اہم ٹاک شوز کا جائزہ

پچھلے ہفتے ٹاک شوز میں سب سے زیادہ  تین موضوعات پہ گفتگو ہوئی۔ جن میں سے دو (راحیل شریف کا مسلم ممالک کی فوج کی قیادت اور ملٹری کورٹ) موضوعات اہم ہیں۔ تیسرا موضوع پانامہ تھا، جس میں دلچسپی نہیں رہی۔

 

مسلم ممالک کی فوج اور پاکستان:

تقریباً تمام کا اتفاق اس بات پہ تھا کہ پاکستان کو مسلم ممالک کی فوج میں شمولیت اختیار نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ایران اس میں شامل نہیں ہے۔

عام آدمی کی طرح اس بات کا علم نہیں کہ حقیقی صورتحال کیا ہے یا ریاستِ پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟ صرف اندازوں کی بنیاد پہ ہی لکھا جاسکتا ہے۔

پاکستان درپردہ ایک حد تک سعودی عرب کیساتھ ہے یعنی بوٹ آن گروانڈ کے بغیر،   ہتھیار اور ماہریں کی خدمات بدستور کیجاتی رہے گی۔  یہ پالیسی اسلئے صرف اختیار نہیں کی گئی ہے کہ سعودی عرب، پاکستان کو مالی امداد دے بلکہ  یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔  ایران کے مشرقِ وسطٰی میں  توسیع پسندانہ عزائم ہیں جو پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ اگر ایران مشرقِ وسطٰی میں اپنے عزائم حاصل کرلیتا ہے جسکی زد میں ترکی بھی آئے گا تو پاکستان بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکےگا۔  پھر یہ بھی ہے کہ ۲۰۰۲ میں جب بھارت اپنی فوج ، پاکستانی سرحد پہ لے آیا تھا تو اُسی کڑے وقت میں ایران بھی اپنی پچاس ہزار فوج، بلوچستان کی سرحد پہ لے آیا تھا(راوی شاہین صہبائی)۔

اسوقت تک تو مشرقِ وسطیٰ کی  تازہ آگ پاکستان میں پہنچی نہیں مگر مستقبل کے بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو لائن مین اسٹریم میڈیا نے لی ہے وہ ریاست کی ہی لائن ہے تاکہ سعودی عرب کے بوٹ آن گراؤنڈ کے اصرار کے سامنے  بند باندھا جاسکے۔  اسکے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مین اسٹریم میڈیا میں موجود ایرانی لابی، اس معاملے میں اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔

ملٹری کورٹ:

ملٹری کورٹ کو قائم رکھنے میں جہاں خود عسکری قیادت کا اصرار ہے وہیں حکومت اور میڈیا اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔  حکومت کو یقین نہیں ہے کہ مستقبل میں عسکریت پسندوں کی کاروائی نہیں ہوگی اور حکومت اسکا ملبہ  اپنے سر گرنے کی بجائے  عسکری قیادت پہ گرانا چاہتی ہے۔  جہاں تک میڈیا کے اُس سیکشن کا تعلق ہے جو ملٹری کورٹ کی مخالفت کررہی ہے، وہ بھی یہ چاہتی ہے کہ ملٹری کورٹ کے دوبارہ قیام کے بعد عسکریت پسندوں کیجانب سےمزید کاروائی کی  صورت میں  تمام تر ملبہ عسکری اداروں پہ  ہی گرایا جائے۔  ملٹری کورٹ کے ذریعے حکومت گرم آلو آگے پکڑا رہی ہے۔

ساتھ یہ خبر بھی پڑھ لیں کہ روزنامہ ایکسپریس ٹریبیوں مورخہ ،14 جنوری کو یہ خبر شائع ہوئی یا کروائی گئی کہ حکومت ضرب عضب کے بعد سے ڈھائی سو ارب اضافی  سیکورٹی کے مد میں خرچ کررہی ہے جسکی وقافی حکومت مزید متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔

نواز شریف صاحب کے آئیڈل طیب اردگان ہیں اور وہ پاکستان کے اردگان بننا چاہتے ہیں اور اسی تین سال میں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں