صلی اللہ علیہ وسلم

میں تو امتی ہوں اے شاہ امم (ص)
کر دے میرے آقا اب نظر کرم
 حصہ ہوں  امت کا میں ؟
یا نعت صرف لفظوں میں ہے
خوبصورت پر فضا پر نور سے ماحول میں
دائروں میں بیٹھ کر، اورہاتھ ادب سے باندھ کر
داد اور تحسین کے جملے مرے چاروں طرف
رنگوں بھری ہے روشنی ، کیا سجے ہوئے دیوان ہیں
 اور سوچ ان  پاکیزہ تر ہستی(ص) کے گرد ہے گھومتی
جن (ص) کے لئے مدح سرا ہیں جنکی یہ تعریف ہے
آئیے روشن کریں ،اس زندگی کی اک جھلک
اس (ص) زندگی کی پیروی سنت بھی ہے طاعت بھی ہے
روز قیامت ساتھ ہوں، جو پیروی ان (ص) کی کریں
  طے کیا ،اور لکھ دیا رب نے یہ قانون ہے
 قربان ان پر جائیے, میرے نبی(ص) پیارے نبی(ص)
ہو اشارہ آپ (ص )کا تو جان بھی اپنی وار دوں
کیا کروں دیکھوں جب امت زخم سے چور ہو
ذہن میں تازہ کروں میں اس مہکتے دور کو
پیر ہیں سوجے ہوئے، اور جسم ہے تپتا ہوا
رات رب کے سامنے،اور دن اسی کی خلق کا
ظلم ہو مظلوم ہوں بے بس کوئ لاچار ہو
بھوکے ہوں ، بیمار ہوں معذور اور بدحال ہوں
محبوب کی وہ خلق ہے، اس خلق کی خدمت فرض ہے
پھر دیں کی عظمت کے لئے ہر زخم وہ (ص) سہتے  رہے
پیٹ پہ پتھر رہے اور راہ میں روڑے رہے
رب کی رضا میں ہر ستم اک شان
 سے سہتے رپے(ص)
دوست ہوں احباب ہوں ہر ہر قدم پہ ساتھ ہوں
اخلاق ہو کردار ہو  ,میدان کارزار ہو
یہ ہے خاکہءزندگی (ص)یہ بندگی محبوب کی
ڈھلتی رہی اس رنگ میں  ،دیتی رہی ہم کو نشاں
قرب ان(ص) کے ہوں گے وہ،   سنت کریں اس طور کی
امتی اے امتی  گر چاہئے نظر کرم
جھانک ان(ص) کی زندگی ،رستہ اصل میں ہے یہی،

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں