ترا اور مرا گفتگو کرنا فن تدریس ٹھہرا

ترا اور مرا گفتگو کرنا فن تدریس ٹھہرا

اک دوسرے سے ملنے میں پردہ تقدیس ٹھہرا

سوتے ہوئے بھی آنکھیں کھلی رکھنا کہ

مرا پلکیں جھپکانا ہی وجہ تلبیس ٹھہرا

محل نشینو سجن مرا جاں نثار ہے

شہر میں نہ کوئی ہم جیسا رئیس ٹھہرا

سجدہ صنم کیا چشم جام بھی پیا

مگر فرشتوں کے روبرو میں ابلیس ٹھہرا

قلب گھر والوں سے رنگ و سنگ دیکھ

تو غصے کا بھرا کہاں کا نفیس ٹھہرا

شیئرکریں
mm
گورنمنٹ ٹیکنیکل ہاہی سکول فیصل آباد سے 2013 میں اے پلس گریڈ میں میٹرک پاس کیا۔ گورنمنٹ سٹاف ٹرینینگ کالج فیصل آباد سے 2016 میں 3 سالہ ڈی اے ای الیکٹریکل ڈپلومہ اے پلس گریڈ میں پاس کیا۔ KSqalb@gmail.com

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں