خواہشیں تتلیوں کے پیچھے بھاگنے کی

تتلیوں کی خواہش تو سب کو ہی ہوتی ہے.. یاد ہے؟ وہ ہم جو بچپن میں تتلیاں پکڑنے ان کے پیچھے پیچھے دور تک بھاگتے تھے ۔اور ہم میں سے ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ جو بھی ہو بس اس پیاری تتلی کو پکڑ لوں ۔ تتلیوں کی خواہش میں ہم بہت آگے نکل جاتے تھے ۔ اکثر یہ ہوتا تھا کہ تتلی نہیں ملتی تھی اور اگر مل بھی جاتی تو ہم اپنے ہاتھوں سے اس کی خوبصورتی کو برباد کردیتے تھے۔ اکثر وہ مر بھی جاتی تھیں ۔۔۔ ہم بھاگ بھاگ کر تھک بھی جاتے اور تتلی بھی مر جاتی تھی، واپسی کا راستہ بھی ، سورج بھی غروب یعنی کہ شام کے اندھیرے لیکن اس سے زیادہ ڈر کہ گھر جا کر امی کیا کہیں گی وہ ماریں گی لیکن جب گھر پہنچ کر دیکھتے تو امی ہم سے زیادہ پریشان ہوتی تھیں اور آتے ہی گلے لگا لیتی تھیں ۔ آنے میں کتنی دیر کی میں انتظار کرتی رہی ۔ اب تمہیں دیکھ کر خوش ہو گئی ہوں ۔ اسی طرح ہم زندگی کی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہوئے رب کو بھول جاتے ہیں اور جب زندگی کی شام ہوتی ہے پھر پتہ چلتا ہے کہ رب کو کیا جواب دیں گے ۔۔۔ اتنا نہ سوچا کریں آپ رب العزت کی طرف جانے کی کوشش تو کریں وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔ 

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں