آئنہ ان کو دکھایا تو۔۔

مطیع اللہ جان پہلے ڈان ٹی وی سے “اپنا گریبان” شو کررہے تھے، جس میں صحافی حضرات کی کرپشن کو دکھایا جاتا تھا۔ غالباً کُل سولہ پروگرام ہونے تھے مگر تیرہ پروگرام پہ اسکا اختتام کردیا گیا۔ وجہ یہ بنی کہ نشر ہونےوالے آخری شو کا موضوع تھا”سرکاری رہائش گاہ اور صحافی برادری”، شو ویسے تو آوٹ ڈور تھا مگرشوکے آخری سیگمنٹ میں رؤف کلاسرا کو اسٹوڈیو میں بُلایا گیا، جس میں انکی سرکاری ملازمہ بیوی کی رہائش اور انکے بھائی کی رہائش پہ سوالات اُٹھائے گئے، کلاسرا بھی تیاری کرکے آیا تھا، اور اس نے ڈان کے مالک حمید ہارون کے پول کھولنا شروع کئے جس میں وزیراعظم یوسف گیلانی سے سرکاری خزانے کے دس کروڑ روپے کوئی ادارہ قائم کرنے کے نام پہ اینٹھے تھے۔ ساتھ رؤف کلاسرا نے کہا کہ اُن کو بلائے نا اپنے شو میں، جس پہ مطیع صاحب نے احمقانہ طور پہ یہ کہہ دیا کہ ہاں اُنکو بھی بلائیں گے، بس اس پہ ڈان نے شو قبل از وقت بند کردیا، اور دو ریکارڈڈ پروگرام تک نہ دکھائے گئے۔ اس پورے قصے میں سب سے اہم کردار مبشر زیدی کا تھا، جو اُس زمانے میں بھی ڈان ٹی وی میں اہم عہدے پہ تھے، یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے مطیع اللہ کا کتنا ساتھ دیا یا اپنی نوکری بچائی۔ جب ٹوئٹر پہ ایک بار مطیع صاحب سے سوال کیا،”کیا اُس موقع پہ مبشر زیدی نے آپکا ساتھ دیا تھا؟” اُس ٹوئٹ میں مبشر زیدی کو بھی شامل کیا تھا، مطیع صاحب نے تو جواب نہیں دیا، مگر مبشر زیدی کے نتھے پھول گئے اور “گھٹیا ذہنیت”کا مجھے لقب دے ڈالا۔ مگر بلاک نہیں کیا۔ دوسری بار یہی سوال ایک اور جوابی ٹوئٹ میں مطیع صاحب سے کیا اس میں اضافہ یہ کیا”اگر جواب ہاں میں ہے تو دیجئے گا، جواب نہ ہے تو جواب دینے کی ضرورت نہیں” مطیع صاحب نے اس بار بھی جواب نہیں دیا۔ مگر چونکہ مطیع صاحب کا وہ ٹوئٹ سابق آئی بی اہلکار عامر مغل کا فارورڈڈ ٹوئٹ تھااسلئے جوابی ٹوئٹ میں عامر بھی شامل ہوگیا، چائے سے پیالی گرم کی مصداق عامر نے مجھے بلاک کردیا۔ فرصت نہیں ملی عامر کو دوسرے اکاؤنٹ سے یہ لکھنے کا ارادہ تھا، “تم تو چھمک چھلو کی طرح روٹھ گئی ہو، تمھارا اس سوال سے کوئی واسطہ نہیں ۔ ایسی ہی نازک مزاج ہو تو ٹوئٹر کی گلیوں میں نہ پھرا کرو، اپنی اماں کے گھر بیٹھی رہو۔”

ٹوئٹر پہ نازک مزاج صحافی حضرات: روؤف کلاسرا، ندیم ملک، اعجاز حیدر، مشرف زیدی، اسد منیر۔

جن میں قوت برداشت ہے: معید پیرزادہ، زاہد حسین، سید طلعت حسین، مبشر زیدی، فریحہ ادریس، نسیم زہرہ،رضا رومی

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں