ہماری ادارتی پالیسی

’’دی ٹرتھ انٹرنیشل‘‘ ایک عالمی نشریاتی ادارہ ہے جو بیک وقت انگریزی ، عربی اور اردو میں خبریں ، تجزیے اور معلومات فراہم کر رہا ہے۔ اس لیے دی ٹرتھ انٹرنیشل سے وابستہ تمام صحافی عالمی سطح پر صحافیوں اور صحافتی اداروں کیلیے مرتب کردہ ضابطہ اخلاق اور اصول و قواعد کی کی مکمل پاسداری کریں گے ۔
اس ضابطہ اخلاق کے عوامی دلچسپی کے حامل شقوں کوذیل میں بیان کیا جارہا ہے۔
*۔۔۔میڈیا کے لیے ضروری ہے کہ غلط ، گمراہ کن اور مسخ شدہ معلومات اور تصاویر شائع نہ کرے۔ اگر کبھی غیرمعمولی غلطی، گمراہ کن بیان اور حقائق توڑ مروڑ کر پیش کیے جائیں تو فوری طور پر تصحیح کی جائے اور ضرورت محسوس ہو تو معذرت بھی شائع کی جائے۔ میڈیا کسی کی حمایت کرنے میں آزاد ہے لیکن اسے حقائق، بیانات اور نتائج کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ہوگا۔ کسی کی ہتکِ عزت کی صورت میں اگر میڈیا فریق ہے تو ضروری ہے کہ اس کی وضاحت میں درستی اور غیرجانبدارانہ انداز اختیار کیا جائے ۔
*۔۔۔کسی غلطی کی اشاعت کی صورت میں جواب اور وضاحت کے مواقع لازمی فراہم کئے جائیں۔
*۔۔۔صحافی پر لازم ہے کہ وہ ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو، صحت اور ڈیجیٹل روابط سمیت دیگر رابطوں کا احترام کرے۔ صحافی بلا اجازت کسی کی ذاتی زندگی میں دخل انداز ہونے کے مجاز نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس کی وضاحت کریں گے۔ بصورتِ دیگر شکایت کنندہ کی جانب سے اس کی ذاتی معلومات عوام میں افشا کرنے پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ذاتی مقامات پر کسی شخص کی اجازت کے بنا اس کی تصویر لینا کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔ ذاتی سے مراد وہ مقامات ہیں جہاں بندہ کسی کی دخل اندازی پسند نہ کرے ۔
*۔۔۔صحافی کسی کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے یا خوفزدہ کرنے سے گریز کریں۔ اگر کوئی شخص فون کرنے، تصویرلینے اور سوال کرنے سے منع کردے تو صحافی کو رک جانا چاہیے۔ اگر وہ اپنی جگہ یا مکان پر صحافی کو مزید ٹھہرنے سے منع کرے تو اسے باہرآجانا چاہیے اور اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔
*۔۔۔میڈیا 16 سال سے کم عمر کے ایسے بچے کی شناخت ظاہر نہ کرے جس پر جنسی حملہ کیا گیا ہویا پھر وہ کسی واقعہ کے عینی شاہد ہوں اگر چہ اس کی قانونی اجازت بھی کیوں نہ ہو۔ جنسی حملے کا کوئی واقعہ ہو تو خیال رہے کہ بچے کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔ بالغ کی شناخت ظاہر کی جاسکتی ہے۔ خونی رشتوں کی جانب سے جنسی حملے کی صورت میں ’انسیسٹ‘ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے تاہم بچے کی شناخت ظاہر کی جاسکتی ہے۔ رپورٹ میں احتیاط رکھیے کہ ملزم اور بچے کے درمیان تعلق ظاہر نہ کیا جائے۔
*۔۔۔معلومات جمع کرنے کے لیے اسپتال کے اہم مقامات جانے سے قبل صحافی اپنی شناخت ظاہر کریں اور کسی ذمے دار سے اجازت لیں۔
*۔۔۔جب تک جرم میں براہِ راست تعلق ثابت نہ ہو اس وقت تک کسی ملزم یا مجرم کے عزیزوں، دوستوں اور رشتے داروں کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔
*۔۔۔میڈیا کو چاہیے کہ وہ اجازت کے بغیر خفیہ کیمروں، سن گن لینے کے آلات، ذاتی فون کالز کی ریکارڈنگ، ای میلز اور میسجز، یا تصاویر اور دستاویز کا بغیراجازت حصول یا انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات حاصل نہ کرے اور نہ ہی شائع کرے۔ جب کوئی دوسرا راستہ نہ ہوا اور عوامی مفاد ہی مقدم ہو تو دھوکہ دہی یا خفیہ انداز میں معلومات حاصل کی جائیں خواہ وہ ایجنٹوں سے لی جائیں یا درمیان کے افراد سے حاصل ہوں۔ عوامی مفاد مندرجہ ذیل ہوسکتے ہیں لیکن یہ صرف اسی تک محدود نہیں۔
*۔۔۔جرم کی شناخت اور بے نقاب کرنا یا سنجیدہ اور گھمبیر صورتحال سے پردہ اْٹھانا
*۔۔۔عوامی صحت اور سلامتی کا تحفظ
*۔۔۔کسی فرد یا ادارے کے بیان اور عمل سے عوام کو گمراہ ہونے سے بچانا
*۔۔۔جب تک قانونی طور پر آزادی نہ ہو یا مناسب وضاحت موجود نہ ہو میڈیا اس وقت تک جنسی حملوں کے شکار افراد کی شناخت ظاہر نہ کرے اور کسی اشارے سے بھی ان کا اظہار نہ کیا جائے۔
*۔۔۔میڈیا کو کسی مرد و زن کو اس کے مذہب، رنگ و نسل، ذات، ذہنی اور جسمانی مرض کی بنا پر تعصب اور تفریق کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
*۔۔۔صحافیوں کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات کے خفیہ ذرائع کا تحفظ کریں۔
علاوہ ازیں بلاگز، کالمز اور مضامین کیلیے دی ٹرتھ انٹرنیشنل کی پالیسی درجہ ذیل ہوگی:
*۔۔۔دی ٹرتھ انٹرنیشنل سے وابسطہ لکھاریوں کاسیاسی ونظریاتی طور پر مختلف نقطہ نظر ہوسکتا ہے،۔متصادم نظریات کی تحریروں کی اشاعت پر کوئی پابندی نہیں بلکہ ادارہ اس بات کو ممکن بنائے گا تمام مکاتب فکر کا نقطہ نظراور موقف واضح ہو ، لیکن تہذیب و شائستگی کا پاس رکھنا لازم ہوگا۔
*۔۔۔ادارہ اپنی پالیسی یا مزاج سے متصادم مواد کو اشاعت سے روکنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
*۔۔۔دی ٹرتھ انٹرنیشنل دنیا بھر میں جاری جنگ، پروپیگنڈوں اور تحاریک سے متعلق منفرد مگر حقیقی پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور سامنے لانے کو پذیرائی بخشے گا۔
*۔۔۔ دی ٹرتھ انٹرنیشنل تمام نظریات، فکر، فقہ، تحریک یا جماعت اور قیادت کی حمایت و تنقید میں لکھی گئی ایسی تمام تحاریر کو شائع کرے گا جن میں تنقید و حمایت اوراختلاف کے آداب ملحوظ رکھے گئے ہوں۔