ظلم کے بادل

جب ظلم کے بادل چھائے ہوں
جب کرب و الم کا رولا ہو
جب درد میں لپٹی آہوں کا
طوفان زمیں پر پھیلا ہو
تب جبلِ جرات بنا کرے
کوئی یہ بھی سنت ادا کرے
جب گھر پہ بم برساتے ہوں
بچوں پہ ترس نہ کھاتے ہوں
مسجد کا تقدس ڈھاتے ہوں
اور خودکو خُدا منواتے ہوں
تب عظمتِ رب کی ازان کرے
کوئی یہ بھی سنت ادا کرے
جب سر پہ باپ نہ بھائی ہو
جب عصمت پر بن آئی ہو
جب گرد ہوس کی چھائی ہو
جب جینا اک رسوائی ہو
تب دست ِ شفقت بنا کرے
کوئی یہ بھی سنت ادا کرے
جب مستی گانے باجے میں
بوڑھے بھی بچے ہو جائیں
جب عشق و ادا کے گورکھ میں
عاقِل بھی کچے ہو جائیں
کردار کا عالم بنا کرے
کوئی یہ بھی سنت ادا کرے

(افسانہ مہر )

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں