حساس ہو تم احساس کرو

پاک دامن والے،   پاک دامن والیوں کے لئے
کس قدر خوبصورت تشبیہ دی ہے
اس نے جو پاکیزگی کے اعلی ترین مقام پر ہے
پاکیزہ ماحول اور پاکیزہ لوگ ایک دوسرے کے لئے چنے گئے
اور وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے انہیں ایک دوسرے کے سپرد کردیا گیا
خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے
کیونکہ جن کے دلوں میں گندگی ہو اسی کی جستجو ہو
وہ طہارت کی پہچان کھو دیتے ہیں
آہ
کتنا بڑا وبال ہے !
لیکن ایسا نہیں کہ اس معیار تک پہنچنا مشکل ہو
اسکی بہترین مثال وہ عورت جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آکر کہتی ہے
(مفہوم حدیث)

”    مجھے پاک کردیجئے مجھ سے زنا ہوا مجھے سزا دیجئے۔۔۔۔”
اور آپ اسے واپس بھیج دیتے ہیں کیونکہ وہ حاملہ ہوتی ہے .
بچے کو جنم دینے کے بعد وہ پھر آتی ہے
“مجھے پاکی چاہئے  اس گندگی سے ”
اور نبی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم  اسے پھر واپس بھیج دیتے کہ “جاو بچے کو دو سال دودھ پلاو” ۔
اور دو سال بعد اللہ کی بندی بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا  دئیے ہوئے لاتی ہے
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آخرت کی سزا نہیں چاہئے ”

گناہ کے احساس نے اسے چین سے رہنے نہ دیا  ۔۔۔۔۔ اور بالآخر اسکے بچے کی ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی صحابی کو دی اور اللہ کے حکم کے مظابق  سزا دی۔اور فرما یا

” اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے جو پورے مدینے  کے لئے کافی ہو جائے ۔”

اس نے پاکیزگی حاصل کی ۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنی صف بدلی، رخ تبدیل کیا،

اس نے فیصلہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کے بجائے  تھوڑی دیر کی سزا کا
اس نے وہ راہ چھوڑی ۔۔۔۔جس کے آگے ہمیشگی کی غلاظت اور گندگی تھی
اس نے وہ لبادہ اتارا جو بظاہر خوبصورت تھا لیکن  اندر سے  ناپاک تھا
اور یوں وہ اس راستے پر چل پڑی جہاں نجات تھی ۔
اس نجات میں راحت ہے سکینت ہے فلاح ہے ۔
حی علی الفلاح
آو فلاح کی طرف
آو پاکیزگی کے رستے پہ ۔
حیا ایمان ہے ۔ایمان حیا  ہے
دونوں ایک دوسرے کے لئے ہیں ایک ہو تو ہی دوسرا ہے۔ورنہ دوسرا بھی نہیں۔۔۔۔
ان الفاظ سے ذیادہ مصدقہ کچھ نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوں ۔

کیوں اتنا ہے تم کو مشکل ، اصل کی طرف پلٹنا
فطرت کی طرف تو رقصاں طبیعت کا مائل ہونا
کانٹوں پہ سفر کرنا  ،پیروں کو  گھائل کرنا
خود اپنے ہی وجود کی  یوں بولیاں لگانا
نظروں کے خنجروں سے ،  نشتر لگاتے  جانا
پاکیزگی  کو اپنی سر عام رسوا کرکے
چلا غیرت کا جنازہ ،عزت نیلام   کرکے

تنہا کیا ہے تم نے، یہ جرم ہے تمہارا
اے کاش اب بھی سمجھو،
مشکل نہیں پلٹنا

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں