قرة العین حیدر – عظیم ناول نگار

 آج اردو کی سب سے بڑی خاتون ناول نگار کا اعزاز پانے والی قرة العین حیدر کی تاریخ پیدائش ہے۔ اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرة العین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا لیکن بعد میں انہوں نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے گیارہ سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا، قرةالعین حیدر نہ صرف ناول نگاری بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے مشہور ناولوں میں بالترتیب میرے بھی صنم خانے، سفینہ غمِ دل، آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر، گردشِ رنگِ چمن، کارِ جہاں دراز ہے اور چاندنی بیگم شامل ہیں۔ ان کے سب ہی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف دکھتا ہے اور ان کے دو ناولوں ‘آگ کا دریا اور آخر شب کے ہم سفر’ کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ آخرِ شب کے ہم سفر کے لیے 1989 میں انہیں ہندوستان کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جبکہ ہندوستانی حکومت نے انہیں 1985 میں پدما شری اور 2005 میں پدما بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔ اردو ادب کے کچھ نقاد انہیں اردو کی ‘ورجینا وولف’ بھی کہتے ہیں۔ قرة العین حیدر کے تیسرے ناول آگ کا دریا کو اردو ادب میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے، بعض نقاد سمجھتے ہیں کہ یہ ناول اردو زبان کے اہم ترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ اکیس اگست 2007 کو دہلی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ انھوں نے جدید ناول میں کہانی بیان کرنے کا جو انداز دیا اس نے جدید ناول کو کلاسیکی مقام پر پہنچا دیا، یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی اپنے پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ تصانیف: آگ کا دریا آخرِ شب کے ہمسفر (گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ) میرےبھی صنم خانے چاندنی بیگم کارِ جہاں دراز ہے روشنی کی رفتار سفینۂ غمِ دل پتجھڑ کی آواز (ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ) گردشِ رنگِ چمن چائے کے باغ دلربا اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو
شیئرکریں
mm
ڈاکٹر اسامہ شفیق جامعہ کراچی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ معاشرے کی نبض پر ہاتھ ہے اور حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور متوازی تجزیہ کرتے ہیں

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں