ترے آنگن میں رہے یونہی بہار کا موسم

ترے آنگن میں رہے یونہی بہار کا موسم
زوال پذیر نہ ہو کبھی پیار کا موسم
تلاطم خیز لہروں سے مسکرانا مشکل تو نہیں
گر انساں کے ہاتھ ہو پتوار کا موسم
اے نوجواں طوفانوں سے ٹکڑا کے تو دیکھ
تجھے بھی نصیب ہوگا ترے افکار کا موسم
دشمن کو مات دیں یہ ترے جذبے
ہم کبھی نہ دیکھیں انکار کا موسم
لے بزرگوں کی دعائیں اور یاروں کی وفائیں
بےشک گزر جائے گا ترے گلزار کا موسم
شجر بے ثمر نہ بننا امیدوں کو نہ ٹھکرانا
ترے کندھے پہ رکھ دیا ہے اعتبار کا موسم
تو ہر شخص کے لئیے مانند صبا بننا
عمل سے نہ گزر جائے کہیں گفتار کا موسم
پختہ یقیں ہو کے چل منزل کی طرف
پھر تجھ پہ آئے گا خدائے انوار کا موسم
کئ سننے والے اور داستاں گو ہوں گے
دنیا پہ چھائے گا ترے کردار کا موسم
کچھ لوگ چمٹے ہیں ہم کو اسیب کی طرح
اپنوں میں چھا رہا ہے اغیار کا موسم
کوئی تو ہو قلب جو ہم کو لٹا دے
تیغ و سنا،لوح و قلم پہ اختیار کا موسم

شیئرکریں
mm
گورنمنٹ ٹیکنیکل ہاہی سکول فیصل آباد سے 2013 میں اے پلس گریڈ میں میٹرک پاس کیا۔ گورنمنٹ سٹاف ٹرینینگ کالج فیصل آباد سے 2016 میں 3 سالہ ڈی اے ای الیکٹریکل ڈپلومہ اے پلس گریڈ میں پاس کیا۔ KSqalb@gmail.com

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں