غزل

یقیں ہوا کہ تیرا زخم کھانے والا نہیں

یہ میرا دل میرے ہی کام آنے والا نہیں

فقیرعشق ہوں دنیا نہیں ہوں میں غافل

میں جھوٹی بات پہ قرآں اٹھانے والا نہیں

میری مجال کہوں کچھ جناب کی خاطر

سو ایک شعر لکھا پر سنانے والا نہیں

بس اتنا جان لے تو عشق بن رہی ہے میرا

اب اس سے زیادہ تجھے میں بتانے والا نہیں

میں تیرے ناز اٹھاوں کہ تجھ سے پیار کروں

کہ ایسے تجھ سے تو کوئی نبھانے والا نہیں

قریب اس کے تعلق بھی عارضی ہے میرا

سو ساتھ دے گا مگر ساتھ آنے والا نہیں

میں جسم و جاں بھی بہا دوں نہ کیوں تیرے پیچھے

فقط اک اشک تیری یاد لانے والا نہیں

جمال یار کو یا رب کوئی نظر نہ لگے

کہ ایسی شے میں جہاں سے چھپانے والا نہیں

ابھی تو روح کو ترسیل تجھ میں ہونا ہے

ابھی میں لب تیرے لب سے ہٹانے والا نہیں

بندھی ہو عشق میں حمزہ کے جب سے جانِ ردا

قسم خدا کی کوئی ناز اٹھانے والا نہیں

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں