اگر پوری بات نہ بتائی جاۓ تو…!!!

کئ طرح کی غلط فہمیاں پیدا ھونے کا امکان رہتا ھے۔ یہی معاملہ غامدی صاحب کے بیان کے ساتھ ھوا ھے جس میں انہوں نے ایک خاص تعلیمی نظام میں تعلیم پانے والے کسی طالب علم کے سوال کے جواب میں روزہ کو مشقت قرار دیتے ھوۓ دوران امتحان کلی طور پر روزہ سے رخصت دے دی۔ میرے فہم کے مطابق یہ جواب دراصل پورے جواب کا صرف ایک پہلو ھے لہذا ناقص ھے۔

میرے فہمِ قرآن و سنت کے مطابق…!!!

روزہ سے رخصت و التوا بنیادی طور پر دو ھی صورتوں میں جائز ھے (مطلوب بہرحال نہیں بلکہ مجبوراً قابل قبول ھے) اور وہ ھیں بیماری اور سفر کی ایسی کیفیات جن میں روزہ رکھنا جسمانی لحاظ سے انسان کے بس سے باہر ھو جاۓ یا پھر ایسا کرنے سے جان کو خطرات لاحق ھونے کا اندیشہ ھو۔ اسی پر قیاس کرتے ھوۓ بعض دیگر کیفیات کے بارے میں اجتہاد کیا جا سکتا ھے مثلا روزے کا طویل دورانیہ رکھنے والے خطے یا شدید گرمی والے خطے میں دوران محنت مشقت کوئی مسلمان روزہ رکھے تو کس کیفیت سے گزر سکتا ھے وغیرہ؟

کیا کسی انسان کے لئے روزہ رکھنا واقعی ناممکن ھو گیا ھے یا پھر ایسا کرنے سے اسے جان سے ھاتھ دھونا پڑ سکتے تو ایسی کیفیت کا اندازہ ھر انسان خود با آسانی لگا سکتا اور فیصلہ کر سکتا ھے۔ اور بالفرض اگر وہ سمجھتا ھے کہ واقعی اسے کسی ایسی صورتحال کا سامنا ھے تو کسی صاحب علم سے مشورہ کر سکتا ھے۔ اسی طرح کسی اچھے ڈاکٹر سے بھی طبی لحاظ سے راۓ لے کر کوئی حتمی فیصلہ کر سکتا ھے۔ تا ھم مکرر عرض ھے کہ روزہ چھوڑنے میں نیت فرار کی نہیں ھونی چاھئیے بلکہ اپنے آپ کو ایمانداری کے ساتھ صرف اور صرف مجبور و بے بس سمجھتے ھوۓ ایسا کرنا چاہئے اور مسلسل اللہ تعالی سے دعا کرنی چاھئیے کہ وہ اس کیفیت سے اسے نکال دے اور روزہ رکھنے کی ھمت و توفیق عطا فرماۓ۔ مسلسل احساس محرومی اور احساس ندامت اس کے دل و دماغ پر غالب رہنا چاھئیے۔ یہ سوچ کر اس کا دل دھل جانا چاھئے کہ یہ محرومی کسی بد اعمالی یا اللہ کی ناراضگی کے سبب تو نہیں؟

ٹھہریں کیونکہ ابھی جواب مکمل نہیں ھوا…!!!

جواب کا دوسرا پہلو یہ ھے کہ معاشرہ کی زمہ داری بنتی ھے کہ وہ ایسا ماحول اور فضاء پیدا کرے جس میں اسلامی عبادات پر عمل کرنا ھر مسلمان کے لئے آسان سے آسان تر ھو جاۓ۔ اسی طرح ریاست پر فرض عین ھے کہ وہ پورے سال کی تمام ادارہ جاتی سرگرمیوں کو اس طرح ترتیب دے کہ رمضان جیسے مقدس ترین مہینے میں مسلمانوں پر صرف اور صرف محبت و خشیت الہی طاری رھے اور وہ سہولت کے ساتھ یکسو ھو کر اللہ سے جڑ جائیں۔ روزہ و دیگر عبادات کا اھتمام کر سکیں۔ (اس حوالے سے عرب ملکوں کے تجربے سے کافی کچھ سیکھا جا سکتا ھے)

اور اگر معاشرہ میں اس زمہ داری کی طرف سے غفلت پائی  جائے اور ریاست بھی اپنی زمہ داری پوری نہ کر رھی ھو تو پھر مسلمانوں پر سب سے بڑا فرض یہ عائد ھوتا ھے کہ وہ معاشرے و ریاست کو ھر ممکن شرعی طریقے سے تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ ایسا کرتے ھوۓ بظاہر کامیابی ھو یا ناکامی’ اللہ تعالی کے ھاں سرخروئ یقینی ھے۔ تاھم نہ تو معاشرہ و ریاست اپنی اپنی زمہ داریاں پوری کر رھے ھوں اور نہ متاثرہ مسلمان اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی شعوری کوشش کریں تو پھر بدبختی اور دنیا و آخرت کے خساروں کو کون روک سکتا؟

لہذا…!!!

ان گزارشات کو مدنظر رکھتے ھوۓ کوئی بھی مسلمان دوران امتحان یا کسی بھی شدید صورتحال میں اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش کرتے ھوۓ فیصلہ کر سکتا ھے کہ اسے روزہ رکھنا چاھئیے یا مؤخر کر دینا چاھئیے؟

واللہ اعلم بالصواب

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں