قدرت کے خوبصورت تحفے

عرصہ دراز سے کراچی.میں فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہوں گاؤں خیبر پختونخواہ ہے ایک سر سبز و شاداب علاقے میں ہے. کچھ دن پہلے گاؤں آنا ہوا
کچھ حسین مناظر آپ سے شیئر کرتا ہوں، امید ہے آپ لطف لیں گے،

دریائے کنہار..

 

میں دریا کے کنارے ایک چٹان پر بیٹھا ہوں.. پاؤں دریا کے ٹھنڈے ترین پانی میں ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ برف کے بنے موزے پہن لیے ہوں…
ٹھنڈ کے ساتھ ایک راحت بھرے سکون کا احساس ہے..
ایسا سکون دریا کی گود، سبزے کی  چادر اوڑھے پہاڑوں کی اوٹ، ہرے بھرے ماحول، اور کھلے آسمان کے نیچے، یخ پانی میں ڈوبے پیروں سے ہی مل سکتا ہے.


گرمیوں کا موسم ہے.. ہر طرف ہریالی ہی ہریالی پھیلی ہوئی ہے.

کچھ کچھ دیر بعد دریا کی ایک لہر آکر اس چٹان سے ٹکراتی ہے جس پر میں بیٹھا ہوں ..
دریا کا دودھ نما پانی انتہائی پرسکون لگ رہا ہے.. اور اسکا رنگ سردیوں کی نسبت زیادہ نیلا نہیں ہے گرمیوں میں اسکا رنگ زرا مٹیالا ہوجاتا ہے.. دریا کی لہریں کبھی تیز تو کبھی آہستہ ہوجاتی ہیں. سردیوں کی بنسبت اس کا بہاو میرے دل کی یادوں کی طرح اور تیز ہوجاتا ہے…

یہ دریا بھی نجانے کتنے ہی لوگوں کا رازدار ہوگا. میری یادوں کی طرح کئ اور لوگوں کی یادوں کو یہ اپنے سینے  میں دفن کیے ہوئے ہوگا.
کبھی کبھی مجھے یہ دریا خوف ناک اور قاتل لگتا ہے کہ اس نے کتنے ہی انسانوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا ہوگا
اور کبھی کبھی یہ مجھے بے حد پیارا لگنے لگتا ہے جیسے اب لگ رہا ہے..
کیا یہ دریا بھی روتا ہنساتا قہقہے لگاتا ہوگا؟ جب کبھی اسکا بہاو تیز ہوتا ہو تو ہوسکتا ہے یہ رو رہا ہو. سردیوں میں جب یہ سست روی کے ساتھ بہتا ہو تو ہوسکتا ہے یہ ہنستا مسکراتا ہوں.

دریا اور بہتے پانی سے پیدا ہونے والی یہ موسیقی یہ آواز رس گھولتی میری سماعتوں سے ٹکراتی ہے تو دل کے بند دریچے، یادوں کے بند دروازے اور کھڑکیاں کھول پڑتی ہیں. یوں جیسے ہوا کا ایک تیز جھونکا بند دروازے کے کواڑ  کو کھول دیتا ہے.
کسی کی یاد کے ساتھ اس دریا کے کنارے بیٹھنا کتنا راحت بھرا لمحہ ہے.. پل پل، سانس سانس، دھڑکن دھڑکن یادوں کو محسوس کرتا اور بڑھاتا چلا جارہا ہے.
قدرت کی اس حسین تخلیق کو دیکھ کر میرے قلب میں بھی کسی کی یاد کے حسین پل  بیدار  ہوجاتے ہیں.

یہ بھت خوبصورت منظر ہے، کیمرے کی آنکھ تصورات کے ان حسین لمحوں کو قید تو نہیں کر سکتی ہاں اس خوبصورت حقیقی منظر کو ضرور قید کر لیا ہے..

 

اب چلتے ہیں ذرا آگے چھترپلین

لق دلق میدانوں کو لپیٹ سمیٹ کر دفعتاً میں اپنے گاوں کے حسین نظاروں کی وادی چھتر پلین کی چوٹی پر جا پہنچا.
پیروں کی جانب دیکھا تو مخملی گھاس کی قالین بچھی دیکھائی دی. سر اٹھایا تو اپنے چاروں اطراف سبز چادر اوڑھے پہاڑ دکھائی دیے.آسمان کی جانب نظر اٹھی تو نیلگوں وسعتوں کو دیکھا. سورج مغربی افق کے قریب سنہری بدلیوں کے باریک باریک دوپٹوں میں سے وادی کو گھور رہا تھا. دور چڑیا اپنے گھونسلے میں بیٹھے دیکھائی دی.


فضا میں مست کردینے والی خنکی پھیلی ہوئی تھی. ایک لمحہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں سندری نما تصاویر کی لگی نمائش کے جھرمٹ میں موجود ہوں. ہر جانب ہریالی ہی ہریالی دیکھ کر میرا بنجر دل بھی سر سبز و شاداب ہوگیا.
سنسان وادی سائیں سائیں کررہی تھی، انسان سے لیکر جانور، چرند سے لیکر پرند اور کیڑوں سے لیکر مکوڑوں تک کسی کی آواز نہ سنائی دے رہی تھی وادی پر مکمل سکوت چھایا ہوا تھا
اس سناٹے کے عالم میں اگر کوئی آواز تھی جو میری سماعتوں سے ٹکرا رہی تھی تو وہ میری پھولتی سانسوں کی آواز تھی.
اس سارے سکوت کے ماحول میں میرا دل سناٹے کے سمندر سے باہر آچکا تھا. قلب میں اس ساری فضاء نے ایک سرشاری پیدا کردی تھی. آنکھیں دیکھ رہی تھی اور دل مسرور ہوتے چلا جارہا تھا. ایسے وقت میں دل اور آنکھوں کا رابطہ بہت ہی گہرا اور مضبوط ہوچکا تھا. ہر سانس، دھڑکن، لمحہ اور پل ایک نئی زندگی کے ساتھ محسوس ہورہا تھا.گویا میں دلفریب وادی کے سوہنے سمندر میں تیر رہا تھا. ایسا کیونکر نہ ہوتا چونکہ میں قدرت کی سحر انگیز تخلیق کے دلربا منظر سے سیراب ہورہا تھا.
پیاسی آنکھیں اس منظر سے اپنی پیاس بجارہی تھی دل کو ایسے سکون میسر تھا جیسے برسوں سے کھوئی تلاش مکمل ہوئی ہو،

مبہوت و ساکن کھڑے میں مکمل سکوت میں قدرت کی اس مسحور کن وادی کی گود میں کھڑے ہوکر ان دلآویز مناظر کا نظارہ کرنا میرے لئے بے حد یادگار اور مسرت بھرا لمحہ تھا.

جّنت کے بدلے دل میں ترے گھر بنائیں گے
یہ یاد گار ہم سِر محشر بنائیں گے

پھر میں نے گہری سوچ میں بیٹھے خیال کے عیار اور فکر کے جاسوس چاروں سمت دوڑائے. اتنے میں شام نے آکر اندھیرے کی سپر بیچ میں رکھ دی اور میں ناقابل فراموش یادیں دل میں دفن کیے اس وادی سے رخصت ہوگیا…

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں