پاکستان کی اشتہاری صنعت

نئے آئیڈیاز نئے خیالات سے عاری ہے جیسے چیونگم چباتے رہو اور پھیکی ہوچکی ہو پھینکو تو کسی نہ کسی پر تو چپکے گی ۔ بڑی بڑی کمپنیز کے اشتہارات انتہائی درجے کے پھکڑ ہوتے ہیں ایک ہی طریقہ ایک ہی انداز موبی لنک کے اشتہار پر ٹیلی نار کا نام لگادو یا ڈالڈہ پر حبیب کا ایک جیسا ہی لگے گا ۔۔۔۔ بڑے بڑے چہرے بڑی بڑی لوکیشن شوٹ کرلو اور ایک ایک کروڑ دو دو کروڑ کا بجٹ دے دو ، اشتہار کامیاب بنانا ہے تو فہد مصطفیٰ کو لے لو فواد خان لے آؤ ۔۔۔ ماہرہ خان اور فواد کے تو اتنے ایڈ ایک ساتھ آچکے ہیں کہ لکس کے ایڈ کو دیکھ کر ایکوافینا کے ایڈ کا گمان ہوتا ہے ۔
اس صنعت میں ایک اچھا ایڈ آجائے تو سب کی زبان پر ہوتا ہے حالانکہ وہ ایک اوسط درجے کا ایڈ ہوتا ہے ۔
دراصل ان اشتہار کو بنانے والوں کا قصور کم ہوتا ہے اس کمپنی کے سیٹھ اور برانڈ مینیجر کی ٹانگ زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔ اب چاہے ٹانگ کالی ہو یا گوری اس اشتہار میں نظر آتی ہے ۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کی کمپنی یا مصنوعات کا نام پچیس دفعہ آئے کیونکہ ان کا پیسہ لگا ہوتا ہے ۔
ہر کمپنی رمضان میں بھی اشتہار بنواتی ہے اور اس میں سب سے جذباتی آئیڈیا یہ ہوتا ہے کہ ایک روپے ہم اس میں سے غریبوں کو دیں گے بھائی جان اپنی پروڈکٹ ہی سستی کردو تو لاکھوں لوگوں کا بھلا ہوجائے ، رمضان کا ایک آئیڈیا یہ ہوتا ہے کہ کسی غریب بچے کو اشتہار میں جوتے پہنادو یا کسی بوڑھے کو روڈ پار کروادو ، نہیں تو ٹیکسی ڈرائیور کو شربت پلا دو ۔۔۔ رنگ گورا کرنے والے تو ایسا کرتے ہیں کہ افریقی لڑکی کو کالا کردیں ۔۔۔ چائے کا حال یہ ہے کہ رشتے سسرال سے باہر ہی نہیں آتے ۔ ایک وائٹل چائے کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو کچھ الگ کرنا چاہتے ہیں ۔ انڈیا میں اشتہار کیوں فرق ہوتے ہیں اس لیے کہ وہ محبِ وطن بننے کی کوشش کرتے ہیں وطن پرستی کو اپنے آییڈیاز میں شامل رکھتے ہیں ۔۔۔

مگر ہمارے یہاں اگر کوئی آئیڈیا سمجھ میں نہیں آتا تو نچوالو پانچ لڑکیاں پانچ لڑکے جمع کرو انڈین میوزک پر دو ٹھمکے اور بیچ بیچ میں آپ کے منہ کے آگے پروڈکٹ ۔۔۔۔ اشتہار تیار ۔۔۔ بھائی صرف اپنا نہیں اپنے وطن کے لیے بھی کچھ کرلو کوئی اچھا پیغام دے دو کہتے ہیں کہ اشتہار عوام کی سوچ بدلتے ہیں مگر جو بنارہے ہیں ان کی سوچ ہی نہیں بدل رہی ۔۔۔ ہندو کی طرح بنیے ہی بن جاؤ جھوٹا جھوٹا وطن کا ہی نام لے لو ۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں