’’آواز آتی ہے‘’

سمندر کی خاموش لہروں پہ تیرتی ہوا جسیسی

چاندنی کی ٹھنڈی روشنی میں چمکتے صحرا جیسی
آسمان کی رفعتوں سے اترتی نور کی ردا جیسی
ساون کی تیز بارش میں کوئل کی نوا جیسی
مسجدوں کے منبروں سے ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدا جیسی،
اک آواز آتی ہے جو،
میری روح کے سناٹوں میں حیات نو کا پیغام لاتی ہے، اور
میری رگِ جاں کو زندگی کا جام طہور پلاتی ہے
اور پھر!
شہدائے بدر کے لہو کی خوشبو،
میرے دل کے نہاں خانوں میں بستی جاتی ہے
احساسِ خوشبو سے
میری روح کے تاریک غاروں میں اک نئی آواز کا
احساس، زندہ ہوتا ہے کہ،
تپتی دھوپ میں کسی مسافر کو سائباں کی ضرورت ہے
پانی کی ضرورت ہے،
اور اب پھر سے کوئی پیاسی روح
آب خورہِ ایمان چاہتی ہے
چاندنی میں نہائے راستوں پہ چلنا چاہتی ہے
صحرا کی وسعتوں سے اک بانگ درا
دل کی دھڑکنوں میں
رگِ جاں میں
ہر بن مُومیں
روح کی اتھاہ گہرائیوں میں کیوں
اترتی جاتی ہے؟
یہ آواز! کیسی ہے؟
دریا کی خامشی جیسی
جنگلوں میں سرسراتی ہوا جیسی
گلابوں کی مہک جیسی
ساون کی بارش میں رم جھم کی صدا جیسی
سوچوں کے بھنور سے ابھرتی، ڈوبتی
کوہ و دمن سے ٹکرا کے آتی اس صدا میں
جذبہ جنوں کیوں ہے؟
شہدائے بدر کے لہو کی مہک سے
آج پھر
میری مشام جاں معطر کیوں ہے؟
اے میری ہم نفس سن لو،
اے میری ہم نفس غور سے سن لو،
کہ
وادی کشمیر و فلسطین سے
کرہ ارضی کے ہر مظلوم کوہ و دَمن سے
برما کے کٹتے، جلتے خرمن سے
ہر دم تجھے
سوز زندگی کا، حیات جاوداں کا
سازدروں، سنائی دیتا ہے
شہیدوں کا لہو،
آواز دیتا ہے،

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں