صدائیں ہیں اک ٹوٹتے تار کی یہ

وہ وہیل چیئر پر اداس سی بیٹھی تھیں، جب میں ان سے ملنے گیا۔ باہر بارش برس رہی تھی۔ میں تھوڑا سا زخم خوردہ تھا میرے پاس ماسوائے اس کے کوئی علاج نہیں تھا کہ میں اپنی اماں کی خدمت میں حاضری دیتا۔ اماں بہت کمزور دِکھ رہی تھیں۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، ناتواں بدن، چہرے پر جھریوں کا جھمگٹا سجا تھا۔

میں نے حاضر ہوتے ہی سلام عرض کیا اور عمرہ کی مبارکباد دی۔ اماں نے جواب دیتے ہوئے مجھے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اور اپنا موٹے عدسے ک چشمہ اتار کر دوپٹے کے پلو سے صاف کیا اور گویا ہوئیں: ستر کا ہو گیا ناں؟ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے عرض کیا: جی؟ تو اماں بولیں: پاکستان۔ میں نے جی ہاں کچھ دن اوپر ہوگئے۔ اماں نے کہا: زندگی کا پہلا اگست تھا جو غم ہلکا رہا کہ میں دیارِحرم میں تھی۔ وگرنہ تو اگست کے آتے ہی ساری تکالیف تازہ ہو جاتی ہیں اور ہماری قوم کی لا ابالی پن مزید زخم کو تازہ کرتا ہے۔

چودہ اگست والے دن جب ہم نے حرم پاک سے یہاں پاکستان حال احوال لینے فون کیا تو بات تک نہ ہو پائی، اتنا شور شرابہ کہ پورا شہر آوارہ لوگوں نے سر پے اٹھا رکھا تھا۔ بہو نے بتایا کہ قریب ایک جگہ میوزیکل کنسرٹ ہے آزادی کی خوشی میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں، تب اتنا غل غپاڑہ ہے۔ آزادی اس مقصد کے لیے تھی کہ بے پردگی کا راج ہو، ڈھول کی تھاپ پے بنت آدم کا بدن تھرکے، وہ ڈانس کرے، موسیقی کا راج ہو اور ابن آدم خوشی منائے؟ اللہ کہ نافرمانی کھلے عام ہو، آورہ لڑکے پوری پوری رات موٹر سائیکل دوڑاتے رہیں۔ جوان بچیاں چہروں کو سبز کر کے غیر محرموں کے ساتھ پارٹیوں میں جائیں۔

وطن عزیز پاکستان میں جشن آزادی ایسے منایا ہے لوگوں نے، اور تصور کر لیا کہ یہ خوشی ہے، خوشی کا موقع ہے۔ یہ تو اپنے بزرگوں کی قربانیاں بھول ہی گئے۔ جنہوں نے اپنا خون دے کر داستانیں رقم کیں۔ اور ملک خداداد حاصل کیا۔ اسپر تو صرف چودہ اگست کو نہیں پورا سال شکر بجا لانا چاہئے، اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کرنے چاہئیں۔جن لوگوں نے اس کی بنیادوں میں اپنا خون دیا ان کی درجات کی بلندی کے لیے ایصال ثواب کرنا چاہئے۔ جس مقصد کے لیے یہ ملک حاصل کیا اس کا اعادہ کرنا چاہئے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے کردار ادا کرنا چاہئے۔

اماں بولتی گئیں۔ اور میں سر جھکائے بیٹھا رہا۔ سر اٹھایا تو اماں کے آنسو بہہ رہے تھے۔ ایسی کیفیت تھی جیسے بہت تکلیف میں ہوں۔ اماں نے متحدہ ہندوستان اور آزاد پاکستان دونوں دیکھے ہیں۔ ان کی ذندگی دہلی سے شروع ہو کر فسادات کے انگاروں پر چلتے ہوئے درد و کرب کی دلدوز چیخوں سے آشنا ہو کر پاکستان پہنچی۔

اماں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: مجھے اچھے سے یاد ہے جب پاکستان آزاد ہوا تھا تو میرے والد نے خاندان والوں کے مشورے سے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ قتل و غارت شروع ہو چکی تھی۔ ہر لمحے خبر ملتی فلاں بستی، فلاں مسلمانوں کا محلہ سکھوں نے جلا کر بسم کر دیا۔ لوگ زندہ جل گئے۔ کبھی پتا چلتا کوئی قافلہ پاکستان جا رہا تھا لوٹ لیا، کبھی پتا چلتا مسلمان مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ہندو بلوائیوں نے سب کو مار دیا۔

یعنی ہر طرف قتل و غارتگری کی قیامت ٹوٹی تھی۔ ہندو سادھوؤں، سکھوں کے مسلح جھتے کلمہ گو مسلمان مرد عورتوں اور بچوں کے جان، مال، ناموس سے درندوں کی طرح سلوک کر رہی تھی۔ کتنے ہی لوگ تغ تیغ ہوئے؟ کتنے معصوم مارے گئے؟ کتنی عصمتیں لٹیں؟ تاریخ جواب دینے سے قاصر ہے۔ اس کا جواب صرف پاکستان کی بنیادوں میں شامل لہو دے سکتا ہے۔

ہر طرف خوف و ہراس کا بسیرا تھا۔ لوگوں کے ذہن خوف اور خطرے کے آہنی شکنجوں میں جھکڑے تھے۔ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ بس اندھیرا ہوتے ہی خاندان ٹولیوں میں بٹ کر سہمی ہوئی عورتوں، ہراساں بچوں کو ساتھ لے کے ہجرت کرتے۔ اندھیرا پھیلتے ہی بیس بندوں پر مشتمل ہمارا قافلہ بھی اللہ کا نام لے کر روانہ ہوا۔ بچتے بچاتے کچھ ہی دور گئے تھے کہ آگے ایک جگہ آگ کا الاؤ نظر آیا، ہمارے پاس چار مرد رکے اور چار پانچ آگے چلے گئے کہ دیکھیں کوئی محفوظ راستہ مل جائے۔

وہ جب آگے گئے تو سکھوں نے دیکھ لیا اور ہاتھ میں پکڑے کرپانوں کو گھماتے ہوئے ان کی طرف بڑھے۔ بس پھر بھاگو کی آواز کے ساتھ ہی ہم لوگ ایک دوسرے راستے پر پلٹ گئے تھے۔ ہمارے قافلے کے وہ مرد شہید کر دئے گئے تھے۔ ان میں میرے دو چاچا بھی شامل تھے۔ اماں زار و قطار رو رہی تھیں۔ پانی کا گھونٹ بھرا پھر گویا ہوئیں: ہمارے قافلے میں بچے بھی تھے جو بھوک پیاس سے ہمارے ہاتھوں میں جان دے گئے مگر ہم کچھ نہ کر پائے۔

چلتے ہوئے ایک مسلمانوں کی بستی میں پہنچے جو ایک پھاٹک کے قریب تھی۔ کچھ لوگ ایک ریل میں سوار ہو رہے تھے۔ ان کے ساتھ ہم عورتوں اور بچوں کو سوار کیا کہ آپ لوگ جائیں ہم دوسری ریل میں آئیں گے۔ ہم تو روانہ ہوگئے مگر ہندوؤں نے ریل کے چلتے ہی ان پر حملہ کر دیا تھا۔ اللہ جانے ان کا کیا ہوا۔ ہم پاکستان کی طرف بڑھنے لگے۔ ابا کی طبیعت بہت خراب ہو رہی تھی۔ میرا بھوک سے برا حال تھا۔ بچے تڑپ رہے تھے۔ ایک جگہ اسٹیشن پر سکھوں نے گاڑی کو روک لیا اور ریل گاڑی پر ہلہ بول دیا۔ ہم کچھ عورتوں کو ابا جی گاڑی کے دوسرے گیٹ سے نیچے اتار چکے تھے۔ پٹھڑیوں پر اترتے ہی ہم ریل کے نیچے گھس گئے۔ چیخوں سے دل پھٹا جارہا تھا۔ کافی دیر تک ابا نے ہمیں چھپائے رکھا بس قسمت تھی جو بچ گئے۔ جب سکھوں اور ہندوؤں کی آوازیں ختم ہوئیں تو ابا نے ریل میں چڑھ کے دیکھا تو بس صرف لاشیں ہی تھیں کہیں ایک دو لوگوں کی کراہنے کی آوازیں آتیں۔ میری ابا کی بہن بھی ان لوگوں میں شامل تھی۔ جو آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ ابا نے ان کا سر اٹھا کے گود میں رکھا تو انہوں نے کہا بھاگو، بھاگو، اور کہا پاکستان پہنچے تو اسے میرا سلام کہنا۔

ہم بھاگتے، دوڑتے، مرتے، بچتے، زخموں سے چور لاہور پہنچے تو سجدہِ شکر بجا لائے۔ اور آزاد سانس لیا۔ ہمارے بیس افراد کے قافلے سے صرف چار افراد بچے تھے۔ باقی اپنی جانیں پاکستان پر قربان کر چکے تھے۔ اماں کی آواز رندھ گئی تھی۔ میرے دل کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔ خود پر ترس آرہا تھا کہ ہم کیسے لوگ ہیں؟ اماں کے دل۔کا غبار ہلکا ہوا تو میں نے وقت کی قلت اور دوبارہ حاضر ہونے کے وعدے کے ساتھ اجازت چاہی اور بوجھل قدموں سے گھر آگیا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں