“اڑن کھٹولے کی سیر”

پتریاٹہ (مری) کی سب سے بڑی دلچسپی کم از کم میرے لیے تو چیئر لفٹ ہی ہے۔ کبھی کبھی ہم اپنی روزمرہ زندگی سے اکتانے لگتے ہیں۔ ایک عجیب سی اداسی طبیعت پر چھا جاتی ہے۔ دل بلا سبب بیٹھ جاتا ہے۔ ایسے میں خیال آتا ہے کہ ذرا ایک مرتبہ اس ہوائی کرسی پہ بیٹھ کر مناظرِ فطرت سے لطف اندوز ہوا جائے اور خود کو تازہ دم کیا جائے۔ آپ بھی تھکے تھکے سے لگتے ہیں؟ آئیں میرے ساتھ اس اڑن کھٹولے پہ ایک چکر تو لگائیں۔۔۔ ہم یوں گئے اور یوں آئے!

آپ کو معلوم ہے نا، ہفتہ اتوار کو تفریحی مقامات پر معمول سے زیادہ ہجوم ہوتا ہے۔ اس لیے ہم ہفتے کے درمیانی دنوں کا پروگرام رکھتے ہیں۔ کیا کہا؟ آج جمعہ ہے! بہترین! یہ عموماً ایک مصروف دن سمجھا جاتا ہے۔ تو آج ہی چلتے ہیں۔ آپ موسم دیکھ رہے ہیں؟ آفتاب کی سنہری کرنیں بکھر رہی ہیں۔ البتہ کچھ دیر پہلے فضا میں خاصی خنکی تھی۔ ویسے آپس کی بات ہے، مری کا موسم محبوب سے بڑی مشابہت رکھتا ہے۔ دل کیا تو مہرباں ہوگیا۔ اور جی نہ چاہا تو بے رخی سے پلٹ گیا۔ اتنی تیزی سے تو جاوید ہاشمی پارٹیاں نہیں تبدیل کرتے جتنی جلدی یہاں موسم بدل جاتا ہے۔

ہم مری کی انہی بل کھاتی سڑکوں سے گزر رہے ہیں جس کے لیے یہ مشہور ہے۔ دونوں طرف پہاڑ ہیں۔ ان تنگ راستوں میں آڑی ترچھی سڑکوں پہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بھی ہر دم چوکس رہنا پڑتا ہے۔ میں نے چیئر لفٹ کی ٹکٹیں پہلے ہی لے لی تھیں۔ مجھے پتہ ہے، انتظار دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ میں بھلا آپ کو اس کوفت میں مبتلا کیوں کرتی؟

چلیں اب ہم قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم سے آگے دس بارہ لوگ ہیں۔ یہ دو درمیانی عمر کے بچوں کے ساتھ ان کے ماں باپ کھڑے ہیں۔ والدین شاید تھک چکے ہیں۔ مگر اپنے جگر گوشوں کو اٹھکھیلیاں کرتے دیکھ کر مطمئن ہیں۔ مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے وہ اپنی تھکاوٹ مسکراہٹ کے پردے میں چھپا رہے ہیں۔ آپ کو بھی ایسا ہی لگا کیا؟ لیکن بہرحال وہ بچوں کی خوشی میں خوش ہیں۔

ہم سے آگے ایک نوجوان جوڑا کھڑا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے یا پھر نہیں ہوئی ہے۔ مذاق برطرف، یہ خاصے پرجوش ہیں۔ چند قدم آگے چار لڑکوں کا ایک گروپ ہے۔ یہ قہقہے لگاتے پاپ کارن کھا رہے ہیں۔ ان میں ایک ہر چند لمحوں کے بعد اپنے قریبی ساتھی کو ایک ہاتھ جڑ دیتا ہے۔ یہ لڑکوں کی بےتکلفی کا عجب اظہار ہے شاید!

قطار اتنی آہستہ سرک رہی ہے کہ اس سے تیز تو پی ٹی سی ایل بی بی کا نیٹ چلتا ہے۔ بےزار ہو کر ہماری نظر گیٹ کی طرف اٹھ جاتی ہے۔ آنے والے کسی مہم جو کے انداز میں داخل ہو رہے ہیں اور جانے والے ایک کامیاب ایڈونچر کے بعد خوش باش پلٹ رہے ہیں۔ یہاں کھانے پینے کی کافی دکانیں ہیں۔ ایک دکان سے جوس لے لیتے ہیں۔ کوئی بسکٹ یا چپس بھی لے لیں۔ ہم ازِ سرِ نو اِدھر اُدھر کا جائزہ لینے لگتے ہیں۔

اگر کفر خدا خدا کر کے ٹوٹ سکتا ہے تو ہماری باری کیوں نہیں آ سکتی؟ آ ہی گئی بالآخر! اچھا سنیں۔۔ دھیان سے بیٹھنا ہے۔ جھٹکا زوردار قسم کا لگ گیا تو کمپنی ذمہ دار نہیں ہوگی۔ دھپ کی آواز آئی اور ہم بیٹھ گئے۔ یہ ایک protector لگا ہے۔ پلیز اسے فورًا آگے کر لیں۔ اتنی بلندی سے میں گر گئی تو میری تو ہڈیاں بھی نہیں ملیں گی ڈھونڈنے والوں کو!

یہ چیئر لفٹ بہت آہستہ آہستہ چل رہی ہے۔ اسے تھوڑا تیز ہونا چاہیے تھا۔ اب سمجھی! یہ اس لیے آہستہ ہے تا کہ سیاح بغور دائیں بائیں دیکھتے جائیں۔ یہ میرے دائیں جانب پہاڑ ہیں۔ ہر پہاڑ کی اونچائی مختلف ہے۔ ہر سطح اگلی سے بلند ہوتی جاتی ہے۔ یوں جیسے پہاڑ زینہ بہ زینہ محوِ سفر ہیں اور آسمان کی بلندیوں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ کچھ پہاڑوں پہ سبزے کی تہیں بچھی ہیں۔ ایک سبز میں بھی ہزار رنگ ہیں۔ جبکہ دوسرے بہت سے درختوں پر صنوبر کے درخت اپنی بہاریں دکھا رہی ہیں۔ میں انہیں چھونا چاہتی ہوں۔ یہ پتے کتابوں میں رکھوں گی! مگر تین چار مرتبہ ہاتھ بڑھانے کے باوجود میرا ہاتھ ان تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ بھی کچھ انسانوں کی طرح قریب ہو کر بھی اتنے دور ہیں۔

آپ کے پاس موبائل ہے نا؟ ذرا ان بادلوں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ تو کیجیے جنہوں نے اتنی خاموشی سے ایک فوج کی طرح ہمیں گھیر لیا ہے۔

آج تک بادلوں کو آسمان کا سینہ ڈھانپتے دیکھا تھا۔ مگر اب تو

انہوں نے ہمیں ڈھانپ لیا ہے۔ شاید ہم سطځ سمندر سے بہت بلندی پر ہیں۔ روئی کے گالوں کی طرح نرم بادل میرے بال سہلا رہے ہیں۔ یہ بھربھرے بادل آپ کے گالوں کا بوسہ بھی تو لے رہے ہیں۔ موبائل چھوڑ ہی دیں۔ ان لمحوں کو قید کرنے کی بجائے ان میں جی لیتے ہیں۔ پھر یہ یاد بن کر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔ یونہی خیال آیا کہ اگر ابھی برف باری ہو رہی ہوتی تو برف سے کھیلنا کتنا دلچسپ ہوتا! بظاہر سرد لیکن توجہ پاتے ہی پل بھر میں موم ہو جانے والی برف! حساس لوگ بھی تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔ خود کو بہت سخت ظاہر کرتے ہیں لیکن اندر سے موم سے بھی نازک ہوتے ہیں۔

ابھی تو ہم ایک تار کے ذریعے فضا میں معلق تھے۔ اب یہ زمین کا ایک ٹکڑا نزدیک آ رہا ہے۔ میرے پاؤں اسے چھو سکتے ہیں۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ سمندر میں جزیرہ ہو! لیکن میں یہاں اتر نہیں سکتی۔ قدم جمائے تو اڑن کھٹولہ آگے نکل جائے گا اور شہزادی اس ویرانے میں قید ہو جائے گی۔

ابتدائی رفتار برقرار رکھے ہوئے یہ چیئر لفٹ اسی طرح دھیمے دھیمے چل رہی ہے۔ جتنا سفر ہوچکا اتنا ہی باقی ہے۔ اب آپ کی سمت سے جھانکتے ہیں۔ وہ پہاڑوں پر ایک مزار نظر آ رہا ہے۔ حق اللہ، حق ہو کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ قریب بھی چند گھر ہیں۔ اللہ! لوگ ان پہاڑوں پر کن مشقتوں سے رہتے ہوں گے! میں تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ ایک مسجد بھی ہے۔ سچ ہے، جہاں مسلمان وہاں نماز!

کچھ دور دو تین مقامی بچے کھڑے ہیں۔ یہ بچی کتنی خوبصورت ہے! سرخ و سپید گال، نیلی آنکھیں اور بھورے بال! لیکن اس سے کہیں بڑھ کر اس کے چہرے پر معصومیت کا عکس ہے جو اسے جاذبِ نظر بنا رہا ہے۔ اور اسے دیکھیے! اپنے قد سے لمبی چادر کی بکل مارے یہ ننھی پری حسینوں میں حسین تر ہے۔ یہ بچہ شاید خوب کھیل کود کر آ رہا ہے۔ تبھی اس کے بال گرد سے اٹے ہیں اور ہاتھ پر کہیں کہیں مٹی کے نشانات واضح ہیں۔ یہ ہمیں خاصی حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ شاید ان کے لیے ہم کوئی آسمان سے اترنے والی مخلوق ہیں۔ وہ جو چپس ہم نے لیے تھے، اس کا ایک پیکٹ ان کو دے دیں؟

ایک شخص ہاتھ ہلا رہا ہے۔ کیا یہ ہمیں رکنے کا اشارہ کر رہا ہے؟ قریب آنے پر اس کی آواز سنائی دینے لگی ہے۔ یہ تصویر بنوانے کی دعوت دے رہا ہے۔ لوگ بھی روزگار کا کیا کیا ذریعہ ڈھونڈ لیتے ہیں! سو روپے میں ایک تصویر! معاف کرو بھائی! اس سے اچھی سیلفی تو میں خود لے لوں گی۔ وہ مایوس نہیں ہوا۔ بلکہ اسی جوش وخروش سے ہمارے پیچھے آنے والوں کو آواز دینے لگا ہے۔ شاید وہ اس طرح کے رویے کا عادی ہے۔ لیجیے جناب! اس کے ساتھ ہی ہمارا اسٹیشن آ گیا۔ یہاں اترتے ہیں۔ کچھ دیر سستاتے ہیں اور پھر واپسی کا سامانِ سفر کرتے ہیں۔ اڑن کھٹولے کی سیر تو ختم ہوئی۔ شہرِ طلسمات آنکھوں سے غائب ہوا اور دل کے کسی کونے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آباد ہو گیا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں