سوال و سفر

  • سوال و سفر

    اک ایسا بھیانک خواب

    جس کی تعبیر گویا ہے حبس و ہجر

    جیسے صدیوں کا پیاسا ہو بھٹکا ہوا

    اور گر جائے صحرا کا واحد شجر

    جس کی امید پر آج تک وہ چلا

    مر گئی وہ امید۔ قصہء مختصر

    سوچتا پوچھتا سفر کرتا رہا

    اور ہوئی یوں بسر اس طرح اک عمر

    وہ کہ طوفاں کی لہروں کی آغوش میں

    یونہی بہتا رہا جیسے ہو بےخبر

    زیست دہشت زدہ۔ بے بسی کی صدا

    نا ہی سامع کوئی نا ہی دیکھے جسے اب کوئی بھی نظر

    آج بھی اس کے ترکش میں باقی سوال

    ان سوالوں کی خاطر وہ چلتا رہا

    اور کرتا رہا نا تمام اک سفر

    اک سوال ان افسردہ شاموں کا تھا

    شامیں جن میں پھنسے آہنی پنجروں میں سر

    جو گزرتی ہیں دہشت کے سایوں میں اب

    قید بگرام میں۔ آبِ آمو کے پار

    اک سوال ان کشادہ جبینوں کا ہے

    جن کی شب سجدہ ریز اور دن جہد خیز

    جن کے معصوم بچوں کا مثلہ ہوا

    جن کی معصوم کلیوں کو روندا گیا

    جو کھلیں سو کھلیں اور جو باقی تھیں وہ

    ادھ کھلی مر گئیں

    کیا یہ ظالم کی سنت ابد تا ازل؟

    کچھ دیار امن سے بھی آئے ہوئے

    دن جو آسائشوں میں بتائے ہوئے

    اپنی امت کی خاطر ہی چھوڑا جسے

    اور فی اللہ نکلے جو سوئے اجل۔۔

شیئرکریں
mm
مصطفی کا ادب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن کبھی کبھار کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں