی وجہ سے وجود میں آیا ۔ باچا خان مسلمانوں کی تقسیم کے خلاف تھے ، لیکن جب 1940میں قرار داد لاہور( پاکستان) میں یہ طے پایا گیا کہ جہاں جہاں مسلم اکثریتی علاقے ہیں ، وہاں مسلم مملکتیں قائم ہونگی ، تو وہاں بھی پاکستان کا نام نہیں تھا ۔یہ سب پاکستان بننے سے پہلے کی باتیں ہیں جو تاریخ میں موجود ہیں ، انھوں نے1940کی قرار داد کے مطابق یہ نظریہ دیا کہ جس طرح سندھ میں اسمبلی کو الحاق کا حق دیا گیا تو معیار ایک ہونا چاہیے ، لیکن خدائی خدمت گار کی حکومت صوبہ سرحد ، موجودہ خیبر پختونخوا میں قائم تھی ، ان سے نہیں پوچھا گیا بلکہ ریفرنڈم کا اعلان کردیا ، پنجاب میں سکھوں نے پاکستان کا ساتھ دیکر پنجاب کو ہندوستان میں شامل ہونے سے بچایا ۔بلوچستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی کہ برٹش بلوچستان کو پاکستان میں شامل کیا گیا ، جس کے بعد علیحدگی پسندو ں کی تحریک شروع ہوئی ، پاکستان کو کرم خوردہ پاکستان ملا ۔ بہرحال باچا خان اپنی صوبائی حکومت ہونے کے باوجود اس بات پر بھی راضی ہوگئے کہ پختون قوم سے ریفرنڈم ہی کرانا ہے تو پھر ایسا کریں کہ پاکستان ، ہندوستان یا پھر اپنا خود مختار ملک کا آپشن شامل کردیں ، جس پر جواب ملا کہ پاکستان یا ہندوستان ،۔ جس پر خدائی خدمت گاروں نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کردیا ۔ پاکستان بن گیا ، کہ ایک طرف مغربی پاکستان ، درمیان میں بھارت اور پھر مشرقی پاکستان۔نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں نکلا ۔
پاکستان کی شمالی مغربی پٹی برٹش حکومت سے ایک معاہدے کے بعد پاکستان میں ہی شامل رہ گئی ۔ ڈیورنڈ لائن کے مسئلے سے تو واقف ہونگے۔ تاہم ان باتوں سے قطع نظر باچا خان نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں پاکستان سے وفادرای کا حلف اٹھایا اور پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن بنے۔ ذرا مطالعہ کرلیں کہ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں کیا کہا تھا ، ان کا واضح کہنا تھا کہ اب پاکستان میرا وطن ہے میںاس کو وطن تسلیم دل وجان سے میں اس کو قبول کرتا ہوں ۔اس کے بعد قائد اعظم نے کھوٹے سکوں کے غلط مشوروں پر صوبہ سرحد میں گورنر راج قائم کردیا ، غلط مشوروں پر بنگال میں اردو زبان کا تنازعہ پیدا ہوا۔ انگریزوں سے آزادی کی تحریک میں باچا خان نے انگریز نکالو کو جدوجہد میں حصہ لیا ، کانگریس نے دھوکہ دیا تو انھیں کھری کھری سنا دیں ، قائد اعظم نے خود تسلیم کیا کہ ان کے جیب میں کھوٹے سکے ہیں ، اردو زبان کے تنازعے کا فائدہ اٹھاکر بھارت نے نے مشرقی پاکستان کا سقوط کرادیا کہ آج تک محب الوطن جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماﺅں کو پھانسی کی سزا دی جا رہی ہے۔کیا خیبر پختونخوا سے کبھی علیحدگی پسندی کی کوئی تحریک اٹھی ، باچا خان کو انگریزوں نے اتنی مدت جیل میں نہیں رکھا ، جتنا پاکستان کی حکومتوں نے رکھا ،46سال کا عرصہ جیل میں گذارا۔ علیحدگی کےلئے نہیں بلکہ صوبائی خودمختاری اور پاکستان کی عوام کے حقوق کےلئے ۔ عدالت میں انھوں نے جو پاکستان کے حق میں جو تاریخی بیان دیا کیا وہ کبھی نظروں سے گذرا ، کیا آپ اور آپ جیسوں نے ان کی طرز زندگی اور سیاسی جدوجہد کا مطالعہ کیا ۔ جو شخص اپنے ہاتھ سے بنے دو جوڑے کپڑے لیکر سارہ زندگی اُس قوم کو عدم تشدد کی تعلیم دیتا رہا ، جس قوم کا زیور ہی بندوق ہے۔ کیا ایسا انقلاب کہیں دیکھا ، کیا لیاقت باغ میں خدائی خدمت گاروں پر پاکستان میں نہتے پختونوں پر گولیاں چلائیں ، کیاکوئی انتقام لیا ۔ پختون تو وہ قوم ہے کہ دشمنی میں ، دشمن کے گھر سے نکلی مرغی کو بھی جان سے مار دیتی ہے کہ دشمن کو تکلیف پہنچے ۔ سانحہ بابڑا ، پختون قوم کا کربلا جیسا واقعہ ہونے کے باوجود کیا باچا خان نے انتقام کا راستہ اپنایا ۔ آخری دم تک اپنے لئے سیکورٹی نہیں رکھی ، ان کے صاحبزادے نے خدائی خدمت گاروں کے عدم تشدد کے فلسفے کی وجہ سے ننگیالئے نامی تنظیم کی بنیاد رکھی کہ کم ازکم شر پسند خدائی خدمت گاروں کو نقصان نہ پہنچا سکیں ۔ اس پر بھی باچا خان نے ناراضگی کا اظہار کیا ۔
پاکستان کے قیام کے بعد وڈیروں ، جاگیرداروں ، سرمایہ داروں نے حکومت پر قبضہ کرلیا کہ ابھی تک پاکستان کی تمام سیاست و حکومت و اختیار ان ہی وڈیروں ،خوانین ، جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کے قبضے میں ہے ، جو ایک آزاد مملکت میں اپنے فیصلے کرنے کے بجائے پاکستان کے دشمنوں کی اجازت و پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں ، پاکستان میں امریکہ کی مرضی کے بغیر چپڑاسی بھی بھرتی نہیں ہوتا۔ کیا آپ دل میں ہاتھ رکھ کر کہو کہ کیا پاکستان آزاد ہے؟۔آج بھی پاکستان عالمی طاقتوں کی شطرنج کی چالوں کا شکار ہے۔لیکن مجھے کوئی ایک ایسا بیان بتا دیں کہ باچا خان نے قیام پاکستان کے بعد دیا ہو ، کبھی علیحدگی پسندی کی بات کی ہو ، اپنے پیروکاروں کو پاکستان کے خلاف نفرت پر اکسایا ہو۔ دنیا کی کوئی طاقت ثابت نہیں کرسکتی کہ انھوں نے کبھی بھی پاکستان کی سا لمیت کے خلاف بات کی ہو ، قرار داد لاہور 1940کے بعد طے ہوا تھا کہ جہاں جہاں مسلم اکثریتی علاقے ہیں وہاں مسلم مملکتیں قائم ہونگی ، اس قراداد لاہور کو جو منٹو پارک میں ہوا تھا ، بعد میں قرار داد پاکستان کا نام دے دیا گیا ، کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد صرف ایک مملکت کا قیام عمل میں آیا ۔پاکستان سے زیادہ مسلمان بھارت میں ہی رہ گئے ۔ آپ نے کہا کہ میں قادر خان پاکستان اپنا نام لکھا کروں ، تو آپ واقعی تاریخ سے ناواقف ہیں ۔قائد اعظم نے جب پاکستان کا نام کی منظوری دی تو اس میں پ، پنجاب ، الف ، افغانیہ ، ک کشمیر، س ، سندھ، ن ، بلوچستان کے لئے صوبوں کے نام قومیت پر رکھے ، مغربی پاکستان کا الف ، میرے نام کا حصہ ہے ، قادر خان افغان ، میری حب الوطنی ہے کہ میری جان ، مال سب کچھ پاکستان کے لئے ہے۔ میرے وطن پر اگر خدانخواستہ بھارت سمیت افغانستان بھی میلی نگاہ سے دیکھے گا تو میں اپنے وطن پر جان نچاور کرنے والوں میں شامل ہونگا ، محترم آج تک2600کلومیٹر طویل بارڈر کی حفاظت کون کرتا رہا ہے ، آئی ڈی پیز بن کر کس نے قربانی دی ، تحریک آزادی میں انگریزوں سے کون لڑا ، کن شہیدوں کی قربانی سے پاکستان بنا ، کبھی اس پر بھی تاریخ میںپڑھ لیں ،پختون اس سرزمین کو اپنی ماں کہتا ہے جہاں اس کا جینا و مرنا ہے ۔ افغانستان اگر ہمارا دل ، پاکستان ہماری روح ہے۔ لیکن پاکستان کے لئے دل ، دماغ جسم سب قربان ۔یہ سبق ہمارے باچا خان نے دیا ہے اور یہی میری عقیدت کی وجہ ہے آپ مانو یا نہ مانو ، میں باچا خان بابا کا عقیدت مند اور خدائی خدمت گار ہوں ۔ باچا خان بابا راسخ العقیدہ سچے مسلمان و پاکستانی تھے اور ان کا خاندان بھی !!
خدارا کفر اور وطن فروشی کے فتوﺅں کے کارخانے بند کرو ، اللہ تعالی نے فرمایا کہ تم سے تمھارے اسلاف نہیں تمھارے اعمالے بارے پوچھا جائیگا

شیئرکریں
اسسٹنٹ میگزین ایڈیٹر؍کالم نویس؍تجزیہ نگار؍فیچر رائیٹر؍ نمائندہ خصوصی روزنامہ جہان پاکستان ۔کراچی۔لاہور۔اسلام آباد.- ملتان سابقہ کالم نویس روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ نوائے وقت

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں