غامدی صاحب پر تنقید کرنے والے “شودر و تاجر”

غامدی صاحب پر دو طرح کے لوگ “علمی تنقید” کر رہے ھیں

ایک وە لوگ جو دینی تعلیم سے نابلد ھیں اور فقہ کی رو سے شودر معاف کیجئے گا میرا مطلب تھا “عامی” کہلاتے ھیں چونکہ انہیں 14 علوم نہیں آتے سو ان کے لیئے قران پاک کا ترجمہ یا دینی کتب پڑھنا ممنوع ھے
ان کے لیئے دینی تعلیم کا واحد ذریعہ جمعے کا خطبہ ھے یہ الگ بات کہ خطبہ عربی میں ہوتا ھے اور سر سے چھے فٹ اوپر ہو کر گزرتا ھے مگر امام کے ہر لفظ پر سر کو اقرار میں ہلانا بعض کے نزدیک واجب اور عند الجمہور مستحب ھے اگر امام صاحب کسی دوسرے مسلک کے عالم کا ذکر کریں خصوصا غامدی صاحب کا تو آنکھیں بند کر کے لاحول پڑھنا کار ثواب سمجھا جاتا ھے ،
مقدار ثواب کا دارومدار آواز کی بلندی و پستی سے لگایا جاتا ھے
ان لوگوں کی تنقید غامدی صاحب کی ڈاڑھی نہیں سے شروع ہو کر کیوں نہیں پر ختم ہو جاتی ھے اور اسی بنیاد پر غامدی صاحب پر فاسق فاجر کا فتوٰی لگانا ایمان کا عین تقاضا سمجھتے ھیں ، اور بعض اوقات وجد میں آ کر کفر کا فتوی لگانا موجب_ بلندیء درجات سمجھا جاتا ھے ،

دوسرا طبقہ تاجروں کا ھے لاحول ولا قوت معاف کیجئے گا میرا مطلب تھا مسلک کے سپاہی ، یہ لوگ شعور کی آنکھ (اگر اتفاقا کھل جائے ) اپنے مدرسے میں کھولتے ھیں نو دس برس لگا کر اس آنکھ کو بند کرنے کی کوشش کی جاتی ھے اگر نشانات مٹ جائیں تو انہیں درجہ اول کی ڈگری عطا کی جاتی ھے جس پر ان کا مسلک درج ہوتا ھے یہ ڈگری ملنے کے بعد کسی دوسرے مسلک کے عالم کی جانب نظر اٹھانا ان کے لیئے موجب گناہ ہوتا ھے ہاں اگر مسلک کی سربلندی کےلیئے دوسرے مسلک کا چندہ بکس یا قربانی کی کھالیں لے اڑیں تو ” وکیل مسلک” کا خطاب پاتے ھیں
الغرض ان کے نزدیک جو کچھ اکابرین فرما گئے ان سے شوشہ بھر پھرنا ایمان کو سلب کر لیتا ھے ، اپنے مسلک کے علما کے علاوہ ہر عالم پر خصوصا غامدی صاحب پر تبرا کرنا جنت میں حوروں کی تعداد میں اضافہ کرتا ھے

(ان دونوں طبقوں کی علمی تنقید دیکھ کر دل پکار اٹھتا ھے کہ غامدی ایک “فتنہ” ھے تو صاحبوں اپنے ایمان کی حفاظت کیجئے اور اس “فتنے” سے بچ کر رہیئے )

علماء کرام اور شیوخ قابل احترام ہستیاں ھیں میں ان کے پاوں کی جوتی کے برابر ہوں، اس تحریر میں وە لوگ ہدف ھیں جن کے رخ انور سے علامہ اقبال نے پردہ ہٹایا تھا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں