” آبشار میں بھیگتی ہوئی شام “

دو گھنٹے کے صبر آزما اور بظاہر سہل لیکن مشقت طلب سفر کے بعد بالآخر ہم صابری آبشار کے نزدیک پہنچ ہی گئے تھے۔ یہ ہمارا یہاں آنے کا پہلا موقع تھا۔ اس لیے وقتاً فوقتاً راستہ پوچھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ وائی فائی کام نہیں کر رہا تھا۔ اور موبائل پہ سگنل غائب تھے۔ سو عنکبوتی دنیا کی گرفت سے آزاد تھے۔ اور قدرت کی حقیقی دلفریبی میں کھو گئے تھے۔ ابھی پانچ سات کلو میٹر کا فاصلہ باقی تھا۔ ان پرپیچ پہاڑوں پر ایک کلو میڑ ایک منٹ میں طے کرنا دیوانے کا خواب تو ہو سکتا تھا ، حقیقیت کا عکس نہیں! وقت اتنی تیزی سے گزرنے لگا کہ رکتا ہوا محسوس ہوا۔ انتظار کی کوفت سے گھبرا کر میں نے کھڑکی کے شیشے پر سر ٹکا دیا۔

گاڑی مری سے کچھ فاصلے پہ خمدار راستوں پہ دوڑ رہی تھی۔ آسمان پہ آفتاب دن بھر کی تھکن کے بعد اب محوِ آرام ہونے کو تھا۔ مسلسل بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی نے شاید آج اسے زیادہ ہی تھکا دیا تھا۔ شام اپنی مہیب خاموشیوں کے ساتھ پھیل رہی تھی۔ موسم کچھ ایسا ہو رہا تھا کہ گاڑی کا اے سی چلاؤ تو ٹھنڈ لگے ، نہ چلاؤ تو گرمی سے چیخ اٹھو !

زمین پہ نگاہ کرو تو چہار سو ہریالی تھی۔

جہاں تک نظر جاتی تھی، پہاڑ تھے اور سبزہ تھا۔ سبز رنگ جیسے ان پہاڑوں پہ انڈیل دیا گیا ہو! یا شاید انہوں نے خود ہی سبزے کی چادر اوڑھ لی ہو! کہیں کہیں کھائیاں بھی تھیں۔ ان میں ذرا نیچے جھانکو تو ایسی دلربا کہ خود کود جانے کو جی چاہے۔ میں تو شاید برف کی کسی شہزادی کی طرح پگھل بھی جاتی مگر آبشار کے پانی کی گرم جوشی مجھے زندہ رکھے ہوئے تھی۔ ان پہاڑوں پہ برف نہیں تھی۔ برف ہو بھی کیسے سکتی تھی! یہ کوئی دسمبر یا جنوری کا مہینہ تو نہیں تھا۔ اگست کی جاتی گرمیاں تھیں۔ درختوں سے لدے پھدے یہ پہاڑ پھر بھی اپنی جانب دیکھنے اور دیکھتے رہنے پہ مجبور کر رہے تھے۔ ان کی ٹہنیاں جیسے دو سہلیاں مدتوں بعد گلے ملی ہوں اور دکھ سکھ بانٹ رہی ہوں!

انہی دل موہ لینے والے نظاروں میں کھوئی تھی کہ ایک زوردار جھٹکے سے گاڑی رک گئی۔ دھیان پلٹ آیا۔ سماعتیں متوجہ ہوئیں۔ نظروں نے بےچین ہو کر اردگرد کا طواف کیا۔ پانی! پانی کے جھرنے میرے سامنے تھے۔ میں ان کی آواز سن سکتی تھی۔ میں اسے روانی سے بہتے دیکھ سکتی تھی۔ اس احساس نے چہرے پہ دھنک کے سارے رنگ بکھیر دیے۔
بےتاب ہو کر میں نے اپنے بند جوتے اتارے اور ایک کھلی چپل پہن کر پانی میں بھاگی۔ منظر اس قدر خوبصورت تھا کہ مجھے بارہا رکنا پڑا۔ پہاڑوں کے درمیان بادلوں کے اوپر سبزے کے دامن میں منظر کچھ ادھورا سا لگا۔ جی چاہا اور بےحد چاہا کہ اس دلفریب نظارے کو بھرپور بنانے کے لیے فلک سے بھی پانی برس پڑے۔ چشمِ تصور نے پرواز بھری۔ سورج ذرا چھپ گیا۔ آسمان گہرا ہوا۔ بادل نزدیک آئے۔ گھٹاؤں نے ڈھانپ لیا۔ ہوا ہولے ہولے سے میرے گالوں کا بوسہ لینے لگی۔ اور پھر ٹپ۔۔ٹپ۔۔ٹپ! کیا یہ واقعی بارش ہونے لگی تھی؟ تخیل اڑن چھو ہو گیا۔ پانی کی پھوار میں دیکھا تو سورج مسکرا رہا تھا۔ یہ تو آبشار نے میرے استقبال کو پانی بھیجا تھا۔ دل باغ باغ ہوگیا۔

دور سے پانی کا ایک ریلا زبردست قوت سے نیچے گر رہا تھا۔ اس کی بلندی تک دیکھنے کی کوشش میں میری گردن پوری اوپر اٹھ گئی۔ لیکن اس کا تو کہیں سرا نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔ معلوم ہوا یہ ایک نزدیکی پہاڑ کے دامن سے نکلتی ہے۔ اب وہاں تک چڑھائی کرنا فی الحال میرے بس میں نہیں تھا۔ سو گرتی ہوئی دھاروں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ خوش قسمتی سے اس وقت اردگرد ہمارے سوا کوئی بندہ بشر نہ تھا۔ سو ہر فکر سے بےنیاز ہو کر میں پانی میں داخل ہوگئی۔ ایک لمحے کے لیے مجھے لگا میرے پاؤں، گھٹنے جم گئے ہوں۔ ٹھنڈ کی ایک لہر سی جسم میں دوڑ گئی۔ پانی کے چھپاکے اڑاتی میں اس قدر نزدیک ہوگئی کہ ہاتھ بڑھا کر مچلتی ہوئی بوندوں کا بوسہ لے سکتی تھی۔ میں نے ہاتھوں کا پیالہ بنایا اور اس کٹورے کو بھرنے کے لیے مزید آگے ہوئی۔ یخ بستہ قطروں کی بوچھاڑ ہوئی اور میں لڑکھڑا گئی۔ سنبھلنے کی کوشش کی مگر پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ مزاحمت ناکام رہی۔ ایک جھٹکے کے ساتھ میں گر پڑی۔ میں یوں پتھروں پہ ہاتھ جمائے بیٹھی تھی کہ اگر میں نے انہیں چھوڑ دیا تو پانی مجھے بہا لے جائے گا۔ اسی اثناء میں اس شرارتی جھرنے نے میرے ساتھ نرالا کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ میں اٹھنا چاہتی تھی اور یہ مجھے ایک سنگدل محبوب کی طرح بیٹھنے پہ مجبور کر رہا تھا۔ میں تقریباً پوری بھیگ چکی تھی۔ سچ پوچھیں تو مجھے اس وقت خود سے زیادہ اپنے موبائل کی فکر تھی۔ ہم ٹھہرے ٹیکنالوجی کے غلام! خود بےشک چوٹ لگ جائے، موبائل کی سکرین پہ خراش بھی نہ آئے! اور حیرت کی بات ہے کہ واقعی ایک پتھر سے ٹکرا کر میرا گھٹنا زخمی ہوگیا اور اچھا خاصا نیل پڑ گیا جس کے آثار ابھی بھی باقی ہیں لیکن پانی میں متعدد ہچکولے کھانے کے باوجود موبائل ایک بھی رگڑ سے محفوظ رہا۔ بات ترجیحات کی ہوتی ہے شاید!

آخر سات آٹھ منٹ بعد قدرت کو مجھ پہ ترس آ ہی گیا۔ پانی نے مجھے کھڑے ہونے میں مدد دی۔ اب میں اس حسین منظر کو کیمرے کی آنکھ میں سمو لینا چاہتی تھی۔ جو حالت میری ہو رہی تھی، اس میں سیلفی لینا تو شاید کیمرے کو شرمندہ کرنے والی بات تھی۔ آپ تصور کر رہے ہیں نا! پانی کی گونج دار لہریں! دائیں بائیں، اوپر نیچے، آگے پیچھے ہر سمت پانی ہی پانی! اچھلتا ہوا! مچلتا ہوا! شوخی سے بل کھاتا ہوا! مستی میں اکڑتا ہوا! اور ان میں ایک گھبرائی ہوئی لیکن پرجوش سی دوشیزہ جس کی آنکھوں سے  بھی شاید پانی بہنے لگا تھا۔ اب خدا جانے یہ بےوقت کی بارش کیسی تھی! کڑچ کڑچ کی آواز تو اس شور میں دب گئی لیکن کیمرے نے منہ زور پانی کو قابو کر لیا۔ اب آنکھیں جب چاہتیں، اس مصنوعی خوبصورتی سے سیراب ہو سکتی تھیں۔ ایک ویڈیو بھی بنا لی گئی۔ پانی کی آواز بھی محفوظ ہو گئی۔ پانی کی ایسی زوردار آواز بھلا کہاں سننے کو ملتی ہے!

بنانے والے نے تو اس مقام کو خوبصورت بنایا ہی تھا، رہنے والوں نے بھی اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے تھے۔ پانی تقریباً ایک کلو میڑ پہ محیط تھا۔ یہاں مناسب فاصلے پہ پتھر لگا کر پانی کے گزرنے کا راستہ بنایا گیا تھا۔ اونچائی آہستہ آہستہ گھٹتی جاتی تھی۔ اس طاقتور ریلے سے یہ نچلی سطح آ گئی تھی جہاں پانی صرف پاؤں کو چھوتا ہوا گزر رہا تھا۔ درمیان میں کئی پانی کی چھوٹی چھوٹی دھاریں تھیں۔ ہر مقام پہ وقفے وقفے سے کرسیاں اور میز لگائے گئے تھے۔ کئی جگہوں پہ تو چارپائیاں بھی بچھی تھیں۔ قریب ہی پکوڑے سموسے بک رہے تھے۔ چپیس بیچنے والے یہاں بھی اپنے کام میں مصروف تھے۔ وہاں سے ہلکی پھلکی چیزیں لیں۔ کرسیوں پہ یوں بیٹھنا کہ ٹانگیں ٹھنڈے پانی میں اور گرما گرم چائے کی پیالیاں منہ میں شاید طبی لحاظ سے نقصان دہ ہو سکتا تھا مگر وہاں پروا کسے تھی! یہ سب تو چائے پینے لگے۔ میں موقع پا کر سہج سہج کر چلتی ہوئی پانی کی دوسری دھار کے پاس جا پہنچی۔ اس بار میں نے دھیان رکھا کہ پانی اتنا تیز نہ ہو کہ مجھ سے زبردستی کرنے لگے! چپل اتار کر ننگے پاؤں چلنا چاہا تو حقیقتاً دن میں تارے نظر آ گئے۔ ہوا یوں کہ پانی پتھروں پہ بہہ رہا تھا۔ اور میں میدانی علاقے کی باسی ، ان پتھریلے راستوں کی عادی کہاں! بدحواسی سے چپل ڈھونڈی اور راہِ عافیت پائی۔

اسی چیختے ہوئے سناٹے میں دن ڈھل گیا۔ رات اترنے لگی۔ اب مجھے یہاں سے جانا تھا۔ یہ مختصر سے لمحے مجھے زندگی کی ایک خوبصورت یاد دے گئے تھے۔ میں نے دل کا ایک حصہ وہیں چھوڑا اور گاڑی کی سیٹ سنبھال لی۔ گاڑی واپسی کی راہوں پہ گامزن ہوئی اور میرے دل کا وہ ٹکڑا مجھے پکارتا رہ گیا۔ وہ وہیں کہیں آبشار میں بھیگتی ہوئی شام میں کھو گیا تھا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں