جستجو

تمہیں منزل کو پانا ہے
تمہیں اس کم یقینی کے حصارِ جان لیوا پر
اب اپنی ہمتوں اور حوصلوں کو آزمانا ہے
تمیں منزل کو پانا ہے
ہمالہ سے بھی اونچے جو دکھائی دے رہے ہیں
ان مصائب کو
کمالِ شوق سے تم کو
غبارِ راہ کرنا ہے
تمہیں پیروں تلے کم ہمتی کا سر کچلنا ہے
بھنور کے بیچ بھی گر چھوڑ جائے ناخدا تم کو
تمہیں لازم یہ کرنا ہے
کہ مایوسی کی لہریں چیر کر ساحل تک آنا ہے
تمہیں منزل کو پانا ہے
تمہیں منزل کو پا کے اور بھی آگے
بہت آگے
اافق کے پا رجانا ہے
شبِ ظلمت کا سینہ چاک کرکے
روشنی سے اک نئی تقدیر لکھنی ہے
اک ایسا دور لانا ہے
کہ جس میں رات میں بھی کم سے کم اتنا اجالا ہو
وفا کے راستوں پہ نور ہو
ہر سو چراغاں ہو

شیئرکریں
mm
نام احسن ہے اور راحلؔ تخلص۔ اپنے ارد گرد جو دیکھتا ہوں اسے اپنے قلم کے ذریعے بیان کرتا ہوں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں