آدھا بابا پر گیا ہوں میں

آدھا بابا پر گیا ہوں میں

باقی خود سے کر گیا ہوں میں

وہاں بھول چوک ہوتی رہی ہے

یہاں سبھی کے سر گیا ہوں میں

اپنوں سے بھی دور رہتا ہوں

حد سے زیادہ سدھر گیا ہوں میں

زمیں پر رہ کر دب گیا – بنا

کفن دفن کے مر گیا ہوں میں

یہ بد مزاجیوں کا شہر ہے

ہر کسی سے ہی ڈر گیا ہوں میں

وہ کم یاد آتی ہے – جب سے

نوکری کے سفر گیا ہوں میں

اب شرم آجائے کسی کو

بے لحاف لکھ کر گیا ہوں میں

جو مجھے بھول چکا تھا – اسے

آ یاد غرض پر گیا ہوں میں

سب بھروسے ٹوٹ جاتے ہیں

سبھی کو دینے خبر گیا ہوں میں

دیوانہ بن کر باتوں کا

اسے ڈھونڈنے نگر گیا ہوں میں

ترا قلب جیتا رہے گا

لگتا ہے بن شاعر گیا ہوں میں

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں