صاحب،جذباتی مت ہوں

وہ گئے وقتوں کی بات تھی جب ریڑھی والا منہ اندھیرے اُٹھ کر منڈی کا رخ کرتا تھا اور رات کالی کرنے کے بعد صبح لوٹ کر اسے فروخت کرتا تھا۔
زید نے ٹھٹھہ میں خربوزہ کی فصل لگائی چوتھے روزہ کو فصل تیار تھی مارکیٹ میں خربوزہ ۱۰۰ روپے کلو فروخت ہو رہاہے۔زید خوش ہے کہ ریٹ اچھا ہے قاعدے کے مطابق ۳۰ من خربوزے سے لدی سوزوکی گھارو پہنچا دی جہاں قطار میں درجنوں گاڑیاں دلّالوں کی منتظر ہیں اور وہ ادھ کھلے ہوٹلوں میں مزے سے بیٹھے چائے سُڑک رہے ہیں شام میں بروکر نے بے پروائی سے کہا ۸۰۰ روپے من ۔۔روتے پڑتے بات ۱۰۵۰ میں طے ہوئ یعنی سوا چھبیس روپے فی کلو،
کرائے سمیت ۲۸ روپے کلو۔
بروکر اپنے اپنے علاقوں میں پہنچے ریڑھی والوں کو فروخت ہوا ستّر سے اسّی روپے کلو یعنی بیالس روپے فی کلو منافع ۔۔
ایک ۳۰ من کی سوزوکی کا منافع ۵۰ ہزار
اب مارکیٹ کا چلن کچھ یوں ہے کہ آم، کیلا، خربوزہ ، امرود ودیگر مقامی پھل شہر کے ہر ہر علاقے کے بروکروں کے پاس اُترتے ہیں اور وہ یومیہ اپنے سو، ڈیڑھ سو ریڑھی بانوں کو فروٹ دیتا ہے جنکی اکثریت ان دلالوں کی مقروض ہوتی ہے اور وہ اسی سے فروٹ خریدنے کے پابند ہوتے ہیں
اب سنیں
ریڑھی والے نے پورا دن ریڑھی گھسیٹ کر کلو پہ کمایا ۲۰ روپے
آڑھتی نےایک جھٹکے میں کلو پر کمائے ۴۲ روپے
کسان نے ایک من کے ہزار روپے میں سے پانچ سو روپے دیے باگڑیوں کے خاندان کو جنہوں نے محنت کی باقی ۵۰۰ میں کھاد، بیج،جراثیم کُش ادویات اور ٹیوب ویل کے ڈیزل کے اخراجات کے بعد ایک ہاتھ آگے اور ایک پیچھے
تو صاحب بروکر انسان بنے گا تو کسان ریڑھی بان اور صارف سب کو فائدہ ہو گا
کما صرف دلّال رہا ہے برائے مہربانی اُسکی دلالی مت کریں
اور رحیم کی گائے والی کہانی ہر بار رنگ آمیزی کر کے مت سُنائیں اب ہر طرف ساہو کار ہیں

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں