ہفتہ وار ٹاک شوز کا جائزہ

اُنیس جنوری کو پیش کئے جانے والا ٹاک شو”ذرا ہٹ کے” میں ایک بار پھر  لاپتا بلاگرز کا مسئلہ اُٹھایا گیا ہے، اس سے پہلے بھی اس مختصر عرصے میں اس شو میں  کئی بار لاپتا بلاگرز کا مسئلہ اٹھا چکے ہیں۔  انکے شو سے یہی تاثر ملتا ہے کہ انکو یقین ہے کہ ان بلاگرز کو ریاستی اداروں نے اُٹھایا ہے۔ مذکورہ اُنیس جنوری کے شو سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ جیسے ریاستی اداروں کو انکے بڑے افسراں طلب کرکے کہہ رہے ہیں،”ہاں جی! سمجھ میں آیا، ابھی تک رہا نہیں کیا، لگاؤں اور پھینٹی میڈیا پہ”۔ساتھ حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ برطانیہ اورامریکہ نے بھی اس لاپتا بلاگرز کے حق میں آواز اُٹھائی ہے، اسے بھی ایک طرح کےدباؤ ڈالنے کے حربے کے طور پہ دیکھا جاسکتا ہے۔

ضیاء الحق کے دور سے ٹرائیکا کی اصطلاح استعمال ہوتی آرہی ہے، اسکا مطلب یہ تھا کہ ملٹری لیڈر شپ،بیوروکریسی لیڈر شپ اور سولین حکومت اس ملک میں طاقت کے محور ہیں۔ اس میں سب سے طاقت ور ملٹری لیڈرشپ مانی جاتی تھی۔ ۲۰۰۲ سے اس ملک میں پرائیویٹ میڈیا ہاؤسز کا چلن شروع ہوا، اور وقت کیساتھ یہ اتنے طاقتور ہوگئے کہ اس ملک میں ایک نیا ٹرائیکاوجود میں آچکا ہے، جو پرائیویٹ میڈیا ہاؤسز، ملٹری لیڈرشپ اور سولین حکومت پہ مشتمل ہے۔  یوں محسوس ہوتا ہےاس میں سب سے زیادہ طاقت ور پرائیویٹ میڈیا ہاوسز بن چکا ہے جو جب چاہیں کسی کو بھی رگڑا دے دیتے ہیں اور دباؤ ڈالتے ہیں کہ انکی لائن پہ ہی ریاست کو چلنا ہوگا ۔  کئی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ ان میں کئی میڈیا ہاوسز مغربی ممالک کے مفادات کیلئے کام کررہے ہیں، جو ریاست کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔

شو میں علامہ خادم حسین رضوی کی ویڈیو دکھائی گئی ،  اس ویڈیو کو مین اسٹریم میڈیا پہ نشر کرکے خود ان لاپتا بلاگرز کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔  میڈیا کی یہ اُسی طرح کی حرکت ہے جب سلمان تاثیر گورنر پنجاب تھے (خیر وہ خود بھی شوباز قسم کے آدمی تھے)اور آسیہ بی بی کا معاملے میں بہت متحرک ہوئے تھے ، میڈیا نے اس معاملے کو اُچھال اُچھال کے پیش کیا، پھر کیا ہوا یہ سب کو علم ہے۔

پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے ہر طرف سے خطرات ہیں۔”غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات” کا دور دورہ ہے۔  بہتر ہے کہ پرائیویٹ میڈیا ہاؤسز اور میڈیا پرسنز کیلئے بھی کوئی “نیشنل ایکشن پلان” قسم کا پلان  شروع کیا جائے اور اُن میڈیا ہاوسز اور میڈیا پرسنز کیخلاف کاروائی کیجائے جو(اگر) بیرونی مفادات کیلئے کام کررہے ہوں اور  انکے اشاروں پہ پاکستان کو کمزور کررہے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں