یہ ہم کر کیا رہے ہیں۔۔؟؟

انعام میں لڑکی کی بائیک نکلی ۔
میزبان نے اُسکے شوہر کو بُلایا جو اوپر اپنے دو جُڑواں معذور بچوں کو سنبھال رہا تھا ۔
ابھی وہ آہی رہا تھا کہ وہ لڑکی میزبان کے پاس گئی اور کہا کہ
”مجھے آپ کے ساتھ بیٹھنا ہے بائیک پر “
میزبان نے جواب میں کہا
”اچھا میرے ساتھ بیٹھنا ہے آجائیں پھر“
اور وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں
شوہر کے سامنے
شوہر کو چھوڑ کر
ایک غیر مرد کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گئی۔
اور اُسکا شوہر جب دونوں معذور بچوں کو گود میں
پکڑے نیچے آیا
تو اُسے اس بات کی خوشی تھی کہ
وہ ایک نہیں دو دو بائیک جیتے ہیں ۔
اِس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ اُسکی بیوی کسی
اور کے ساتھ ایک ایسے شو میں بیٹھی
جو پاکستان کا اس وقت سب سے ذیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہے اور اُسکا نام بھی ”جیتو پاکستان“ ہے ۔
میں یہاں گناہ کی بات ہی نہیں کروں گا
میں شریعت کی با ت بھی نہیں کروں گا
بہت عام فہم سی بات کروں گا
بس یہ کہوں گا مرد کی غیرت کہاں تھی؟
اور عورت کی نظر میں اپنے شوہر کی اہمیت کہاں تھی ؟
بڑے ہی افسوس کی بات ہے
پوری دنیا کے سامنے ہم خود اُمتِ مسلمہ کا مذاق بناتے ہیں۔
اور دنیا کریں عزت، نادان ہم چاہتے بھی ہیں تو کیا چاہتے ہیں؟
دیکھنےمیں تو یہ بات شاید معمولی ہو
مگر سوچنے کے بعد بات کی گہرائی ہمیں واقعی مزید سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اور سوچے بغیر ، غورو فکر کئے بغیر اپنے افعال کے صحیح یا غلط ہونے کا خود پتا نہیں چلتا
اور دوسروں کو پتا بھی چل جائے تو وہ اصلاح کم اور ذلیل ذیادہ کرتے ہیں لہذا
زرا سوچئے !
سوچئے کہ جو کام آپ سب کے سامنے کر رہے ہیں کہیں وہ سب کے سامنے آپکو رُسوا تو نہیں کر رہا ؟
اللہ ہم سب کو ہدایت دے.
آمین

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں