رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر

قائد اعظم کی مسلم لیگ میں شمولیت کے ضامن ، بے باک صحافی، شاعر ودانشور ، مقرر و مصلح مولانا محمد علی جوہر رحمتہ اللہ علیہ 1878ء میں رام پور میں پیدا ہوئے۔ ابھی آپ دو برس کے تھے کہ آپ کے والد عبدالعلی خان کی وفات ہوگئی۔ آپ کی تعلیم و تربیت کی ذمے داری آپ کی والدہ پر آن پڑی۔ آپ کی والدہ بہت ہی ہمت والی، پرہیز گار خاتون تھیں۔ انہی کی صحیح تعلیم و تربیت نے آپ کو تحریک آزادی کے عظیم مجاہد اور مسلمانانِ ہند کی ایک عظیم شخصیت بنا دیا۔ آپ نے بریلی میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دیوبند سے دینی تعلیم اور پھر علی گڑھ کالج سے بی اے کا امتحان اول درجہ سے پاس کیا اور پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وطن واپس آکر آپ ریاست رام اور بڑودہ میں اعلی عہدہ پر فائر رہے۔ آپ نے ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ اور ’’ آبزور‘‘ میں سیاسی مضامین لکھ کر صحافت کا آغاز کیا۔ 1910 ء میں اپنا اخبار روزنامہ ’’کامریڈ‘‘ جاری کیا۔ مسلمانوں کے حقوق کی سرپرستی کے لیے آپ نے 1913ء میں ہفتہ وار ’’ہمدرد‘‘ جاری کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی کی حمایت میں لکھنے پر حکومت نے اخبار اور آپ کے پریس کی آزادی ضبط کر لی۔

والدہ کی عمر بیوگی کے وقت 27 برس تھی، انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد 8 سال علی گڑھ میں گزار کر بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ میر محفوظ علی کے مطابق وہ کلاس میں لکچر سنتے، فیلڈ میں کرکٹ کھیلتے اور یونین میں تقریر کرتے تھے، ان کے بڑے بھائی شوکت علی نے روپے کا انتظام کر کے انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا جہاں سے انہوں نے تاریخ جدید میں بی اے آنرز کی سند حاصل کی۔ ان کی ذہنی و فکری تربیت میں ان کی والدہ بی اماں کا بڑا رول تھا، مولانا محمد علی کے دل میں ملت اسلامیہ کا بڑا درد تھا، ان کی خدمات کئی لحاظ سے قابل قدر ہیں، ملک کی آزادی کی جدوجہد، تحریک خلافت، اشاعت تعلیم، فروغ اردو، عوامی بیداری بذریعہ صحافت اور اپنی مخلصانہ کوشش و کاوش میں وہ بہت کامیاب رہے۔
برطانوی حکومت نے جب کلکتہ کے بجائے دہلی کو ہندوستان کی راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا تو محمد علی نے “کامریڈ” کا دفتر بھی 14/ستمبر 1912ء کو دہلی میں منتقل کرلیا، اور 12 اکتوبر کو یہیں سے “کامریڈ” کا پہلا شمارہ شائع کیا، انہوں نے مسلمانوں کی آسانی کیلئے “نقیب ہمدرد” نامی اردو پرچہ کا اجرا کیا جو بعد میں روزنامہ ہمدرد کے نام سے مشہور ہوا، باشندگان ہند کو آزادی وطن کیلئے بیدار اور تیار کرنے کی غرض سے مولانا نے صحافت کو موثر ذریعہ بنایا، اس کے ساتھ ساتھ وہ تحریک خلافت کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔
9جنوری 1920ء کو وہ ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے دہلی پہنچے تو چاندنی چوک پر ان کا شاندار استقبال ہوا، خواجہ حسن نظامی نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ “دہلی کی سرزمین پر کتنے ہی عظمت و جلال والے تاجدار اور شاہزادے اور حکام بلند مقام آئے اور چلے گئے لیکن سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد سے آج تک اس خلوص و عقیدت کے ساتھ شاید ہی کسی شخص کا خیرمقدم کیا گیا ہو”۔
تحریک خلافت نے ملک میں آزادی کی تڑپ پیدا کردی۔ ہر فرد کے دل میں علی برادران کیلئے محبت جاگزیں ہوگئی، اس تحریک نے انگریزی اسکولوں، کالجوں اور سرکار کی نگرانی میں چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کو چھوڑ دینا فرض قرار دے دیا، چنانچہ تعلیمی محاذ پر ترک موالات کے لئے مولانا محمد علی نے علی گڑھ کے ایم اے او کالج سے پہل کی۔
بالآخر 29 اکتوبر کو جمعہ کے دن ایم اے او کالج کی مسجد میں بعد نماز جمعہ “جامعہ ملیہ اسلامیہ” کی رسم افتتاح اسیرِ مالٹا مولانا محمود حسن کے ہاتھوں ادا ہوئی۔ حکیم اجمل خاں اولین امیر جامعہ، مولانا محمد علی پہلے شیخ الجامعہ، حاجی موسی خاں سکریٹری اور تصدیق احمد شیروانی جوائنٹ سکریٹری مقرر ہوئے۔ مولانا محمد علی نے 22 نومبر 1920ء کو فاونڈیشن کمیٹی کے جلسے میں یہ تجویز منظور کرالی کہ جب تک نیا نصاب تعلیم تیار ہوکر نہیں آجاتا مجوزہ نصاب ہی کو اصلاح و ترمیم کے ساتھ جاری رکھا جائے اور اس میں دینیات کے مضمون کا اضافہ کردیاجائے۔ اس موقع پر ایک نصاب کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر سر محمد اقبال، مولوی عبدالحق، مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولوی عنایت اﷲ، پرنسپل گڈوانی، پروفیسر سہوانی، اور سید سلیمان شامل تھے۔
اس عمومی نصاب پر غور و خوص کے بعد مولانا محمد علی جوہر کی خصوصی نگاہ دینیات کی طرف متوجہ ہوئی تو انہوں نے دینیات کے نصاب کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل کی، جس میں مولانا آزاد سبحانی، مولانا سلامت اﷲ، مولانا صدر الدین، مولانا عبدالقیوم، مولانا داؤد غزنوی، مولانا عبدالماجد بدایونی، مولانا عبدالقادر، مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر خود بھی شامل رہے۔
ایام اسیری میں جھندواڑہ میں قیام کے دوران وہ قرآن کریم کی تلاوت اور باقاعدہ تفسیر کے مطالعہ کی سعادت حاصل کرچکے تھے، اس لئے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، دینیات اور تاریخ کو فوقیت دینا چاہتے تھے اور اس ذہن کے ساتھ نصاب تیار کئے جانے پر ان کی توجہ تھی، مولانا محمد علی جوہر کا نظریہ تعلیم تجربات کی روشنی میں ان کے سامنے واضح ہوکر آچکا تھا، وہ اس بات کومحسوس کرتے تھے کہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کا منفی اثر ہندوستان کے باشندوں پر پڑے گا اور ملت اسلامیہ کو اس معاملہ میں کچھ زیادہ ہی حساس رہنا چاہئے، چنانچہ مصروفیت کے باوجود نصاب تعلیم پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اس کی جزئیات پر ان کی نگاہ بار بار جارہی ہے، اس لحاظ سے ان کی نگاہ میں “جامعہ ملیہ اسلامیہ” کا تصور بہت ارفع اور اعلیٰ تھا،
1919 ء میں آپ اور آپ کے بھائی مولانا شوکت علی کو پانچ سال کے لیے قید کر دیا گیا۔ قید سے رہا ہونے کے بعد آپ نے تحریک خلافت کی قیادت سنبھالی۔ تحریک خلافت کی قیادت سنبھالتے ہی مسلمانان ہند نے آپ کا بھر پور ساتھ دیا۔ آپ نے اس تحریک کی قیادت سنبھالتے ہی مسلمانوں کی ہر طرح خدمت کی اور ان میں سیاسی بیداری پیدا کی۔ آپ ایک بلند پایہ سیاست داں تھے۔ وقت اور حالات کو مد نظر رکھ کر آسان طریقے سے مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں انگریز حکومت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ آپ کی صلاحیتوں کو دیکھ کر مشہور انگریز مصنف ایچ جی ویلز نے آپ کے بارے میں یہ تعارفی کلمات کہے ’’مولانا محمد علی جوہر برک کی زبان، میکالے کا قلم اور نپولین کا دل رکھتے ہیں۔‘‘
1921ء میں کراچی میں خلافت کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ آپ نے اس اجلاس میں ایک پر جوش تقریر کی اور قانونِ الہٰی کی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے انگریز کے قانون ماننے سے انکار کر دیا۔ جس پر انگریز حکومت نے انہیں باغی قرار دے کر تاریخی مقدمہ چلایا اور دو سال کے لیے آپ کو قید کر دیا۔ رہا ہونے کے بعد آپ نے دوبارہ مسلمانوں کے حقوق کے لیے دوبارہ جدو جہد شروع کر دی۔ آپ نے انگریزوں سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے اکثریتی صوبوں کو خودمختاری دی جائے۔ چناچہ آپ نے قائد اعظم کے ساتھ مل کر سائمن کمیشن کا بائیکاٹ کیا اور مسلم لیگ کی سرگرمیوں میں دل چسپی لینا شروع کر دی۔
1930ء میں آپ بیمار ہوگئے، لیکن اسی بیماری کی حالت میں آپ نے لندن میں پہلی گول میز کانفرنس میں شرکت کی اور اس میں آپ نے صاف الفاظ میں آزادی ہند کا مطالبہ کیا۔ 19 دسمبر 1930ء میں آپ نے ولولہ انگیز تقریر کی جس میں آپ نے آزادئی ہند اور مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا۔ آپ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا۔ میں اپنے ملک میں واپس جانا چاہتا ہوں لیکن اس صورت میں کہ آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ دیا جائے ورنہ میں ایک غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا۔ اگر آپ ہمیں آزادی نہیں دے سکتے تو آپ کو یہاں میری قبر کے لیے جگہ دینا ہوگی۔
اس کے بعد آپ کو بیماری نے مزید گھیرے میں لے لیا اور بیماری کی حالت میں 4 جنوری 19311ء کو لندن میں آپ کا انتقال ہوگیا، اس وقت آپ کی عمر 52 سال تھی۔ آپ کا مقبرہ مسجد عمر، بیت المقدس میں ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں