کیا یہ ہوتی ہے کرکٹ ؟

سری لنکا کیخلاف بمشکل کامیابی حاصل کر تو لی پر کیا اسی حکمت عملی سے انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کیخلاف میدان میں اتریں گے ؟ مجھ جیسا شخص جس نے بہت تھوڑی کرکٹ کھیلی ہے وہ بھی یہ جانتا ہے کہ اظہر علی کے پلے کوئی شاٹس ہیں ہی نہیں ۔ جب وہ شارٹ مار رہا ہو تو ایسا لگتا ہے کوئی آخری نمبروں والا کھلاڑی بلا گھما رہا ۔

عماد وسیم کی زلفوں کو پرے کر کے کوئی اسکے کان میں یہ بات ڈال دے کے جس طرح آرم بال پھینک پھینک کر تم آور پورا کرنے والی حجت پوری کر رہے ہو ایسا نہیں چلے گا ۔ اک تو اپنی بیٹنگ سدھارو دوجا اپنی گیند میں ورائٹی لاؤ ورنہ جگہ خالی کرو ۔

بابر اعظم کریز میں جام ہوا پڑا ہے ۔ یہ تکنیک عرب امارات میں تو کام آسکتی ہے پر دیگر جگہوں پر نہیں ۔ اس تکنیک سے تم کوہلی ۔ روٹ ۔ ولیمسن ۔ آملہ یا سمتھ جیسی کلاس کے آس پاس بھی نہیں پھٹک سکتے .

حفیظ کیلئے یقیناً زرداری والے پیر نے چلہ کاٹے ہیں جو وہ ٹیم میں موجود ہے . احمد شہزاد کو شروع میں تھوڑی فیم کیا ملی اس نےٹویٹر پر لڑکیاں پھسانے کا کام شروع کردیا . اس الو کے چرخہ کو کوئی سمجھائے کہ کوہلی جیسا رکھ رکھاؤ تب رکھے جب اسکے جوتے برابر بھی پہنچ پائے ۔ پاکستانی ٹیم کو ایک سچائی کے لیکچر کی سخت ترین ضرورت ہے ۔

فہیم اشرف ۔ فخر زمان ۔ حسن علی یقیناً روشن مستقبل رکھتے ہیں پر اگر گدھوں کی محفل میں رہے تو جلد ہی یہ بھی گدھے بن جائیں گے … بہتر ہے کہ اگلے میچ میں اظہر علی کو ڈراپ کر کے حفیظ سے اوپننگ کروائیں اور حارث سہیل کو مڈل آرڈر میں لائیں جبکہ فہیم اشرف کو پانچویں نمبر پر ویسے ہی استعمال کریں جیسے انگلینڈ بین سٹاکس کو کرتا ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں