پانامہ فیصلہ کیا ہے۔۔

آج کے فیصلے کو واجبی کاروائی سمجھنے والے حضرات متوجہ ہوں۔۔۔
۔
فیصلہ کیا ہے؟؟
۔
اس بات پر تو پانچوں جج متفق ہیں کہ وزیراعظم اپنی بےگناہی ثابت نہیں کر سکے، اور ان کی فیملی کے دلائل کافی نہیں ہیں۔
۔
دو جج یعنی بنچ کے سربراہ جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزارکہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم نا اہل ہیں، صادق اور امین نہیں رہے، انھیں ہٹا کر نااہل قرار دے دیا جائے،۔۔۔۔
۔
تین ججز نے کہا کہ ہم ابھی نا اہلی کا فیصلہ نہیں کر رہے سو کمیشن بنایا جائے، اور 60 دنوں میں رپورٹ پیش کی جائے۔ اس کے بعد فیصلہ کریں گے،
۔
تو حضرات گرامی۔۔۔۔ نواز شریف کو مہلت ملی ہے دو ماہ کی، دو ماہ بعد یہ ججز فیصلہ کریں گے کہ نا اہل ہیں یا نہیں۔ یعنی دو ججز فیصلہ دے چکے، تین نے 60 دن بعد دینا ہے۔
۔
ایک جج نے بھی نہیں کہا کہ وزیراعظم درست ہیں۔ سو 600 دن بعد تین جج میں سے ایک نے بھی رائے دے دی تو وزیراعظم نا اہل قرار پائیں گے۔
۔
ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ جن دو ججز نے وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا ہے، وہ بالترتیب اگلے چیف جسٹس ہوں گے۔ دوسری بات یہ کہ اب وزیر اعظم براہ راست ملوث ہوچکے ہیں کیس میں اور ایک ملزم کی حیثیت سے ہی شامل رہیں گے۔۔۔ اور دنیا کے پہلے وزیر اعظم ہونگے جو اپنے ماتحتوں (جے آئی ٹی) کو یقین دلائیں گے کہ وہ صادق اور امین ہیں…
ایک اہم نکتہ یہ کہ پر دو ہفتے بعد جے آئی ٹی اسی بنچ کو رپورٹ کرے گی…

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں