رستے میں

رستے میں اک شوخ ملا،

پہلی نظر میں عشق ہوا۔

اب بھی تجھ پر طاری ہے؟

فاریحہ بننے کا چسکا۔

دیکھ لے جیسے تیری مرضی ،

ویسے شاعر بھی ہے لڑکا۔

آ گئی وہ بھی باتوں میں ،

کیوں استاد اب ہاتھ تو لا !!

تو نے بلکل ٹھیک سنا ہے!

ہاں میں نے تجھ کو جان کہا۔

گاہے گاہے کی ہے لگن،

عشق ہوا ہے, چل جھوٹا !

پھونکنی تھی آیت اس پر،

میں نے مصرعہ پھونک دیا !

میں ہوں اور تنہائی ہے،

اب بس آگے دیکھتا جا۔

میں نے ان دو آنکھوں سے،

چار دفعہ تجھ کو دیکھا ۔

وہ کیا عشق کرے گا جس کو !

لاہور میں بھی جھگڑا سوجھا۔۔!!

مل رہی ہے نا غیروں سے تو؟

اب تو مجھ سے ملنے آ !

بد روحوں کا بھی توڑ ہے پر،

تجھ پہ مصرعوں کا ہے سایہ۔

میں ہوں نا غصے کے لیے !

کنگن پہ مت غصہ دکھا۔۔۔

خواب کی حالت میں بھی میں نے،

آنکھیں کھول کے تجھ کو دیکھا۔

کیوں پہنوں میں ٹائی کو،

تو نے گجرا پہنا تھا؟

حضرتِ حمزہ کو پڑھتی ہو،

پاگل تو ہونا ہی تھا !

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں