پی ایس ایل: کھلاڑیوں کی معطلی، سازش یا لالچ؟

اینٹی کرپشن کوڈ اور پلیئرز کی معطلی پاکستان سپرلیگ کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ کے تین کھلاڑیوں شرجیل خان، خالد لطیف اور محمد عرفان کو معطل کردیا گیا۔ ان پلئیرزکو شوکاز جاری کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شرجیل اور خالد نے بھارتی بکی ناصر جھن جھن والا سے ملاقاتیں کیں تھیں۔آئی سی سی کی نشاندہی اور پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی تصدیق کے بعد ان کھلاڑیوں کو معطل کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ انڈین سازش تھی یا پھر دولت کا لالچ؟ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت کوئی بھی ٹیم یا ریجن اپنی مینجمنٹ اور کوچنگ سٹاف میں ایسا فرد نہیں رکھیں گے جن کا ماضی کسی وجہ سے کرپشن کی زد میں آیا ہوا ہو۔ لیکن یہاں پر میرٹ کی دہجیاں روز اول سے اڑائی گئیں ہیں۔ اسلام آباد کا ہیڈ کوچ ڈین جونز ہے اور باؤلنگ کنسلٹنٹ وسیم اکرم ہے۔ یہ دونوں افراد ماضی میں میچ فکسنگ جیسے الزامات کی زد میں رہے ہیں، جسٹس قیوم کمیشن مقبول عام ہے جب ایسی مینجمنٹ ہوگی تو پھر اچھے کی امید رکھنا زیادتی متصور ہوگی۔ یہ امر بھی قابل سوچ ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں تین کھلاڑیوں کو معطل کیا گیا ہے جبکہ مزید پانچ واچ لسٹ میں شامل ہیں۔ اتنی بھاری بھرکم مینجمنٹ ہونے کے باوجود اتنا بڑا اسکینڈل سامنے آنا نوزائیدہ پی۔ایس۔ایل کے لئے قابل تشویش ہے۔ اس سے ہمارے برانڈ آف کرکٹ کی ساکھ تباہ ہوگی۔ لیکن پھندہ صرف کمزور کے گلے میں ہی ڈلتا ہے۔کھلاڑی کمزور تھے ان پر قانون تگڑا چلا اور وہ معطل ہوۓ،جبکہ محترم وزیراعظم الحمد اللہ کہہ کر اقرار کرتے ہیں لیکن تاریخ پرتاریخ ڈالی جارہی ہے۔ مجھے آج امام انقلاب مولانا عبیدا اللہ سندھی کی وہ بات یاد آرہی ہے کہ “خدا جب کسی قوم پر عذب نازل کرتا ہے تو اسکا سیاسی شعور بھی چھین لیتا ہے”۔ آج میرٹ کی بات ہورہی ہے لیکن وزیراعظم کے متعلق سوال گناہ ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں