عدالت، ریاست، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ

آج جو کچھ اسلام آباد میں ھوا وہ کراچی میں گذشتہ 25 سال سے ھورھا ھے. جب اونٹ کو خیمے میں گردن ڈالنے دیں گے تو خیمہ کہاں رھے گا لہذا سوال یہ نہیں کہ عدالت میں رینجرز کو کس نے طلب کیا بلکہ سوال یہ ھے کہ اسلام آباد میں رینجرز کو کس نے طلب کیا؟
ریاست کے اندر ریاست کی کہانی تو بہت پرانی ہے رھی سہی کسر عدالتوں نے پوری کردی ایک طرف تو قتل اور غداری کے مقدمات کا ملزم بیرون ملک فرار ھوگیا، آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی رک گئی، اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی پر اربوں روپے کی کرپشن کے کیس کا کیا بنا؟
کمانڈو مشرف نے اقتدار سنبھالنے سے قبل عندیہ دیا تھا کہ الطاف حسین ان کے نزدیک غدار وطن ھے لیکن اقتدار میں آتے  ھی الطاف حسین ان کو ایسے بہائے  کہ ھزاروں مقدمات راتوں رات ختم کردیئے گئے، سنگین مقدمات میں مطلوب مفرور شخص گورنر بنادیا گیا، ایم کیو ایم وفاق سے لیکرشہر تک ھر حکومت میں مشرف کا حصہ رھی اور اس دوران غداری تیل لینے چلی گئی.
مجھے نواز شریف سے کوئی ھمدردی نہیں بلاشبہ وہ ایک کرپٹ اور بد نیت شخص ھے. بھلا سود کی بحالی کیلئے عدالت میں اپیل کرنے والا کس طرح مجھے پسند ھوسکتا ھے. لیکن میری پیاری اسٹیبلشمنٹ کہ جس کے لیے ھم سب اپنے پیٹ کاٹتے ھیں اور اپنے دیدہ و دل فرش راہ کئے ھوتے ھیں ان سے یہ سوال تو بنتا ھے کہ میرٹ کیا ھے؟
کیا میرٹ یہی ہے کہ میرا چور زندہ باد اور تیرا چور مردہ باد؟آمدن سے زیادہ اثاثے کیا پرویز مشرف نے نہیں بنائے؟ پاکستان کو چاروں جانب سے دشمنی کی آگ میں جھونکنے والا کیا غدار نہیں کہلائے گا؟
پاکستان میں انصاف اور سویلین بالادستی کا خواب محض نعروں سے شرمندہ تعبیر نہیں ھوگا بلکہ اس کے لیے عدالتوں کو بلا تفریق انصاف کرنا ھوگا اور حکومت کو طرز حکمرانی بہتر بنانی ھوگی ورنہ عوام کا جمہوریت، عدالت اور اسٹیبلشمنٹ سب پر سے اعتماد ختم ھوجائے گا جس کا منطقی انجام ریاست کی ناکامی تصور ھوگا. خدارا اداروں کی ناکامی کو ریاست کی ناکامی تک جانے سے قبل اس کا سدباب کریں کہیں ایسا نہ ھو کہ بہت دیر ھوجائے.

شیئرکریں
mm
ڈاکٹر اسامہ شفیق جامعہ کراچی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ معاشرے کی نبض پر ہاتھ ہے اور حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور متوازی تجزیہ کرتے ہیں

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں