یہی ہے شیخِ حرم….

قطر کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر حضور اکرمﷺ کی ایک حدیث برملا یاد آتی ہے کہ “ویل اللعرب من شر قد اقترب!” ہلاکت کے عرب کے لیے اس شر کی وجہ جو قریب آن لگا ہے۔ حماس دنیا کے کسی بھی قانون کے تحت ایک فریڈم فائٹر جماعت ہے اور اخوان المسلمون جمہوریت کو ہمیشہ سے تسلیم کرتے آئے ہیں۔ ان کے مقابلے پر سعودی عرب چونکہ خود ڈکٹیٹر شپ کا گہوارہ رہا ہے اور انسانی حقوق کے حوالے سے عرب دنیا کی بدترین پابندیاں وہاں کے باشندوں پر عائد ہیں،اس لیے قطر کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ یہ سعودی ‘شریفین’ جن کو کہ فلسطین اور مصر کے لٹے پٹے لوگوں کا کہیں اور پناہ لینا بھی گوارا نہ ہو،”اسلامی فوج” کے نام پر تمام عرب و عجم سے امداد طلبی کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ “امت” کے نام پر پاکستان اور دیگر مسلم ممالک ان کو قائد و سالار تسلیم کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

خود امت کے لیے ان کی ”خدمات” تو ایک الگ موضوع ہے،خود اپنی ملک کو درپیش خطرات کے حوالے سے یہ بدو حضرات کس قدر قدر کاہل اور غافل ثابت ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یمن میں ہر طرح کے فری ہینڈ کے باوجود حوثی گوریلاؤں سے آج تیسرے سال میں بھی سعودی عرب نہیں نمٹ سکا، یمن کے ساتھ سرحد ہنوز غیر محفوظ ہے اور ان تین سالوں میں بھی پنجاب پولیس ٹائپ سعودی فوج کی اصلاح کے لیے کوئی اقدامات نظر نہیں آتے۔ پاکستان نے بھی کچھ فاصلہ رکھ کر شاید بہتر ہی کیا تھا، اس وقت اگرچہ بڑی لے دے ہوئی تھی اس ایشو پر لیکن حقیقت یہی ہے کہ اصل معاملہ حرمین کا نہیں شریفین کا ہے اور اصل مسئلہ بھی یہی شریفین ہیں ورنہ حرمین پر کس مسلمان کا اختلاف ہے۔

اقبالؒ نے شعر تو دین فروش ملاؤں کے لیے کہا تھا لیکن ‘شیخ’ کے ذیل میں شیوخ عرب کو لیا جائے تو بھی اسے پڑھا جا سکتا ہے

یہی ہے شیخِ حرم جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے

گلیمِ بوذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرا

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں