یکم مئی

ایک دفعہ پھر یکم مئی منائی گئی۔

یاد کئے گئےاس لہو رنگ تاریخ کے جھروکے

رقم کی تھی جو مظلوموں نے

شکاگوکے مزدوروں نے

کہ ان کی مزدوری کا صلہ مزدوری تھا

حق مزدوری کا مانگنے سے

پسینے کی جگہ لہو بہتا تھا

ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

بالآخر حق و صداقت کیلئے

جان قربان کردی اس ظلم کے خاتمے کیلئے

تاکہ مزدور کی عظمت کو دنیا مانے

کہ جن کے دم سے رواں ہے زندگی

مگر افسوس ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی

حقوق کے علمبرداروں کے سائے میں

مظلوم و مجبور ہے ہمارا مزدور

ہم ہر سال یوم مزدور تو منالیتے ہیں

اس طرح ان کے زخم پر مرہم رکھنے کیلئے

پھر سے تجدید عہد وفا کرتے ہیں

مزدوروں کی عظمت کی بحالی کیلئے

ان کی بھوک اور افلاس کو راحت میں بدلنے کیلئے

یوم مزدور پر چھٹی کر کے

مزدور کو مزدوری کی نذر کردیتے ہیں

اس طرح مزدور کی محنت کا صلہ دیتے ہیں

کیا صرف تجدید سے کسی کی حالت کبھی بدلی ہے؟

کیا اس طرح مزدور کی حالت بھی کھی بدلی ہے؟

تو پھر سرور

میں اسی یکم مئی کا منتظر ہوں۔۔۔

 

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں