عاشقی کیا ہے

زندگی کے میلے کے
بے کراں سمندر میں
پرسکون اجالوں اور
رات کے اندھیروں میں
اک حقیقی عشق کی
کیا تمھیں ضرورت ہے ؟
 
چاہ کی ضرورت ہو یا
سرد تیرے جذبے ہوں،
 مہکے من میں چپکے سے
خواہشیں انگڑائی لیں،
 
دھوپ ہو کہ چھاوں ہو یا
اوس ہو فضاوں میں
بارشوں کا  شور  ہو یا
ان  کی گنگناہٹ ہو
اک حقیقی ساتھ کی
کیا تمھیں تمنا ہے ؟
 
باغ خوبصورت سا ہو
تتلیوں کے نغمے ہوں
 سر پھری ہواؤں کی
شوخ سی ادائیں ہوں کہ
  پت جھڑ کے موسم میں
یاسیت کے ڈیرے ہوں
یا
 ساحل سمندر پہ دل
آتی جاتی لہروں  میں
عاشقوں کی عاشقی کی،
کیا کوئی ضرورت ہے ؟
 
خاص کی تلاش ہے گر
خاص ہی طریقہ ہو گا
 تجھ کو جستجوئے عشق میں
آبلہ پا چلنا ہو گا
قلب جسکا مرکز ہو گا
سانس بھی معطر ہو گی
 
 ملکوتی روشنی میں
روح  تیری رقصاں ہوگی
جب تری محبت کا
حکمراں وہ تنہا ہوگا
پھر اسی حصار میں
قید تو ہمیشہ ہوگا
 
اک طرف کو عالم سارا
اک ترا ہی در ہوگا
آہ  سحر گاہی تیرے
ملنے کا مقام ہوگی
سجدے کی تڑپ میں تیرا
دل رقص بسمل ہو گا اب
نہ  خطرہ  بے وفائی کا ہے
نہ ڈر بے رخی کا یاروں
 
  اس فراق یار میں پھر
کیا تو  بہنا چاہے   گا ؟
خود کو اس سمندر میں
غرق کر لے ساقی پھر اب
بول کسی بھی عاشقی کی
کیا تجھے ضرورت ہے؟
 

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں